منظور ہے؟۔۔عارف خٹک

میری ناسٹلجیا جو میری جنم بھومی ہے۔جہاں کے اُونچے نیچے پہاڑی راستوں پر گرتے پڑتے میں نے پہلا قدم رکھنا سیکھا۔ جہاں پہلا قدم لیتے ہی دادی ماں نے میرے پیروں کے پاس جلیبیاں رکھیں،تاکہ ساری عمر مٹھائی جیسی شیریں اور لذّتوں سے بھرپور زندگی گزارنا نصیب ہو مُجھے۔ جہاں امیری غریبی کا کوئی تصور نہیں تھا،کیونکہ سارے باسی ایک جیسے تھے۔کسی نہ کسی طور سب کو دو وقت کا کھانا مل ہی جاتا تھا۔ یہ الگ بات کہ کوئی لسّی اور پیاز کےساتھ کھانا پسند کرتا،تو کوئی لسی سے بنی ہوئی تُرش کڑھی کے ساتھ۔ جہاں اعتماد،بھروسے قائم رہتے۔اور اسی یقین کے سبب گھروں کی دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں۔کیونکہ نہ  چور نہ ہی چوری چکاری کا ڈر ہوتا۔میرے پسندیدہ مشاغل میں گرمیوں کی تپتی دوپہر میں اماں کا گھنٹوں انتظار کرنا ہوتا تھا۔جو پانی بھرنے صُبح سویرے گاؤں کی عورتوں کے ہمراہ چار کلومیٹر دور خشک برساتی ندی میں جاتی،اور پانچ گھنٹوں بعد سر پر دو اور پہلو میں ایک مٹکا پانی لاکر بے ترتیب سانسوں اور پسینے سے شرابُور چہرہ لئے مُجھے دیکھ کر اپنے ساتھ چمٹا لیتی۔ شاید میکسم گورکی نے سو سال پہلے میری ماں کو ہی اپنے ناول کا کردار بنایا تھا۔کیونکہ اُس کی ماں اور میری ماں میں کوئی فرق ہی نہیں تھا۔ مُجھے وہ انتظار بھی منظور تھا۔

میں آج بھی نہیں بُھولا ہوں وہ دن،جب گاؤں کے واحد پرائمری سکول میں زندگی کی پہلی چوری کرکے اپنے ہم جُماعت کا پراٹھا کھا لیاتھا۔ اور سکول ماسٹر رحیم داد صاحب نے مُجھے اتنا مارا،کہ چھڑی ٹُوٹ گئی،مگر میں نے کہہ کر نہیں دیا،کہ میں اس چوری پر شرمندہ ہوں۔ اس دن سکول کے سارے بچے کتنا ہنسے تھے مُجھ پر،اور میں زخموں سے چُور بدن کو ٹکور دیتا ہوا سوچ رہا تھا ،کہ پراٹھا کھانے کی کب سے خواہش تھی،مگر اماں روز یہ کہہ کر چُپ کروا دیتی ،کہ جس دن تیرے ابا کی تنخواہ آئے گی،اُس دن دو پراٹھے بنا کر کھلاؤں گی تُجھے، مگر مہینوں سے نہ تنخواہ آئی اور نہ ہی پراٹھا کھانا نصیب ہوا۔بالآخر ایک تین سال کا بچہ نفس سے کب تک لڑتا رہتا؟خود کو کیسے چوری سے روک سکتا تھا؟مُجھے وہ مار بھی منظور تھی۔
پھٹی قمیض اور پھٹی ہی شلوار پہنے گاؤں سے ملحقہ کائیوں میں گاڑی کا استعمال شدہ ٹائر ڈھلوان سے پھینکنا میرا ایک اور محبوب مشغلہ تھا۔ میں سب بچوں سے الگ اور خود کے ساتھ اکیلے کھیلتا تھا ۔کیونکہ میں ان کی طرح جارح مزاج نہیں تھا۔ بالآخر ایک دن ابا کی مُجھ پر نظر پڑ گئی، اور گاؤں ہمیشہ کے لئے ایک خواب بن کر رہ گیا۔ پانچ سال کے بچے نے تصور میں ایک الگ ماں تراش لی۔جو مضبوط تھی،اور ہر وقت اپنے سینے سے لپٹائے اُس سے پیار کرتی تھی۔ سکول، کالج سے لےکر یونیورسٹی تک اس تصوراتی شبیہہ نے شکلیں بدل بدل کر مُجھے اپنی آغوش میں سمیٹے رکھا۔ مجھے وہ بھی منظور تھا۔
پشاور سے ماسکو، ماسکو سے یورپ اور یورپ سے ہوتا ہوا کراچی تک میں نے یہ سفر دادی کی ان جلیبیوں کے لالچ میں کیا کہ شاید کہیں مٹھاس مل سکے۔ مُجھے میری شبیہہ مل جائے۔جس کو پانے کی آرزو میں،میں نے دنیا جہان کی خاک چھانی۔جو نہ تو مجھے جارج ڈکنز کے ناولوں میں مل سکی اور نہ  ہی چیخوف کی مُختصر کہانیوں میں اسے پاسکا۔ وقت گُزرتا رہا،میری تلاش وقت کے ساتھ ساتھ قدم سے قدم ملائے سفر کرتی رہی،اور بالآخر وہ مُجھے مل گئی۔
چالیس سال بعد میں دوبارہ اس پرائمری سکول کی کچی زمین پر اپنے اس محبوب کے ساتھ بیٹھ کر آپ سب چھوٹے بچوں کو بتانا چاہتا ہوں،کہ میں بھی تم جیسا ہوں۔ معصومیت سے بھرپور، تتلیوں کے پیچھے بھاگنے والا،مون سُون بارشوں میں برساتی نالے میں نہانے کے لئے بالکل تیار ہوں۔مگر شرط یہ ہے کہ اگر تم میرے ساتھ میرے محبوب کو بھی قبول کرو۔ میرا محبوب مجھے اتنا پیارا اور دل کے قریب ہے ،کہ اُس کے علاوہ مُجھے اور کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا۔ وہ جس کو میں اپنی شہہ رگ سے زیادہ قریب پاتا ہوں۔ وہ جس کے بغیر میں انسان کہلوانے کا بھی حقدار نہیں ہوں۔ ایسے محبوب کیلئے میں اپنا سب کچھ تم سب پر وار سکتا ہوں۔ میں آپ کو سگمنڈ، جان لاک، الفارابی، جان سٹیوارٹ مل اور غزالی کے فلسفے یہیں  اس کچی زمین پر بیٹھ کر پڑھا سکتا ہوں ۔اگر تم میرے محبوب کو میرے ساتھ رہنے دوگے۔ میں اپنا سارا علم اپنا سارا شعور آپ کو دوں گا۔بشرطیکہ میرے محبوب کو قبول کرو تو۔۔کیونکہ اُس کا بھی کوئی نہیں ہے۔وہ بھی میری طرح تنہا ہے،ٹُھکرایا ہوا ہے۔بلکہ وہ بھی آپ لوگوں کی طرح معصوم ہے۔جو ایک پراٹھے کیلئے چوری کرسکتا ہے اور ہنسی خوشی اس ایک خواہش کی خاطر خود کو سزا بھی دلوا سکتا ہے۔ مگر میری شرط وہی ہے کہ تم میرے محبوب کو قبول کروگے۔اور میں بدلے میں روشنیاں، چکاچوند اور اپنی جھوٹی زندگی پر لعنت بھیج کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے آپ کے ساتھ ان اُونچے نیچے رستوں پر بھاگنے کو تیار ہوں۔
تو بولو۔۔

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

منظور ہے؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply