غروب شہر کا وقت/محمد حسن معراج

نعیم، “اداس نسلیں” کا وہ کردار ہے جس کی آنکھوں سے بیسویں صدی کے پہلے پچاس سالوں کی کہانی، سینکڑوں ، ہزاروں لوگوں تک پہنچی۔ روشن آغا کے محل کی کشادہ راہداریوں سے ہولی بیک کے محاذ کی تنگ خندقوں تک، ہوم رول کے جلسے میں سروجنی نائیڈو کی گفتگو سے جلیانوالہ باغ میں مچھیرے کی خود کلامی تک اور باغیوں کے قافلے سے آزادی کے کاروان تک، نعیم کا سفر ہی وہ کہانی ہے جو اداس نسلیں کی بنیادی داستان ہے۔ لیکن نعیم کے کردار کا مآخذ کیا تھا۔

موٹر وے کے آس پاس، بالکسر انٹرچینج کی نشاندہی کے لئے لگائے گئے معلوماتی تختوں میں سے ایک پہ صوبیدار خداداد خان کا نام درج ہے ۔ شہر چکوال کے ڈب گاؤں میں پیدا ہونے والے خداداد خان ،جنگ عظیم اول میں وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی سپاہی تھے۔ جنگ ختم ہوئی، خداداد خان ریٹائر ہوئے، ملک آزاد ہوا اور عبداللہ حسین نے نعیم کے کردار کی بنیادیں اٹھانا شروع کی تو روشن پور کے قصبے سے چل کر ڈب گاؤں آ پہنچے اور تقریباً تین ماہ، خداداد خان کے مہمان رہے۔ مارسیلز کی دھن، 129 ڈیوک آف کناٹس بلوچی رجمنٹ اور مشین گن پہ گزرے فیصلہ کن لمحات کی تمام جزئیات، ان طویل نشستوں کی دین ہیں جو ڈب گائوں میں سپاہی اور لکھاری کے درمیان رہیں۔

خالد، “غروب شہر( کا وقت) ” کا وہ کردار ہے جس کی آنکھوں سے ایک اور پچاس برس کا قصہ ، لوگوں تک پہنچنا شروع ہوا ہے۔گورنمنٹ کالج کے تدریسی زوال سے ہائیکورٹ کے عدالتی انحطاط تک، گمنام بنگلوں میں مقید عوامی نمائندوں سے منقش ایوانوں میں فرستادہ افسران تک، ڈاکٹر نوریز احسن سے رشید پٹواری اور کموڈوی سے ٹائٹ پینٹ تک خالد کا یہ روزنامچہ ہی شہر کے غروب کا رنگ ہے۔ مگر، ان سب کے سوا ایک اور کردار بھی ہے جس کا نوحہ ، پس منظر میں ہلکے ہلکے ماتمی انداز میں بڑھتا ہے۔ کہنے کو یہ کردار ،شہر لاہور کی تمثیل ہے مگر پژمردگی کی یہ دھند، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے، بضد ہے کہ بات لاہور تک محدود نہیں، شائد اس لئے کہ لاہور خود بھی کسی حد بندی کا قائل نہیں رہا۔

سماج کے کئی گیانیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ یوں تو دنیا بھر میں طبقاتی تقسیم کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ، لیکن پاک سر زمین میں یہ تفریق، جس مہارت سے تخلیق ہوئی ہے، وہ تحقیق کا رزق ہے۔ بند دروازوں کے پیچھے، ہمارے بندوبست پہ مامور افراد، ہمارے مستقبل کی جو پیش بندی کر رہے ہیں، اس کا ادراک، بہت کم لوگوں کو ہو پاتا ہے، شائد اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ منصب دار سے لے کر سابق سپہ سالار تک، سچ بھی تب بولا جاتا ہے جب یہ سچ یا سچ بولنے والا اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ غروب شہر کا وقت، کئی ایسی کھڑکیاں کھولتا ہے جن سے ان بند کمروں میں جھانکنے کا موقع ملتا ہے۔

کہانی کی بنتر میں داستانوں کی گرہ تو دلآویز ہے ہی، واقعات کی رلی میں جو پارچے، زرخیز زمین کی رہائشی منصوبوں میں تبدیلی سے متعلق ہیں ، دلگیر ہیں۔ سانس لیتی زمین کی رگوں میں منجمد سیمنٹ اتار کر زیر زمین نایاب ہوتے پانی کا واقعہ ہو یا صدیوں پرانے درخت کاٹ کر تازہ ہوا کی قلت کا معاملہ، خدا جانے، ہمارے بڑوں نے لوبھ کا کونسا بیج بویا تھا کہ ہم ھل من مزید کے سوا کوئی اور فصل کاشت ہی نہیں کر پا رہے۔

لکھنا، اور یہاں لکھنا، بھاری بھرکم کام ہے۔ سیاسی وابستگیاں، نظریاتی رجحانات، مذہبی عقائد اور گروہی تعصبات کا جنگل اتنا گھنا ہے کہ چلنے والے کا پاؤں کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی دام میں آ ہی جاتا ہے اور وہ جم کاربٹ کے شکار کی مانند، نادیدہ پھندے میں الٹا لٹک کر نئی دنیا دیکھنے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔ جو بات ، اظہار کی معصوم خواہش سے شروع ہوتی ہے، وہ مذمتوں کے رجسٹر تک پہنچ جاتی ہے، سو ایسے میں کچھ لکھنا، خاص طور پہ ایک ایسا ناول جو ہمارے اردگرد کی دنیا ، دستاویز کرتا ہو، بہادری کا کام ہے۔ اسامہ صدیق کا شکریہ کہ انہوں نے یہ سب لکھ دیا تاکہ سند رہے اور بہ وقت ضرورت کام آئے۔ ہو سکتا ہے آنے والے وقتوں میں کوئی یہ سب بھی پڑھے اور جان لے کہ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو لکھنے پڑھنے والے تھے اور ” پراپرٹی ” کا کام نہیں کرتے تھے ۔

Advertisements
julia rana solicitors

بشکریہ فیسبک وال

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply