عارف خٹک کی تحاریر
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

دیوی۔۔عارف خٹک

اس کو ہمارے فلیٹ میں آئے ہوئے ایک ماہ ہوگیا ہوگا۔ مجھے بھی لگ بھگ ایک ماہ ہوچکا تھا۔ دبئی کی  ایک پرانی بلڈنگ میں ہم مرد و عورتیں سب مشترکہ طور پر رہتے تھے۔ جہاں ایک کمرے میں عارضی←  مزید پڑھیے

بال سفید ہوگئے میرے ان کے بیچ۔۔عارف خٹک

رات کے آٹھ بج رہےتھے۔ دفتر سے آکر کمر سیدھی کی۔ تھوڑی دیر بعد جوگرز اور شارٹ پہن کر ورزش کیلئے اپنی بلڈنگ سے باہر نکلا، میرا جم میری بلڈنگ سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ سامنے بہت←  مزید پڑھیے

ہجوم ۔۔عارف خٹک

ترقی یافتہ شہروں کی زندگی بہت تیز ہے۔ اتنی تیز کہ میرے جیسا بندہ تھک جائے۔ ایک ہجوم ہے، جو بے سمت بھاگ رہا ہے اور آپ اس ہجوم کیساتھ بے سمت بھاگے جارہے ہیں۔←  مزید پڑھیے

چپلی کباب ان شارجہ۔۔عارف خٹک

ہمارا خیال تھا کہ مڈل ایسٹ میں آپ کو ہر قسم کے کھانے بآسانی دستیاب ہوں گے، مگر جن ذائقوں کے عادی ہم پاکستان میں ہیں، وہ یہاں ناپید ہیں۔ جو چٹوراپن اور زبان کی حساسیت ہمیں پاکستان میں ملتی←  مزید پڑھیے

چھالے۔۔عارف خٹک

پچھلے دو گھنٹوں سے وہ مسلسل مجھ سے لڑے جارہی تھی۔ ہم دونوں میاں بیوی پچھلے دو گھنٹوں سے پیدل چل رہے تھے۔ گرمی سے وہ بے حال ہورہی تھی۔ میرے پاس ٹیکسی کے پیسے نہیں تھے سو اسے،اس کی←  مزید پڑھیے

بھوک۔۔عارف خٹک

پردیس میں ہم پردیسیوں کے پاس خود کو دھوکہ دینے کیلئے خاصے مواقع میسر ہوتے ہیں۔ نہ لوڈشیڈنگ کی ٹینشن، نہ مہنگائی کا رونا،نہ امن و امان کی شکایات اور نہ ہی سیاسی نظریات کہ پل پل خود کو جلاتے←  مزید پڑھیے

ایک سیلفی پلیز۔۔عارف خٹک

“دانشور کے لغوی معنی ہیں دانش و دانائی رکھنے والا، عقل و فہم، ادراک، فکر اور سمجھ بوجھ رکھنے والا۔ایک اعلیٰ  ظرف استاد جو اپنی حکمت کے موتی چہار سو بکھیرے اور انسان کو زندگی کا آسان فلسفہ سمجھا سکے۔←  مزید پڑھیے

جنوبی ہندوستانی کھانے اور پاکستانی کھوتا۔۔عارف خٹک

ایک دفعہ ڈسکوری ٹی وی چینل پر ایک ڈاکیومنٹری دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں جنوبی ہندوستان خصوصاً  کیرالہ اور تامل ناڈو کے کھانے دکھا ئے جارہے تھے۔ کیرالہ کی ایک شادی کی تقریب تھی، دسترخوان پر زیادہ تر کیلے←  مزید پڑھیے

ہندوستان افغانستان میں گھٹنے ٹیک چکا ہے۔۔۔ عارف خٹک

حالیہ افغان خانہ جنگی لہر نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ روز افغانستان میں صوبائی دارالحکومتوں کا طالبان کے زیر قبضہ جانا جہاں کابل کی حکومت کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں وہاں پاکستان کے روایتی قوم پرستوں کی امیدیں بھی دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔ پاکستانی قوم پرست ستر سال سے افغانستان کی صورت میں جذباتی اور نظریاتی سیاست کا دم بھرتے آئے ہیں۔←  مزید پڑھیے

