زینب الرٹ بل ، اپنی روح کے اعتبار سے مبارک مگر متن کے اعتبار سے ناقص کوشش ہے۔ قانون سازی تو یہ بہر حال خوش آئند چیز ہے لیکن اقوال زریں کے جس مجموعے کو پارلیمان میں پیش کیا گیا← مزید پڑھیے
کسی گاؤں میں کنواں تھا جہاں سے لوگ پانی لیتے اور گھریلوں ضروریات پوری کرتے تھے۔ ایک رات اندھیرے میں ایک بیمار کتا کنویں میں گر کے مر گیا۔ اگلے دن پورا گاؤں وہاں اکٹھا ہو گیا کہ اوہ ہو← مزید پڑھیے
میرے گاؤں کا نام پنڈی سرہال ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 72 برس مکمل ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی دنیا ہمیں تیسری دنیا کے ایک ملک کی حیثیت سے جانتی ہے۔ یہی حال میرے گاؤں کا بھی ہے۔ میرے← مزید پڑھیے
دھماکہ کسی بھی طرح کا ہو، اچھی چیز نہیں سمجھی جاتی لیکن کچن میں خشک مکئی کے دانوں میں ہوتے چھوٹے چھوٹے دھماکوں کی بات فرق ہے۔ سخت خول والا ہر چھوٹا سے دانہ بہت سی کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، آئرن اور← مزید پڑھیے
نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں، ابھی اے مرگ ابھی سراپا عمل ہوں، مجھے ہیں کام بہت ابھی تو میری رگوں میں ہے تیز گام لہو ابھی تو معرکہ آرا ہوں ، بر سر ِ پیکار یہ ذوق و شوق ،← مزید پڑھیے
منٹو پر شاید ہی اتنا ظلم اسکی زندگی میں ہوا ہو جتنا آج اسکے افکار کے ساتھ ہو رہا ہے۔ میم سے منٹو سمجھنے کے بجائے پورا زور میم سے مرد پر لگ رہا ہے۔ مرد یہ ہے مرد وہ← مزید پڑھیے
اگر آپ کو ڈیڑھ ہفتے یا ڈیڑھ مہینے کے لئے جیل میں ڈال دیا جائے، آپ پر دو تین مقدمے قائم کرکے میڈیا کو بتایا جائے کہ آپ جیل میں روتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں اور معافیاں مانگتے ہیں اور بہت← مزید پڑھیے
حُسنِ اتفاق سمجھیں یا ابجد کا حساب جاننے والے کی منصوبہ بندی، پاکستان اِس وقت حرفِ ابجد ’’ع‘‘ کے دورِ عروج سے گزر رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے نام میں موجود حرف ع کا سایہ پورے پاکستان پر← مزید پڑھیے
مجھے یہ واقعہ اسحاق ڈار نے سنایا تھا‘ آپ کو یاد ہو گا پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے 2008ءمیں مشترکہ حکومت بنائی تھی‘ اسحاق ڈار اس مشترکہ حکومت میں بھی وزیر خزانہ تھے‘ وزارتوں کا فیصلہ← مزید پڑھیے
پاکستان کے سینئر کالم نویس ادیب ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب اظہار الحق صاحب نفاذ اردو سے متعلق اپنے کالم ” تلخ نوائی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اردو کا عمل بتدریج کیا جائے۔مقابلے کے امتحان میں انگریزی کی← مزید پڑھیے
کہہ نہیں سکتی یہ گھاؤ کب سے میرے سینے میں ہے۔ تکلیف کے ساتھ شروع ہوا ہو ،یہ بھی یاد نہیں۔ نہ کوئی پھوڑا یا چھالا تھا جو پھوٹ کر ناسور بن گیا ہو، نہ ہی کوئی چوٹ تھی جو← مزید پڑھیے
فوجی سدا کا مسافر ہوتا ہے- بلوچستان کی بے آب و گیاہ وادیاں ہوں یا سیاچین کی برف پوش پہاڑیاں ، اس کی مسافت ہمیشہ جاری رہتی ہے- زمانہء امن میں ہمارے تحفظ کےلئے وہ در بدر اپنی جان اٹھائے← مزید پڑھیے
وہ ایک غیر مسلم ملک کے کسی ہسپتال میں زیرِ علاج تھا۔ کچھ روز بعد تیمارداری کرنے والی خاتون نے اسے شادی کی پیشکش کر دی لیکن اس نے جواب دیا کہ وہ تو مسلم ہے۔ خاتون نے کہا کہ← مزید پڑھیے
عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے صدیوں سے ہر قوم ’ ملک اور عہد کے ادیب ’ شاعر اور دانشور بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جونہی وہ پہیلی بوجھنے کے قریب ہوتے ہیں اس پہیلی کی کوکھ سے← مزید پڑھیے
گزشتہ سے پیوستہ: انہوں نے بادشاہوں اور حکومتوں کو اپنے دام میں بری طرح پھنسا لیا تھا،یہی نہیں اخلاقی طور پر پستیوں کی جس اتھاہ گہرائیوں اور دلدل میں یہ دھنسے ہوئے تھے وہ ناقابل بیان ہے،یہی وجہ ہے کہ← مزید پڑھیے
آج سے تقریباً تین سو سال پہلے نظام الملک آصف جاہ نے حیدرآباد ریاست کی بنیاد رکھی اور دکن کے حکمران بنے، ہر بادشاہ کی طرح اُنہوں نے بھی اپنا قانون بنایا اور ریاست کی فوج کھڑی کی، دکن کے← مزید پڑھیے
ان ذہنی معذوروں کے دماغ ہی داغدار نہیں، روحیں بھی کوڑھ زدہ ہیں جو کرپشن کو صرف اور صرف بیان بازی اور تقریر بازی (RHETORIC) قرار دیتے ہوئے غیر شعوری و غیر ارادی طور پر کرپشن جیسی لعنت پر پردے← مزید پڑھیے
پبلک اکائونٹ کمیٹی کی سربراہی ہو ، الیکشن کمیشن کے اراکین اور چیئر مین کا تقرر ہو یا آئی جی سندھ کا تبادلہ، کیا کبھی ہم نے سوچا معمول کی ان چیزوں پر ہمارے ہاں ہنگامہ سا کیوں کھڑا ہو← مزید پڑھیے
انور بیگ صاحب اپنے ’’جگر‘‘ ہیں۔ پیپلز پارٹی کی محبت میں کراچی چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ جنرل مشرف کے دور میں اپنے گھر کو اس شہر میں مقیم صحافیوں اور سفارت کاروں کے لئے ایک ہمہ وقت ’’اوپن← مزید پڑھیے
پیر جھنڈو آمد: اس عظیم الشان لائبریری کے بارے میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدمجدھم رقم طراز ہیں: “یہ ہمارے لیے نعمت عظمیٰ سے کم نہیں جو نادر کتب، مخطوطات اس شخصی کتب خانے میں موجود ہیں،← مزید پڑھیے