ترکش وفد کے ہمراہ وادی ء مہران کا دورہ۔۔۔(قسط4)محمد احمد

پیر جھنڈو آمد:
اس عظیم الشان لائبریری کے بارے میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدمجدھم رقم طراز ہیں:
“یہ ہمارے لیے نعمت عظمیٰ سے کم نہیں جو نادر کتب، مخطوطات اس شخصی کتب خانے میں موجود ہیں، سارے برصغیر میں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے”۔
عالم اسلام کی مشہور شخصیت اور محقق عالم دین شیخ عبدالفتاح ابو غدہ یہاں دو مرتبہ تشریف لاچکے ہیں، اور انہوں نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ مجھے سب سے زیادہ سکون، اطمینان اور راحت جن جگہوں پر نصیب ہوا ہے اس میں پیر جھنڈو بھی ہے۔
اس فقید المثال لائبریری میں اب بھی نایاب کتابوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ خاندانی اختلافات کے باعث اس عظیم الشان لائبریری کو نقصان ضرور پہنچا ہے اور یہاں سے نایاب کتابیں چوری بھی کی گئی ہیں، لیکن اب بھی بڑی تعداد میں مخطوطات موجود ہیں جن کی تعداد چار سو سے متجاوز ہے۔ جس کی فہرست حضرت مولانا محمد قاسم سومرو صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے مرتب فرمائی ہے جو “خزینۃ المخطوطات” کا حصہ ہے۔
سومرو خاندان کی یہ خصوصیت ہے کہ بیرون ممالک کے عرب علماء علمی سلسلے میں ان ہی سے رابطے میں رہتے ہیں، اسی بنیاد پر انھوں نے کئی عرب علماء کرام کو یہاں کے مخطوطات کے عکس کے سلسلے میں تعاون فراہم کیا ہے۔
اس عظیم ادارے اور بے مثال لائبریری پر یہ چند سطور یقیناً ناکافی اور نامکمل ہیں۔ مگر کہتے ہیں: “نا ہونے سے ہونا بہتر ہے” اس لیے یہ چند سطور لکھ دی ہیں تاکہ تحقیق کرنے والے مزید تحقیق کریں اور نسلِ نو کو اپنے اکابرین کی خدمات اور تراث سے آگاہ کریں۔
راشدی خاندان کی دینی، علمی، اصلاحی، سماجی اور سیاسی خدمات کا حلقہ وسیع تھا۔
سندھ، بلوچستان، راجپوتانہ اور جیسلمیر تک ان کے مریدین پھیلے ہوئے تھے۔ اور انھوں نے قریہ قریہ بستی بستی اسلام کا پیغام پہنچایا۔

ہم 3 جنوری جمعہ کے روز بارہ بجے کے بعد اس گاؤں میں پہنچے، مولانا عبدالرحیم صاحب نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ہم نے مولانا صاحب سے درخواست کی کہ ہمارے پاس وقت کی قلت ہے اس لیے آپ معزز مہمانوں کو تاریخی مدرسہ کا فوری وزٹ کرائیں۔ وہ گویا ہوئے کہ وزٹ تو کراتے ہیں لیکن ہم ظہرانے کے بغیر مہمانوں کو نہیں چھوڑیں گے، مہمان دور سے تشریف لائے ہیں ان کی خدمت ہمارے لیے اعزاز ہے۔ مولانا صاحب نے پیر صاحبان کو مہمانوں کی آمد کی اطلاع کردی اور ہمیں وزٹ کرانا شروع کیا، سب سے پہلے تاریخی مدرسہ دار الرشاد لے آئے جس کی وہی پرانی عمارت ابھی تک قائم ہے، جہاں بزرگوں نے بیٹھ کر درس و تدریس کا آغاز کیا تھا۔ یہ مدرسہ درسگاہ بھی تھا، تو خانقاہ بھی، تو تحریکی مرکز اور سیاسی آماجگاہ بھی، یہاں سے پڑھ کر شیوخ الحدیث بھی نکلے، صوفی با صفا اور صف اول کی قیادت بھی، یعنی یہ مدرسہ معاشرے کی ہر ضرورت کو پورا کررہا تھا۔ مدرسہ کی عمارت بھی آج بھی بوریا نشینوں کی تلاش میں تھی، عمارت کے در و دیوار آج بھی پکار رہے تھے کہ ہے کوئی پیر رشداللہ شاہ راشدی اور عبید اللہ سندھی جو ہماری آبیاری کرے، لیکن عرصہ ہوا جواب نہیں مل رہا۔ ایک طرف دل خوشی سے لبریز ہوا کہ ہم عظیم ادارے کے دامن میں کھڑے ہیں، دوسری طرف آنکھیں آنسوؤں سے نم ہوگئیں کہ یہ مدرسہ اب ویران ہے۔