عارف خٹک کی سائیکل۔۔۔ عارف خٹک

اگلے دن چھوٹی سی چڈی پہن کر اپنی بلڈنگ سے نکلا کہ سامنے کچھ کالی و زرخیز امریکی خواتین بمعہ پٹھان چوکیدار کے حسرت سے میرے بھرے بھرے ڈولوں اور رانوں کو دیکھنے میں مصروف عمل تھیں۔ میں نے بالوں کی لٹ کو بے نیازی کے ساتھ ماتھے سے ہٹایا اور سائیکل پر بیٹھ کر زور سے پیڈل مارا۔ ←  مزید پڑھیے

پرستار۔۔عارف خٹک

پرستار وہ ہوتے ہیں جو  آپ کو دل ہی دل میں چاہتے ہیں، آپ کے الفاظ سے محبت کرتے ہیں، آپ کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں ، آپ کیساتھ صحت مند مباحثہ کرتے ہیں، آپ کو دل سے عزت دیتے←  مزید پڑھیے

کنگن۔۔عارف خٹک

وہ روز ہمارے گھر آتی تھی، اور ہم سارے بچے مل کر چھپن چھپائی کھیلتے تھے۔ اس کے سنہرے چمکیلے بال اور نیلی آنکھیں سب بچوں میں اس کو منفرد بناتی تھیں۔ ہم سب بچے اس کی خوبصورتی سے احساس←  مزید پڑھیے

آئیں آپ کو امارات گھماؤں(1)۔۔عارف خٹک

کورونا کی وبا سے پوری دنیا متاثر ہے، سب لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ حتی کہ برسوں بعد ملنےوالے دوستوں نے ہمیں گلے لگانے سے منع کردیا۔ دور سے سینے پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا ۔ بلکہ ایام نوجوانی کی←  مزید پڑھیے

سگ یار۔۔عارف خٹک

ہمارے گاؤں کے شیر باز گل ماما کا ایک کتا تھا۔ جس کے بھونکنے کی آوازیں آج تک ہم نے شیرباز گل ماما کے گھر میں ہی سنی تھیں ۔ پردے کا اتنا پابند تھا کہ دن کی روشنی میں←  مزید پڑھیے

“کُتا”۔۔۔تحریر/عارف خٹک

آپ نے زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہوں گے ،ظاہری بات ہے کہ ہم سب انسان ہیں تکلیفیں اور مصیبتیں تو ہمارے نصیب میں لکھی ہیں۔ ایف ایس سی میں کیسے پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے۔ میٹرک کے←  مزید پڑھیے

بیوپار ۔۔عارف خٹک

کہتے ہیں کہ بیوپار سنت نبوی ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم  ﷺ بھی کاروبار فرماتے تھے۔ ہم پشتون بنیادی طور پر مذہب پسند ہیں اس لئے سنتوں پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں بشرط، سنت میں خرچ کرنیوالی بات←  مزید پڑھیے

مہمان بلائے جان اِن پشاور۔۔عارف خٹک

مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں، مگر گاؤں کے مہمان شہر میں زحمت بن جاتے ہیں، خصوصاً  پشاور میں۔ بلکہ اگر آپ کسی شہر میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں، خصوصا ً پشاور میں تو آپ بھول جائیں کہ آپ اپنا←  مزید پڑھیے

عید اور ہمارے آزاربند۔۔عارف خٹک

اللہ بخشے دادی حضور کو،جس دن آخری روزہ ہوتا تھا وہ اپنا ٹین کا صندوق کھول کر آخروٹ کی خشک چھال نکال لیتی،جس کو دانداسہ کہا جاتا تھا۔ بہوؤں کے اوپر احسان عظیم کرکے انگلی برابر دانداسہ دیتی کہ جاؤ ←  مزید پڑھیے

آدئی آف ہٹلر۔۔عارف خٹک

میری ادئی (ماں) وہ ہٹلر شیرنی تھی جس نے بچپن سے لیکر نوجوانی تک الف کی طرح سیدھا کرکے رکھا۔ کسی بات پر ٹوکنا ہوتا تو محض آنکھ کے اشارے سے سمجھا دیتی۔ اگر ہم ان کا آنکھ کا اشارہ←  مزید پڑھیے

میں اور میری ڈاکٹری۔۔عارف خٹک

آج تک اپنے نام کیساتھ ڈاکٹر لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ایک تو ڈاکٹر جیسا منہ نہیں ہے اور دوسرا یار دوست فورا ً قوت باہ اور لانگ سیشن سیکس میڈیسن کا پوچھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ نئی نئی ڈاکٹریٹ کی←  مزید پڑھیے