آپ کو معلوم ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنی قوت برداشت دی ہوئی ہے۔ انسان کے سامنے اس کے جوان بیٹے کا لاشہ پڑا ہوتا ہے تو وہ بے بسی سے سوچنے لگتا ہے کہ کاش اس وقت بیٹے← مزید پڑھیے
گاؤں کے لوگوں کو خوشی منانے کیلئے بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ کسی کے گھر بچہ ہوجائے تو سارے مرد و زن مل کر زچہ و بچہ دیکھنے چلے جاتے ہیں۔ بتاشے اور ٹانگری تو اب خواب ہوگئے ہیں کہ نئے← مزید پڑھیے
میں اس سے اتنی محبت کرتا ہوں جتنی ایک ماں اپنے بچے سے کرسکتی ہے۔ میں اس سے اتنا عشق کرتا ہوں کہ شاید چھٹکی کے عارف خٹک نے اپنی صائمہ سے بھی نہیں کیا ہوگا۔ کاش میں اس کو← مزید پڑھیے
ہمارا المیہ یہ ہے کہ دنیا میں مذہب اسلام میں نئی نئی تشریحات پاکستان، ہندوستان اور افغانستان میں کی گئیں ہیں،اس پر آج بھی اسلامی دنیا ہم پر خندہ زن ہے۔ اپنی ثقافت، قبائلی سوچ اور ذاتی نظریات کو جس← مزید پڑھیے
میرے ذہن میں آج بھی مولوی جبار گل کی باتیں نقش ہیں کہ ہمارے ہاں جہیز کو اس لئے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے،کہ لڑکے والے لڑکی کو شادی کے لئے نقد رقم ادا کرتے ہیں۔ اس رقم کا مطلب← مزید پڑھیے
جہاں دنیا میں انسان بہت ساری ازمائشوں سے نبردآزما ہیں، وہاں اس چھوٹی سی دنیا میں آج بھی ہمارے جیسے، تیسری دنیا کے زوال پذیر ممالک، ایک دوسرے سے نفرت، اناؤں میں گھری ہوئی مقید بے چین روحیں، ماضی پرستی،← مزید پڑھیے
بندہ شاعر ہو، مشاعروں کا شوقین ہو، ہر روز قریہ قریہ نگر نگر گھوم کر ہجوم دیکھ کر آپے سے باہر ہوجائے یہ اچھنبے کی بات ہرگز نہیں ہے کہ میری محبوب کی کمریا بائیس انچ کی ہے۔ فگر وہی← مزید پڑھیے
میری نانی کو اللہ جنت نصیب کرے۔ نئی نسل،نئی پود پر اُس نے ہمیشہ لعن و طعن کی۔ کہتی تھیں کہ آج کل کے سارے کے سارے لونڈے اتنے خبیث ہیں،کہ بزرگوں کے سامنے آکر کھڑے ہوجائیں گے شادی کی← مزید پڑھیے
“یہ محبت بڑی کتی شئے ہے۔ انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم کردیتی ہے۔ حد سے زیادہ عشق اور محبت کا انجام بہت دل شکن ہوتا ہے۔ میں چاہوں بھی تو پنکی کو نہیں بھول سکتا” اس← مزید پڑھیے
“کبھی آپ کے سامنے آپ کی اولاد کی کٹی پھٹی لاش سامنے پڑی دیکھی ہے؟” ایک غراتی ہوئی نسوانی آواز نے میرے پیر جکڑ لئے۔ مجھے اپنے دفتر سے نکل کر گھر جانا تھا۔ آج میرے چار سالہ اکلوتے بیٹے← مزید پڑھیے
دونوں میں بہت پیار تھا۔ دونوں چالیس کے پیٹے میں تھے۔ ان کی شادی کو پندرہ سال گزر گئے تھے۔کوئی اولاد نہ ہونے کے باوجود آج بھی ان کے بیچ ایسی محبت تھی،کہ دیکھنے والے رشک اور حسد سے جل← مزید پڑھیے
چھوٹے سے قد کا وہ جوان جو ہر وقت سر پر قراقلی ٹوپی رکھے ایک دوست کی طرح میرے ساتھ گاوں کے کھیتوں اور پہاڑوں میں سارا دن گھومتا تھا۔ رشتے میں ہم دونوں سگے چچا بھتیجے تھے مگر ایک← مزید پڑھیے
ہم نے ڈاکٹر کو غور سے دیکھا تو اس نے جلدی سے “نیکسٹ” کی ہانک لگائی اور ہم پرچی تھامے کبھی ڈاکٹر کو اور کبھی اس کی کمپاؤنڈرنی کو حیرت سے دیکھنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ ڈاکٹر← مزید پڑھیے
جب پورے پاکستان میں مکمل لاک ڈاؤن تھا۔ سڑکیں سنسان، بازاروں میں ہُو کا عالم تھا۔ حتی ٰ کراچی کی سنسان سڑکوں پر صبح کے وقت جاگنگ کرنے کے جرم میں گلشن اقبال پولیس نے پکڑ کر دفعہ 124 کے← مزید پڑھیے
میری ناسٹلجیا جو میری جنم بھومی ہے۔جہاں کے اُونچے نیچے پہاڑی راستوں پر گرتے پڑتے میں نے پہلا قدم رکھنا سیکھا۔ جہاں پہلا قدم لیتے ہی دادی ماں نے میرے پیروں کے پاس جلیبیاں رکھیں،تاکہ ساری عمر مٹھائی جیسی شیریں← مزید پڑھیے
لوگ تین ہزار ممبران کے گروپس کے ایڈمن ہوکر زمین پر پیر نہیں رکھتے۔ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی آکر وال پر لکھ دیتا ہے۔ “للہ ایڈمن صاحب ہماری پوسٹ پر نہیں آتے ،شاید ناراض ہیں”۔ کوئی خاتون ترنگ← مزید پڑھیے
وہ بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخانے لگیں۔ اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اندرونی طور پر شدید بے چینی کی شکار ہے۔ پارک میں کچھ بچے فٹ بال کیساتھ کھیل رہے تھے۔ یہ روز کا معمول← مزید پڑھیے
وہ سوٹڈ بوٹڈ خوبصورت نوجوان انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے پچاس ساٹھ بندوں کے سامنے پروجیکشن اسکرین کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔ “نشہ ہمشہ کمزور انسانوں کو فتح کرتا ہے،۔ مضبوط انسان نشہ آور جوئے سے ہمشہ دور بھاگتا← مزید پڑھیے
کسی فنکار کی تخلیق اس کی اولاد کی طرح ہوتی ہے۔ جب کسی فنکار سے اس کی تخلیق چھینی جاتی ہے تو اندازہ لگائیں کہ ایک ماں پر کیا گزرتی ہوگی۔ جب جیتے جی اس کی اولاد اس سے چِھن← مزید پڑھیے
زریاب بہت پریشان تھا۔ دو راتوں سے وہ بغیر نیند کے مسلسل جاگ رہا تھا۔ بدقسمتی سے وہ ماں سے بھی بات نہیں کر پارہا تھا کیونکہ اماں نے کھل کر اس کو خبردار کیا تھا “زریاب تم اتنے بڑے← مزید پڑھیے