اس کے بعد لائبریری کے اس کمرے کی زیارت کرائی گئی جہاں اصل مکتبہ تھا اور جس کی شہرت عرب وعجم سمیت چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی، دلی سکون محسوس ہورہا تھا اور عجیب سی کیفیت تھی۔ ان بزرگوں کی عظمتوں کو سلام جنہوں نے وسائل کی کمی کے باوجود وہ کام سرانجام دیے گئے جو آج تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بھی مشکل معلوم ہوتے ہیں۔ وہ کنواں جہاں سندھی صاحب کی بوڑھی ماں آتی تھی اور دورانِ درس مولانا عبید اللہ سندھی صاحب کو پرانا نام پکار کر کہتی تھی: “بوٹا سنگھ! پانی بھرکے دو!”، سندھی صاحب سبق کے درمیان سے اٹھ کر والدہ ماجدہ کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔
اس طرح وہ چبوترہ جہاں سے اذان دی جاتی تھی، قدیم زمانے میں آواز دور دور تک پہنچانے کا یہی طریقہ رائج تھا، سپیکر آنے کے بعد وہ پرانا طریقہ کار معدوم ہوگیا ہے، اس کی بھی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ اور اس طرح نماز کے اوقات معلوم کرنے کے لیے جو آلہ نصب تھا وہ بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اور بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کا شرف بھی ملا، نماز جمعہ پڑھنے کی سعادت بھی ان بزرگوں کی قائم کردہ مسجد میں نصیب ہوئی۔ یہاں جن چیزوں نے ہمیں زیادہ متاثر کیا ان میں ایک تو یہاں خرافات اور بدعات کا دور دور تک شائبہ تک نہیں تھا، آج کل بزرگوں کے مزارات پر لوگوں نے عجیب دھندہ اور تماشا شروع کر رکھا ہے، یہ خانقاہ ان چیزوں سے پاک تھی۔ دوسری چیز یہاں کے لوگ بہت بااخلاق اور عاجز بندے تھے۔ نماز کے بعد پیر فیض الرسول صاحب سے ملاقات ہوئی، انھوں نے بہت عزت دی اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے، یہ صاحب سابق جج ہیں اور بہت باکمال اور متواضع انسان تھے۔ ان کے دل میں یہ بڑی تڑپ اور درد تھا کہ ہم ایک بار پھر اس ادارے کو اُس نہج پر چلائیں، تجاویز اور مشورے بھی مانگ رہے تھے۔ رابطۃ علماء السند کے صدر اور ہمارے قافلے کے روحِ رواں حضرت مولانا مفتی عبدالباقی ادریس السندی صاحب نے ان کو مفید اور بہترین مشوروں سے نوازا۔
پیر فیض الرسول صاحب نے مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، اس کے بعد ہم نے اجازت مانگی، پیر صاحب شفقت فرماتے ہوئے گاڑی تک رخصت کرنے آئے۔ اس کے بعد ہم راشدی خاندان کے چشم وچراغ اور نوجوان عالم دین مولانا سید انور شاہ راشدی صاحب کے پاس پہنچے، خاندانی تقسیم کے بعد کتابوں کا ذخیرہ ان کے حصے میں آیا ہے۔ خدا نے ان کو بڑا غضب کا شوق دیا ہے، کتابوں سے ان کا عشق ہے۔ باصلاحيت انسان اور ذی استعداد عالم دین ہیں۔ انھوں نے لائبریری کا تعارف کرایا اور خاص طور پر نایاب مخطوطات کی زیارت بھی کرائی اور ساتھ میں ہماری فرمائش پر ہر ایک مخطوطہ کا تعارف بھی پیش کیا (جو کہ محفوظ کیا گیا ہے)۔
لائبریری میں کتابیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اور عقل دنگ رہ گئی کہ اکابرین نے کتنی محنت اور  اور جستجو سے یہ ذخیرہ جمع کیا ہے۔ مغرب کی نماز پڑھ کر ہم نے اپنے میزبان سے اجازت چاہی اور قافلہ اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔
(جاری ہے) ۔۔۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *