پنکی۔۔عارف خٹک

“یہ محبت بڑی کتی شئے ہے۔ انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم کردیتی ہے۔ حد سے زیادہ عشق اور محبت کا انجام بہت دل شکن ہوتا ہے۔ میں چاہوں بھی تو  پنکی کو نہیں بھول سکتا” اس نے ٹوٹے لہجے میں اپنا درد بیان کرتے ہوئے سگریٹ کا دھواں میرے منہ پر پھینکا اور خلاؤں میں گھورنے لگا۔ اگر وہ میرا مریض نہیں ہوتا تو  اس حرکت پر میں اس کا تھوبڑا بگاڑ کر رکھ دیتا۔ مگر یہاں ایک “سیشن” کا میں کافی بڑا معاوضہ پیشگی لے چکا تھا۔ میں اس کا نفسیاتی معالج تھا۔ اس کی بیوی پنکی نے عدالت سے خلع لیکر کسی اور سے شادی کرلی تھی اور ابھی تک اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کو چھوڑ کر جاچکی ہے۔
“ہر تعلق خواہ وہ دوستی کا ہو یا محبت کا۔ واقعی تکلیف دیتا ہے جب تعلق ختم ہوجاتا ہے۔ دراصل تکلیف اس کے  چھوڑ کر جانے کی نہیں ہوتی،بلکہ ٹھکرائے جانے کا احساس ہمیں اداس کردیتا ہے۔ آپ کی یہ اداسی صرف چھ ماہ تک رہیگی۔ اس کے بعد سب ختم! پنکی کون تھی کیا تھی کیوں تھی پھر میں آپ سے اگر ذکر کرنا بھی چاہوں آپ کو اچھا نہیں لگے گا کیونکہ تب تک آپ کی ترجیحات بدل چکی ہوں گی”۔ میں نے سیشن کو سمیٹے ہوئے گویا اعلان کردیا کہ آپ کا وقت پورا ہوچکا ہے۔ وہ ناگواری سے اپنی جگہ سے اٹھا اور ناپسندیدگی سے میری طرف دیکھا گویا اس کو مجھ میں اور میری باتوں میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔
چھ ماہ گزرے ہوں گے۔ میں ایٹرئم مال کے فوڈ کورٹ میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا اور تماشا ء اہل کرم دیکھ رہا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ کافی سارے جوڑے فلم دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ وہ مجھے نظر آگیا۔اس کیساتھ ایک خوبصورت طرح دار لڑکی تھی۔ دونوں بات بات پر کھلکھلا رہے تھے۔ موصوف کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کے سامنے بوس و کنار شروع کردے۔ اس کی نظر مجھ پر پڑگئی۔ وہ جلدی سے میری طرف آگیا۔ گرمجوشی اور بے تکلفی سے میرے کاندھے پر ہاتھ مارا۔ “یار ڈاکٹر تم قسم خدا کی کیا شئے ہو؟۔ وہی ہوا جو آپ نے کہا تھا۔ مجھے افسوس ہورہا ہے کہ پنکی کیساتھ میں نے زندگی کے پانچ خوبصورت برس کیسے ضائع کئے۔ اب دیکھو فاریہ جیسی حسین لڑکی نے زندگی گلزار بنا دی ہے”۔ میں ہلکا سا مسکرایا۔ وہ مجھے ستائشی نظروں سے دیکھتا ہوا چلا گیا۔
میں نے اپنا بٹوہ نکالا۔ کھولا اور “پنکی” کی تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ دس برس گزر گئے مگر میں آج تک اس کو نہیں بھولا۔ روز کرب سے گزرتا ہوں جب وہ اپنے شوہر سے چھپ کر مجھ سے ملنے یہاں آتی تھی۔ پھر ہم دونوں نے شادی کرلی۔ وہ میری زندگی کی پہلی محبت تھی۔ مجھے اپنے اس کلائنٹ پر بھی غصہ نہیں آیا جو میرے دو بچوں کی ماں کو ورغلا کر لے گیا تھا۔ مجھے پنکی کی فکر ہونے لگی پتہ نہیں اس بار وہ کن غلط ہاتھوں میں جارہی ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *