ہندو فسطائیت کے ماحول میں پلے بڑھے ایک مسلمان صحافی کی خود نوشت داستان/محمد علم اللہ

ہندو فسطائیت کے ماحول میں پلے بڑھے ایک مسلمان صحافی کی خود نوشت داستان
نام کتاب: City on Fire: A Boyhood in Aligarh
مصنف: زیاد منصور علی خان
ناشر: Harper Collins. India
صفحات: 297
تاریخ اشاعت: دسمبر 2023
قیمت: برطانیہ 19.99 پونڈ (ہندوستان: 599 روپئے)
ہندوستان کے ہندوتوا وزیراعظم نریندر مودی نے تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھالیا۔ مگر اس مرتبہ اپنے عہدے پر قائم رہنے کے لئے انہیں دوسری جماعتوں کا سہارا لینا پڑا ہے۔ ویسے یہ بات انتخابات سے پہلے ہی نظر آنی شروع ہوگئی تھی کہ ’اس بار چار سو پار‘ کا ان کا خواب پورا ہونا تو درکنار دوبارہ اقتدار میں آنا بھی مشکل ہوگا۔ ظاہر ہے کہ موصوف کو خفیہ ادارے یہ تمام معلومات فرہم کررہے ہوں گے یہی وجہ تھی کہ جیسے جیسے انتخاب نزدیک آرہا تھا ان کے ہیجان میں شدت آتی جارہی تھی اور خود اپنا ریکارڈ توڑتے ہوئے انہوں نے نام لے کر مسلمانوں کو اپنی ہرزہ سرائی کا نشانہ بنایا۔ مگر پھر بھی 543 نشستوں والے ایوان زیریں، لوک سبھا، میں ان کی جماعت، بی جے پی، محض 240 نشستوں پر کامیاب ہوپائی اور تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کا اپنا خواب پورا کرنے کے لئے انہیں دو علاقائی جماعتوں ، تیلگو ڈیسم پارٹی اور جنتا دل (یونائٹڈ) کی مدد لینی پڑی۔ وقتی سہولت کے لئے کی گئی یہ شادی کتنے دل چلتی ہے وقت ہی بتائے گا۔
انتخابات کے دوران زہریلی تقریروں کے بعد مودی نے اپنے آپ کو ایک متوازن ، اعتدال پسند اور رواداری والے شخص کے طور پر بھی پیش کرنے کی کوشش کی۔ مگریہ سچائی کس سے چھپی ہے کہ وہ ہندوستان کی تاریخ کے سب سے کم ظرف اور سب سے زیادہ بدلحاظ وزیراعظم ہیں۔ اپنے سابقہ دو ادوار میں انہوں نے ہندوستانی معاشرے اور سیاست کے منظرنامے کو جس طرح تباہ کیا ہے 1980 کی دہائی میں فوت ہوجانے والے خود ان کی اپنی جماعت کے ارکان بھی اگر دنیا میں واپس آجائیں تو وہ بھی ہندوستان کی اس تصویر کو پہچان نہیں پائیں گے۔
پھر بھی انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ مودی نے تو اس زہریلی فصل کی صرف آبیاری کی ہے اور اس میں کھاد ڈالا ہے جو 1947 کے بعد کانگریس نے لگائی تھی اور جس پر 1990 میں بی جے پی نے قبضہ جمانا شروع کردیا تھا۔
خبررساں ادارے رائٹرز اور وائس کے سابق صحافی زیاد منصور خان کا تعلق صوبہ اترپردیش کے مشہور تاریخی شہر علی گڑھ سے ہے جو ہندو مسلم فسادات کےلئے بدنام شہروں میں سے ایک ہے۔حالانکہ ان کی زیرنظرتبصرہ کتاب بابری مسجد کی شہادت کے بعد علی گڑھ میں بچپن سے لے کر نوجوانی تک ان کی یادداشتوں پر مبنی ہےجس میں علی گڑھ کے ماحول کے ساتھ ساتھ دہلی میں پھیلی ہوئی مسلم منافرت کا ذکر بھی ہے مگر فی الحقیقت یہ وہ تلخ حقائق ہیں جن کا سامنا ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو کرنا پڑرہا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ بچپن میں ہندوؤں کے طنز ، فقرے بازی اور علی گڑھ کے گھٹن بھرے ماحول سے انہیں تبلیغی جماعت میں پناہ ملی، جہاں ان کے بقول انہیں، ’اپنائیت، ملی تشخص اور مقصدیت کا احساس ہوا۔‘ (صفحہ 124 )
