کالم    ( صفحہ نمبر 95 )

ایک کتاب، ایک تکون (پہلا حصّہ)۔۔زاہدہ حنا

رضیہ سجاد ظہیر، سجاد ظہیر اور نور ظہیر ایک تکون بناتے ہیں اور اس تکون سے ایک کتاب پھوٹتی ہے، جس کا نام ہے ’’میرے حصے کی روشنائی‘‘ یہ ایک بیٹی کی یادداشتیں ہیں، ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی اور اپنے←  مزید پڑھیے

جلسوں اور سیلاب میں بٹا پاکستان۔۔نصرت جاوید

اسلام آباد بنیادی طورپر “اپنے بچنے کی فکر کر جھٹ پٹ” کی سوچ سے مفلوج ہوئے افسروں کا شہر ہے۔ حکومت کسی کی بھی ہو، ان لوگوں کی جستجو ریاست پاکستان کے دائمی اور حتمی فیصلہ ساز اداروں کی ترجیحات←  مزید پڑھیے

قدرتی آفتیں‘عالمی امداد اور ہمارے رویے۔۔آغر ندیم سحر

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ 2005ء میں آیا‘اس ہیبت ناک زلزلے میں ایک لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے‘تین لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے اور اربوں کی املاک کو نقصان پہنچا۔اس زلزلے نے پاکستان←  مزید پڑھیے

آئین کی بالا دستی۔۔پروفیسر رفعت مظہر

دنیا کا کوئی بھی ملک آئین وقانون کی بالادستی کے بغیر ترقی کرنا تو کجا اپنی سلامتی تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔ یہ بجا کہ دنیا کے ہر ملک میں آئین وقانون شکن پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن جہاں نظامِ←  مزید پڑھیے

یہ خدا کا نہیں،موسمیاتی آلودگی کا عذاب ہے۔۔یاسر پیرزادہ

کوئی قیامت کا انتظار کرنا چاہتا ہے تو کرتا رہے، پاکستان میں تو قیامت آچکی۔ دنیا میں سیلاب اور زلزلے آتے ہیں، تباہی مچاتے ہیں ، مگر جو تباہی اِس مرتبہ پاکستان کے حصے میں آئی ہے وہ ناقابل بیان←  مزید پڑھیے

عمران خان کا فاشسٹ رویہ۔۔سیّد محمد زاہد

مقبولیت کا مزیدارمیٹھا زہر انسان کو مغرور بنا دیتا ہے۔ موافق ہواؤں میں ابھرنے والے عوامی سیلاب کے تند و تیز دھارے کس کس کوملیا میٹ کر دیتے ہیں, مغرور انسان کو ان کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اس سیلابِ←  مزید پڑھیے

خاندانی کاروبار کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔۔اکرام سہگل

تمام خاندانی کاروبار کے لیے مشکلات موجود ہیں چاہے وہ پہلی، دوسری یا تیسری نسل چلا رہے ہوں۔ ایک بار قائم ہونے کے بعد آنے والی نسلوں میں خاندانی کاروبار کے لیے مشکلات آسان ہو جائیں گی۔ دوسری یا تیسری←  مزید پڑھیے

سید علی گیلانی کی یاد میں ۔۔آصف محمود

لیگل فورم فار کشمیر اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز نے جناب سید علی گیلانی کی پہلی برسی کے موقع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا ، گویا فرض کفایہ تھا جو انہوں نے ادا کیا ۔ لازم ہے کہ←  مزید پڑھیے

لخ دی لعنت۔۔عطا الحق قاسمی

ماضی میں کیسے کیسے عظیم اساتذہ گزرے ہیں جن کے ہونہار شاگردوں نے ان پر کتابیں لکھیں مگر کچھ بدنصیب اساتذہ ایسے بھی ہیں جن کے ناخلف شاگردوں نے انہیں نظر انداز کر دیا۔ ان نظر انداز کئے گئے عظیم←  مزید پڑھیے

کڑے اور مشکل وقت میں ہماری سماجی اخلاقیات کے نمونے۔۔صاحبزادہ محمد امانت رسول

 ہمارے جیسے زوال پذیر یا زوال شدہ معاشروں میں اخلاقی اقدار اور انسانی جذبات کی صورتیں بھی بگڑتی اور خراب ہوتی چلی جاتی ہیں، اور لوگوں نے اچھائی یا برائی سے متعلق اپنی رائے قائم کرنے کے لیے عجیب و←  مزید پڑھیے

جائیں تو جائیں کہاں؟۔۔نصرت جاوید

میرا یہ شبہ اب یقین میں بدلنا شروع ہوگیا ہے کہ رواں برس کے اپریل میں وطن عزیز کے وزیر اعظم منتخب ہوجانے کے بعد نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے صدر اب آئندہ انتخاب جیتنا تو←  مزید پڑھیے

کیا فوج واقعی نیوٹرل ہوگئی ہے؟۔۔ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد

پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں عوام کے ذہنوں میں سب سے زیادہ گردش کرنے والا سوال بن کر رہ گیا ہے جس کی وجوہات پچھلے چند سالوں میں رونما ہونے والے واقعاتی شواہد ہیں جن کو دہرانے کی ضرورت←  مزید پڑھیے

میخائیل گورباچوف ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

زارِ روس کے خلاف بڑھتی مزاحمتیں سیاسی جماعتوں کی شکل اختیار کرتے ہوئے بالآخر 1898 عیسوی میں ایک بڑی جماعت رشین ڈیموکریٹک لیبر پارٹی کی صورت میں سامنے آئیں، ان کی فکری بنیاد مارکس اور اینگلز کا فلسفہ تھا، پانچ←  مزید پڑھیے

اس میں محکمہ موسمیات کا کیا قصور ہے؟۔۔نصرت جاوید

نازش بروہی ہماری ایک بہت پڑھاکو دوست ہیں۔ میری طرح کتابوں اور دستاویزات کو محض وقت گزاری کے لئے نہیں پڑھتیں۔ ان سے کارآمد نتائج بھی اخذ کرتی ہیں۔ شادی ان کی میرے ایک عزیز ترین صحافی دوست سے ہوئی←  مزید پڑھیے

انتھونی گاوڈی کا شہر۔۔یاسر پیرزادہ

بارسلونا شہر میں قدم رکھتے ہیں پہلا احساس یہ ہوا کہ کسی ’نارمل ‘ یورپی شہر میں آگئے ہیں ، ایبیزا کے برعکس یہاں خواتین نے خاصا شریفانہ لباس پہن رکھا تھا ، بے شک لڑکیاں مختصر سکرٹس اور نیکر←  مزید پڑھیے

وینس کے اندھے۔۔آصف محمود

ساون کے اندھے تو سن رکھے تھے ، یہ وینس کے اندھے پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ انہیں سیلاب میں بہتے لاشے نظر نہیں آتے ، انہیں وینس یاد آتا ہے۔ ان کے ماتھے پر اپنی نا اہلی سے ندامت←  مزید پڑھیے

سیلابوں کے بدلتے انداز اور ہم۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

روایتی طور پر ہمارا علاقہ دریائے راوی کے آس پاس کے تیس چالیس کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ دریاوں کا رخ موڑنے اور ڈیموں کی قید میں ڈالنے سے پہلے جولائی اگست سیلاب کے مہینے شمارے ہوتے تھے۔ اس میں حکومت←  مزید پڑھیے

تحریکِ انصاف کا شوکت بے نقاب۔۔ڈاکٹر ابرار ماجد

آجکل پاکستان ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ایک تو پاکستان کی معاشی صورتحال بہت خراب تھی اور اوپر سے سیلاب کی صورت میں آزمائش قوم کے کاندھوں پر آن پڑی جس سے بہت زیادہ جانی اور مالی←  مزید پڑھیے

قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع کا نظام۔۔افتخار گیلانی

ویسے تو اسوقت شمالی بھارت کے کئی صوبے حتیٰ کہ راجستھان کے ریگزار بھی سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، مگر پاکستان میں اسکی تباہ کاریوں نے ایک آفت مچا رکھی ہے۔ پانی کے ریلو ںمیں انسان و جانور بہنے کی←  مزید پڑھیے

ریلیف کیمپوں میں جانوروں کیلئے چارہ بھی مہیا کریں ۔۔نصرت جاوید

انٹرنیٹ متعارف ہونے کے بعد مجھ جیسے خوش گماں افراد نے فرض کرلیا کہ دُنیا کے ہر مقام سے تیز تر بنیادوں پر پھیلائیں خبریں انسانوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب لائیں گی۔ وہ ایک دوسرے کے دُکھ سکھ←  مزید پڑھیے