صفر۔۔نادیہ عنبر لودھی/وحشت میں انسان کاآخری سہارا مذہب ہوتا ہے اور جس کے پاس یہ سہارا نہ ہو تو اس کی داخلی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے ۔ میراں جی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اُنہوں نے اپنی وحشت کوخود پر طاری کرلیا اور اسی وحشت نے انہیں ختم کردیا← مزید پڑھیے
مجھ سمیت وطنِ عزیز کے وہ تمام لوگ جو گزشتہ صدی کی پانچویں دہائی تک میں پیدا ہوئے اس بات کے شاہد اور گواہ ہیں کہ تمام تر مسائل کے باوجود ہمارے معاشرے میں خوش دلی اور خوش گمانی بہت← مزید پڑھیے
سیّد فاضل حسین شاہ انہی ہدایت شاہ بخاری ؒ کی دوسری اَولاد تھے۔اَگرچہ کوئی بڑی عالمانہ ڈگری ان کے پاس بھی نہ تھی۔قاریات کاکورس کیاہواتھا۔قرآن پاک اچھاپڑھتے تھے۔زبان پر عجمی لہجے کااَثر تھا۔صوفیانہ کلام یہ بھی بہت خوب صورت پڑھتے تھے۔ذکر و واعظ کی مجالس میں ان سے خصوصی کلام پڑھوایا جاتاتھا۔
← مزید پڑھیے
پنڈی سے ایک بہن کا سوال تھا کہ یہ عرس کیا ہوتا ہے؟ یہ لفظ کہاں سے نکلا ہے؟ بابا حضور کا 30 واں عرس منایا جا رہا ہے، یہ یومِ وصال کا کوئی دوسرا نام ہے کیا؟ اسے عرس← مزید پڑھیے
مریکا کو ’’شیطان بزرگ‘‘ کا خطاب تو امام خمینیؒ نے دیا تھا، لیکن اب اسے اور اس کے حواریوں کو نیا خطاب روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے دیا ہے۔ انھوں نے شیطان اور شطونگڑوں کو مجموعی طور پر ’’جھوٹ← مزید پڑھیے
" اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہرچیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور منزل سامنے آجائے"
مگر اس پورے ہفتے میں ، ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ سوشل میڈیا پر کتنا انحصار کرتے ہی← مزید پڑھیے
چند برس پہلے میں پاکستان میں جن خاتون کے ہاں مقیم تھا وہ مطلقہ تھیں۔ ان کے گھر کی دونوں خاتون ملازماؤں کو بھی فارغ خطی مل چکی تھی۔ ان کی رفقائے کار خواتین میں سے ایک بیوہ تھی جو← مزید پڑھیے
آدمی نہیں ملتے “۔ تو کیا کریں ، اگر ایسا ہے تو آدمی پیدا کرنے میں کوئی سبیل کیجئے ، اس طرح کیسے کام چلے گا اور پھر سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں جب یہ جواب ملتا ہے کہ ، اس کے لیے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے اور آدمی ملتے نہیں۔← مزید پڑھیے
ہم اور ہماری ’’ب ‘‘ بولی۔۔۔ کبیر خان/ابھی کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے۔۔ مقبول بس،طارق ٹرانسپورٹ اور ڈسٹرکٹ بس سروس کی ’’دھکّے جوگی‘‘گاڑیاں جونہی کوہالہ یا آزاد پتن پُل عبور کرتیں، فرنٹ اور سیکنڈ سیٹ والے معتبر پسنجر درکنار ، بِنڈے سے جنگلے اور ترپال تک کی سواریاں ’’اُڑدُو‘‘میں’’ پشتوُ مارنے ‘‘ لگتیں ۔← مزید پڑھیے
اپنے حامیوں کو نہ گھبرانے کامشورہ دیتے ہوئے لگتا ہے کہ خود وزیراعظم فل گھبرا گئے ہیں۔ اگر ان کے ڈیزل، پٹرول دس روپے لیٹر اور بجلی پانچ روپے یونٹ سستی کرنے کے اعلان کوا س کی فیس ویلیو، پر← مزید پڑھیے
عام پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح میری بھی ذاتی آمدنی گزشتہ تین برسوں سے محدود سے محدود تر ہورہی ہے۔ اسے نگاہ میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم صاحب کے پیر کی شام ہوئے قوم سے خطاب نے مجھے یقینا تسلی← مزید پڑھیے
کئی دنوں کی غیر حاضری کے بعد “مظاہرقلم” حاضر ہے کچھ تو موسمی بخار نے نڈھال کئے رکھا اور کچھ ہم نے خود راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔ دفتر سے مسلسل فون آرہے تھے کہ کالم کی اتنے← مزید پڑھیے
پا مردی سے کھڑی ہوئی سرکش آبادی اک شطرنج کے مہرے سی پھر ڈٹی ر ہی باغی فوجوں کے رستے میں دیوار اٹھا کر پھر دو طرفہ پسپا ئی میں یہ آبادی (سخت جاں، سرکش آبادی) اس مڈ بھیڑ میں← مزید پڑھیے
عین جوانی میں، مَیں نے جب پہلی بار پاکستان سے باہر کا سفر کیا تھا، وہ دو دن کےلیےکولمبو اور پھر ہانگ کانگ کا تھا۔ ہانگ کانگ میں تین ماہ گذار کر واپسی کیلۓ میں اور میرے دو دوستوں نے← مزید پڑھیے
امریکہ اور یورپی ملکوں کے علاوہ بہت سے دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں تعلیم اور صحت سے متعلق نجی ادارے وجود رکھتے ہیں۔ ادارے چاہے نجی ہوں یا سرکاری وہ عمومی معاشرے کے رجحانات کے عکّاس ہوتے← مزید پڑھیے
اس پورے خطبے میں ظلم کی تعریف، عدل کی تعریف، استحصال کی تعریف، ملکیت و وراثت کی تعریف وغیرہ کہیں نہیں ملتی۔ البتہ تصور قتل کی تبدیلی کے ساتھ شری کرشن ارجن کو کشتری کا فرض یعنی جنگ کرنا یاد← مزید پڑھیے
اخلاقیات کو کھوجنے کے لئے جوناتھن ہائیٹ نے درجنوں کہانیاں بنائیں جن کا تعلق بے حُرمتی سے تھا۔ مثلاً۔ “ایک شخص اکیلا رہتا ہے۔ اس نے الماری کھولی۔ وہاں پر قومی جھنڈا رکھا تھا جو یومِ آزادی پر لیا تھا۔← مزید پڑھیے
صحافت کا ایک درخشاں باب بندہوا’ایک ایسا صحافی اور کالم نویس رخصت ہو گیا جس نے اپنے پیچھے اپنے شاگردوں کی شکل میں بے تحاشا سرمایہ چھوڑا۔ جس میڈیاگروپ کے ساتھ بھی رہے’انتہائی ایمانداری اور لگن سے کام کیا۔ہزاروں نئے← مزید پڑھیے
پاکستان کیوں اور کیسے بناکی بحث قیام پاکستان یا تقسیم ہند کے فوری بعد شروع ہوگئی تھی اور گذشتہ 72سالوں سے بلا توقف جاری و ساری ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مزید 72 سال اسی طرح← مزید پڑھیے
معاشرتی صورت حال پست سے پست ہونے کی وجوہات اس احساس کمتری میں کہیں چھپی ہوئی ہیں جس کا شکار نئی نسل ہوتی جارہی ہے ٹیکنالوجی کی اس یلغار کے دور میں فرد واحد مزید تنہا ہوتا جارہا ہے - اس تنہائی اور کم مائیگی کے احساس کو کم کرنے کے لیے جو حل تلاش کیے جارہے ہیں ا← مزید پڑھیے