مسجد کے باہر کی فضا مسلمانوں کے خلاف نفرت سے آلودہ تھی جہاں: ’ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کو نا پسند اور ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے تھے، جس کی شدت سے جنگل میں بھڑکی ہوئی آگ کا تصور ابھرتا تھا۔ جب ہم جمعہ کی نماز کے لئے جاتے تو وہ اپنی دکانوں سے آوازیں لگاتے: ’’شاہ جمال کی اولاد تم نمازیں پاکستان جا کر کیوں نہیں پڑھتے‘‘ حد تو یہ تھی کہ علی گڑھ میں سیاست داں تک مسلمانوں سے کھل کر پاکستان چلے جانے کو کہہ چکے تھے۔‘ (صفحہ (13
یوں تو اسکول میں طالب علموں کے تعلقات ٹھیک ہی تھے مگر وہ آپس میں ’[…] مذہبی منافرت سے بھرپور لطیفوں کا تبادلہ کرنے اور اگلے فساد میں ایک دوسرے کے گھر پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دینے سے نہیں چوکتے تھے۔‘ [صفحہ[138
وہ لکھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارکر: ’میں، وہ لڑکا جس کا دین ہر چیز پر مقدم تھا، دنیا سے بچ کر مسجد میں پناہ لے رہا تھا۔ میرے والد سمیت جو کوئی بھی مجھ سے اختلاف کرتا تھامیری نظر میں گناہ گار اور ایک بڑے مقصد میں رکاوٹ تھا۔ وہ ایک خود غرض شخص تھا جو صرف اپنے بارے میں سوچتا تھا ،جسے ملت کا کوئی خیال نہ تھا۔ یہی تو وہ کمزور مسلمان ہیں جن کی وجہ سے ہم کمزور ہیں۔‘ (صفحہ (128
اپنے والد کی ناپسندیدگی اور مرضی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زیاد منصور زیادہ سے زیادہ وقت تبلیغی جماعت میں گزارنے اور وعظ دینے لگے۔ وہ لکھتے ہیں: ’پہلی مرتبہ جب میں مسجد کے ممبر پر کھڑا ہوا تو مجھے اپنے اندر طاقت کا وہ احساس پیدا ہوا جو اس دن سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ جو لوگ میرا وعظ سن رہے تھے مجھے ان کی نگاہوں میں اپنے لئے ایک عزت کا جذبہ نظر آرہا تھا۔ اسکول میں مجھے ایک پرتشدد مجرم سمجھا جاتا تھا جسے اس کی شناخت کی بنیاد پر الگ تھلگ کردیا گیا تھا۔ مگر یہاں مسجد میں مجھے قابل تقلید ماڈل کی شکل میں دیکھا جاتا تھا۔‘ (صفحہ (130
یہ ذہن میں رہے کہ تبلیغی جماعت کی کوئی باضابطہ رکنیت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی مسلمان اس میں کسی بھی وقت کسی کو درخواست دئے بغیر شامل ہوسکتا ہے اور بغیر نوٹس یا استعفیٰ دئے الگ ہوسکتا ہے۔ یہ ایک پر امن تنظیم ہے جس کا تمام تر زور مسلمانوں کو روحانی تربیت اور انہیں روزہ نماز کا پابند بنانے پر ہوتا ہے۔ اس میں پورا زور آخرت کو بہتر بنانے کے لئے ،اس دنیا میں کئے جانے والے اعمال کی اصلاح کرنا ہوتا ہے۔تبلیغی ارکان کے اپنے بیان کے مطابق وہ : ’یا تو آسمان کے اوپر کی باتیں کرتے ہیں یا زمین کے نیچے کی۔‘
مگر اس کے باوجود نوجوان زیاد اپنے اندر پنپتے ہوئے غصے کو قابو کرنے میں ناکام ہورہا تھا۔ آہستہ آہستہ ان میں شدت اور بغاوت پیدا ہوتی جارہی تھی ۔ اپنی مسلم شناخت کا مظاہرہ کرنے کے لئے انہوں نے ایک دن عیسائی اسکول کے اپنے عیسائی ہیڈ ٹیچر کو ’گڈ مارننگ‘ کے بجائے ’السلام علیکم‘ کہا۔ جواب میں ہیڈ ٹیچر فادر ڈینس ڈیسوزا نے زیاد کو سبق ، ’ایک ہاتھ سے ان کے بالوں سے کھینچ کر دوسرے ہاتھ سے ان کے چہرے پر طمانچوں کی بوچھار کر کے دیا، جب تک کہ میرا چہرہ لال نہیں ہوگیا اور انگلیوں کے نشان نہیں پڑ گئے۔‘ مگر اصلاح کے بجائے زیاد میں مزید شدت پیدا ہوگئی یہاں تک کہ ایک دن بھری کلاس میں انہوں نے اسامہ بن لادن کا دفاع کرڈالا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بھری کلاس میں اشتعال دلا کر اور ورغلا کر یہ بیان دلوانے کا کام ان کی ایک ٹیچر نے کیا تھا۔ (صفحہ (118
کتاب کا مطالعہ کرتے وقت قاری پر آزردگی، نا امیدی اور افسوس کی کیفیات آتی ہیں مگر جو اہم بات ہے ،وہ یہ ہے کہ کوئی بھی باضمیر اور حساس شخص یہ سوال پوچھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر یہ نوجوان اس وقت کسی غلط گروہ کے ہتھے چڑھ جاتا تو کیا ہوتا؟ الحمدللہ مختلف حکومتوں کی مکروہ حرکتوں اور جھوٹے الزامات کے باوجود بھی ہندوستان میں نہ ایسا کوئی گروہ پیدا ہوا ،نہ حکومتوں کی سازشیں کامیاب ہوپائیں۔
اسکول کے بعد زیاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ مگر یہ بدقسمتی ہے کہ اسلام کی صحیح سمجھ پیدا ہونے اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے کے بجائے نوجوان لبرل ازم کا شکار ہوگیا۔ علی گڑھ سے بی اے کرنے کے بعد وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ چلے گئے جہاں سے ماس کمیونکیشن میں ایم اے کرنے کے بعد انہیں خبررساں ادارے رائٹرز میں ملازمت مل گئی۔
دہلی میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہندو اکثریتی علاقے میں رہائش تلاش کرتے ہیں مگر انہیں اور ان کے دوستوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالآخر اپنے ہندو شریک کرائے دار کی فرضی مذہبیت کی وجہ سے رہائش مل جاتی ہے۔زیاد کے بقول اگر کوئی ان سے دہلی میں فرقہ وارانہ فساد کی صورت میں پیدا ہونے والی ممکنہ پریشانیوں کا ذکرکرتا تو وہ یہ جواب دیتے کہ دہلی میں فساد ممکن نہیں۔
مگر ایک روز جب وہ کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں تو ایک ہندو پڑوسی کا سامنا ہوجاتا ہے۔ دونوں کے درمیان دعا سلام ہوتی ہے مگر جیسے ہی ہندو پڑوسی کو زیا د کا نام معلوم ہوتا ہے : ’اس کی مسکراہٹ کی جگہ چہرے پر ناپسندیدگی اور نفرت کے آثارنمودار ہوجاتے ہیں۔‘ وہ پوچھتا ہے:’ کیا تم محمڈن [مسلمان] ہو؟‘ جواب اثبات میں ملنے پر وہ کہتا ہے: ’میرے دل سے تمہارا احترام چلا گیا۔ تمہارے نام کے علاوہ تم میں ہر بات ٹھیک ہے […] تم لوگ جہاں بھی جاتے ہو مسائل پیدا کرتے ہو […] ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے علاقے میں مسلمان آکر رہیں۔‘
یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا۔ زیاد کو ابھی مزید جھٹکے لگنے تھے۔ ایک روز ان کے والد کے بڑے بھائی جو بہت پہلے پاکستان ہجرت کرگئے تھے، کے ایک بیٹے کی نظر ان کی فیس بک وال پر پڑی۔ انہوں نے میسنجر پر زیاد کو فون کرلیا۔ زیاد ان سے بات کرنے کے لئے دفتر سے باہر چلے گئے۔ خاندان کی باتیں کرتے کرتے چچازاد اور تایا زاد بھائیوں کی بات چیت کچھ طویل ہوجاتی ہے۔ وہ واپس آتے ہیں تو ساتھی ازراہ مذاق پوچھتے ہیں کہ وہ کس لڑکی کے ساتھ محو گفتگو تھے۔ زیاد ان سے اصل بات بتادیتے ہیں۔ پاکستان میں عزیز وں کا سنتے ہی سب کے چہروں کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ ’اوہ پاکستان؟‘ سب ایک زبان ہوکر کہتے ہیں۔ یہ بتانے پر بھی کہ ان کا تایا زاد بھائی اب پاکستان میں نہیں جرمنی میں رہتا ہے ، ساتھیوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ظاہر ہے کہ اس تجربے سے گزرنے والے زیاد پہلے ہندوستانی مسلمان نہیں ہیں۔ یہ کہانی بہت سے مسلمانوں کی ہے ۔ 1971 کی ہندو پاک جنگ کے دوران معروف اردو ناول نگار قرۃالعین حیدر کو ، جو اس وقت کے مشہور انگریزی جریدے السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا سے وابسطہ تھیں، اپنے ساتھیوں کے ایسے ہی رویے کا مسلسل سامنا کرنا پڑ رہا تھا یہاں تک کہ جس دن پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالے مزید طنزیہ باتوں سے بچنے کے لئے وہ بغیر کچھ بتائے تین چار دن تک دفتر سے غائب رہیں۔
زیاد کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض نبھانے اور بدنام زمانہ شہری ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں ہونے والے پر امن اور تاریخی احتجاج کو کور کرنے کے لئے وہاں باربار جانا پڑ رہا تھا۔ مگر عام ہندو ہی نہیں بہت سے صحافیوں کے رویے سے وہ اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ ’وائس‘ سے مستعفی ہو کر اپنے آبائی وطن اور گھر علی گڑھ چلے آئے جس کا نتیجہ یہ کتاب ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ’بہت سے ہندوؤں کے ذہنوں میں، یہاں تک کہ ترقی پسند سوچ رکھنے والوں سمیت، مسلمانوں سے متعلق دو قسم کے تصورات موجود ہیں۔ ایک وہ جو بنیاد پرست ہیں، مرد وں کی برتری پر یقین رکھتے ہیں، ان کے سروں پر اِسکل کیپ ہوتی ہے، اپنے آپ کو اسلام کے لئے دھماکہ خیز مواد سے اڑادینے کے لئے بیتاب رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو کچھ مختلف مگر دلچسپ قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو بریانی کھاتے ہیں اور اردو شاعری کا ذوق رکھتے ہیں۔ علی گڑھ میں میرا تعلق پہلی قبیل سے تھا جبکہ دہلی میں ، میں اپنی شناخت بعد والی قبیل کے طور پر کرواتا تھا۔ اور بالآخر اپنے لبرل دوستوں میں اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کے لئے میں نے اپنے آپ کو اسی قبیل کے طور پیش کرنا شروع کردیا ۔‘ (صفحہ (250
کتاب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس عظیم ادارے کی مختصر تاریخ پر پورا باب شامل ہے، اگر جنگ آزادی میں اس ادارے کے کردار کے بارے میں مزید معلومات شامل کر لی جاتیں تو قارئین کو اس کے بارے میں مزید معلومات مل جاتیں۔ وہ رقم طراز ہیں: ’اس کے فارغین میں ہندوستان کے دو نائب صدور، کابینی وزرا، صوبوں کے دس وزرائے اعلیٰ، درجنوں مسلمان سیاست دان، سپریم کورٹ کے جج، صحافی، مصنفین، شعرا، اداکار اور مورخین شامل ہیں۔ یہ ہندوستان کا وہ واحد ادارہ ہے جس کے فارغین ہندوستان، بنگلہ دیش اور مالدیپ میں سربراہان مملکت بنے۔‘
اچھا ہوتا کہ ادارے اور علی گڑھ شہر کے ذکر میں حسرت موہانی کا تذکرہ بھی کرد یا جاتا جو اس عظیم ادارے کے نامور فرزند وں میں تھے اور جنہوں نے اسی شہر سے ’اردوئے معلیٰ‘ شائع کرکے اور برطانوی سامراج کے خلاف غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کرکے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ یہی معاملہ علی برادارن کا ہے جو اسی دارے کے فارغ تھے۔ پورے برصغیر پر اس ادارے کے اثر کی مثال میں انہیں یہ بھی بتانا چاہئے تھا کہ ایک ہی وقت یعنی 1967 میں اس کے دو فرزند ڈاکٹر ذاکر حسین اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ہندوستان اور پاکستان کے صدور تھے۔
مصنف نے ادارے میں اساتذہ کی بدعنوانی اور ان کے ہاتھوں طالب علموں کے استحصال کی افواہوں کا تذکرہ بھی کیا ہے جو ایسا تکلیف دہ الزام ہے جس کا اس کے پرانے طالب علم تصور بھی نہیں کرسکتے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تغیر زندگی کا لازمہ حصہ ہے۔ ممکن ہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی ملک میں کیا بلکہ پورے خطے میں کینسر کی طرح پھیلی ہوئی بے ایمانی اور بدعنوانی سے متاثر ہوگئی ہو۔ بہر حال ایک احساس جس کا اظہار مختلف اوقات میں اس کے خیرخواہوں کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اترپردیش اور بہار کے طالب علموں کی بڑی تعداد کی موجودگی اور اقربا پروری کی وجہ سے یہاں بہت سی برائیاں پیدا ہورہی ہیں جس سے اس کے ملی کردار،تعلیمی معیار اور اس کی خاص روایات اور تہذیب پر منفی اثر پڑرہا ہے۔
نئی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ادارے کی پہلی خاتون وائس چانسلر بن کر نئی تاریخ مرتب کی ہے۔ اگر وہ جامعہ ملیہ کے اقلیتی کردار کی بحالی کے بعد پروفیسر مشیرالحسن مرحوم کی متعارف کردہ داخلوں کی پالیسی کو علی گڑھ میں متعارف کرادیں تو یہ ملت اور ادارے دونوں کی بڑی خدمت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ اب اس کا انحصار ان پر ہے کہ وہ اپنا نام سر ضیاالدین احمد، بدرالدین طیب جی اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے ملت دوست اور مخلص وائس چانسلروں کی فہرست میں درج کرنا چاہتی ہیں جنہیں برسال برس کے بعد بھی عزت و احترام کے ساتھ یا د کیا جاتا ہے یا علی یاور جنگ اور ڈاکٹر طارق منصور جیسے لوگوں میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔
مصنف نے کتاب میں علی گڑھ شہر کی مختلف برادریوں، یہاں کے محلوں اور گلیوں کی تفصیلات اور تاریخ کا ذکربھی کیا ہے۔ مگر جامع مسجد کا ذکر کرتے وقت انہیں یہ بھی بتانا چاہئے تھا کہ 1857 کی جنگ آزادی میں اس کے امام مولانا عبدالجلیل نے اپنے 75 رفقا سمیت برطانوی سامراج کے خلاف مسلح جہاد میں شرکت کی تھی جس میں ان سمیت تمام پچھتر لوگ شہید ہوگئے تھے اور جو سب جامع مسجد میں دفن ہیں۔
زیاد رقم طراز ہیں کہ جب وہ اسکول ہی میں تھے تو ان میں صحافی بننے کا شوق پیدا ہوگیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کے تعلق سے دنیا کے تصورات کو بدل سکیں اور ان لوگوں کے بارے میں لکھ سکیں جن کے بارے میں کوئی نہیں لکھتا۔ (صفحہ (134 ۔
بلا شبہ زیاد منصور خان نے ملت کی بہترین ترجمانی کی ہے۔ زیاد منصور، غزالہ وہاب اور ضیاءالسلام سمیت، حال میں جس طرح ملت کے پڑھے لکھے طبقے نے ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اور بے باک کتابیں شائع کی ہیں اس کے نتیجے میں انشاءاللہ ملت کے بارے میں پھیلا ئے گئے غلط تصورات بھی دور ہوں گے۔زیاد منصور کی یہ کتاب ہر اس شخص کو لازماً پڑھنی چاہئے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات جاننا چاہتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply