ایک کتاب، ایک تکون (پہلا حصّہ)۔۔زاہدہ حنا

رضیہ سجاد ظہیر، سجاد ظہیر اور نور ظہیر ایک تکون بناتے ہیں اور اس تکون سے ایک کتاب پھوٹتی ہے، جس کا نام ہے ’’میرے حصے کی روشنائی‘‘ یہ ایک بیٹی کی یادداشتیں ہیں، ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی اور اپنے ماں باپ کے بارے میں جو اب سے 80،85 برس پہلے زندہ تھے اور ایک عظیم تحریک کے بنیاد گزار تھے۔
نور ظہیر پہلے سبط حسن کا تابوت لے کر آئیں اور پھر ان کی کتاب ’’میرے حصے کی روشنائی‘‘ آئی جس کا اردو ترجمہ بک ہوم، مزنگ روڈ، لاہور نے شایع کیا۔ ان دنوں وہ لندن میں ہیں اور اپنی کہانیوں کا نیا مجموعہ مرتب کر رہی ہیں ۔ ’’میرے حصے کی روشنائی‘‘ پر علی احمد فاطمی نے بہت خوبصورتی سے اظہار خیال کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں’’میرے حصے کی روشنائی نور ظہیر (سجاد ظہیر کی بیٹی) کی ایک دلچسپ، انوکھی اور البیلی کتاب ہے، اس کے بارے میں کہہ پانا مشکل ہے کہ یہ کس نوع کی کتاب ہے۔‘‘
نور ظہیر خود تو یہ کہتی ہیں:
’’یہ اس گھر کی کچھ یادیں ہیں نہ تو یہ یادیں سلسلے وار ہیں اور نہ ہی انھیں کسی بھی طرح بائیو گرافیکل کہا جاسکتا ہے۔ ان صفحوں میں ابا اور امی کے کریکٹر کے اس پہلو کا ذکر ہے جو سب کے سامنے نہیں تھا اور اس سے بھی بڑھ کر اس ماحول کی تصویر جو اس گھر میں ان دونوں نے مل کر بنائی تھی۔ کچھ ان مصنّفین کا بھی ذکر ہے جو تنظیم کے اہم ستون تھے اور ان کے ذکر کا ان دونوں کی زندگی سے گہرا تعلق تھا اور جن سے آج کے ادیب واقف نہیں ہیں۔‘‘
اور یہ بڑی حد تک درست ہے کہ بڑے ادیبوں اور بڑے انسانوں کی گھریلو زندگی بھی اپنے آپ میں اہمیت رکھتی ہے اور ہمارے اندر اسے جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ زندگی کی بڑی حقیقتیں

تو اپنی جگہ مسلم لیکن معمولی اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی حقیقتوں سے انکار بھی مشکل ہے کہ زندگی کا تانا بانا اور شخصیت کی ذاتی اور نظریاتی دونوں طرح کی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں خاص طور پر تضادات اور تصادمات۔
پھر ایک یہ بھی خیال کہ خاص آدمی عام زندگی کس طرح بسر کرتا ہے اور عام زندگی اور گھریلو زندگی میں ذاتی عیش و آرام اور سہولت پسندی کو لے کر اس کا رویہ کیا ہے۔ سجاد ظہیر عام
آدمی نہ تھے لیکن انھوں نے گھریلو زندگی عام آدمی کی طرح گزاری شاید اس کا بھی ایک مقصد تھا، پیغام تھا۔ یہ کتاب ایسے مناظر کو پیش کرتی ہے۔ گھریلو رشتوں کے علاوہ آنے جانے والے مہمانوں، ادیبوں اور دوستوں سے میل ملاقات، گفتگو، مقصد اور نظریہ سے پر ہے جسے نور ظہیر نے بڑے سلیقے اور ہنرمندی سے پیش کیا ہے اس لیے کہ وہ خود ایک فنکار ہیں اور بامقصد و باعمل زندگی بسر کرنے پر یقین کرتی ہیں۔
پندرہ چھوٹے چھوٹے ابواب میں گندھی ہوئی یہ کہانی باہم مربوط نہ ہونے کے باوجود اپنے اثر و پیغام کو ذرا بھی متاثر نہیں کرتی کہیں کہیں تو ناول کی زبان اور تخلیق کی ایسی فضا تیار کردیتی ہے کہ بات سیدھے دل میں ہی نہیں دماغ میں بھی اتر جاتی ہے۔
پہلا باب آرٹیکل لفظ سے شروع ہوتا ہے۔ بیگم سجاد ظہیر یعنی رضیہ سجاد ظہیر بحیثیت بیوی۔ ان کے مضامین کی نقل کی حفاظت کرتی ہیں۔ حالانکہ گھریلو زندگی، گھریلو ضرورتوں سے شروع ہو سکتی ہے لیکن نور ظہیر کو علم ہے کہ وہ محض اپنے والد کی نہیں ایک بڑے دانشور اور اسکالر کی گھریلو زندگی کے بارے میں لکھ رہی ہیں۔ اسی لیے بات مضمون، قلم، کاغذ، فائل کتابیں وغیرہ سے شروع ہوتی ہے۔ سجاد ظہیر انھیں بکھیرتے اور رضیہ سجاد ظہیر انھیں سمیٹتیں۔ تب اس جملے کی معنویت سمجھ میں آتی ہے۔ ’’ابا کا وجود میرے لیے امی کے بغیر ادھورا ہے۔‘‘ حالانکہ ایک کا تعلق انتشار سے ہے دوسرے کا انتظام سے لیکن دونوں میں ایک ربط، ایک اتحاد۔ اس لیے کہ رضیہ سجاد ظہیر سمجھتی تھیں کہ دنیا میں انتظام و اتحاد لانے کے لیے اکثر گھر میں انتشار آ ہی جاتا ہے۔ اسی لیے مادی عیش و آرام انسان کی بالخصوص ادیب و دانشور کی نرم ونازک حسیت کو موٹا اور بودا بنا دیتا ہے۔

دوسرے باب کا آغاز اسی معنی خیز جملے سے ہوتا ہے۔ ’’ابا کا مذہب سے، کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘ اس کے باوجود وہ تیوہاروں کے منانے پر یقین رکھتے تھے ان کا خیال تھا کہ تیوہاروں کا تعلق مذہب سے نہیں معاشرت سے ہے اور یہ بات بالکل درست ہے۔ مذہب کے بارے میں ان کی رائے نور کے جملوں میں ملاحظہ کیجیے:
’’مذہب ابا کی نظروں میں وہ نشہ تھا جس کی لت سماج کو اس لیے لگائی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی حالت کی اصلی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرے کیوں کہ جو کہیں اسے وجہ مل گئی تو وہ اسے مٹانے کی کوشش کرے گا اور اس کوشش میں جو اس کے حق کی لڑائی ہے وہ سرمایہ داروں، سامراج وادی طاقتوں کا تختہ پلٹ بھی سکتا ہے۔ یہ ان کا اپنا عقیدہ تھا جسے انھوں نے زندگی بھر قائم رکھا۔‘‘
گھریلو زندگی میں مذہب بڑا دخل رکھتا ہے۔ شریک حیات کے حوالے سے بطور خاص اس لیے رضیہ سجاد ظہیر کے خیالات، عقائد بھی ظاہر ہوتے چلتے ہیں جو اکثر سجاد ظہیر سے مختلف ہی ہوتے ہیں لیکن نور کا خیال ہے کہ سجاد ظہیر نے کبھی اپنے خیالات کسی پر حاوی نہیں ہونے دیے خاص طور پر امی پر۔ انھوں نے کبھی پابندی عائد نہیں کی لیکن امی کا پریشانیوں میں کرشن جی کا نظر آنا ایک اور خوبصورت اشاریہ ہے جو رضیہ کی سیکولر سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس باب میں سجاد ظہیر کا کم رضیہ سجاد ظہیر کا ذکر زیادہ ہے لیکن بے حد لبھاؤ نے انداز میں جسے ایک بیٹی اور ایک عورت ہی لکھ سکتی ہے۔ اس باب میں فراقؔ کے قیام کا ذکر، فراقؔ کی شخصیت کا ذکر، محفل کا ذکر۔ ان سب ذکر کے بعد نور ایک بہت اچھا خیال اٹھاتی ہیں اور اس کے بعد یہ معنی خیز سوال:

Advertisements
julia rana solicitors london

’’آج کے دور میں جیتے ہوئے جب حسین فنکار کو ایک سرسوتی کی تصویر بنانے پر طرح طرح کی ملامتیں اٹھانی پڑ رہی ہیں اور رومیلا تھاپر جیسے تاریخ داں کو اکبر کی انقلابیت کی تعریف کرنے کے لیے ہر سرکاری عہدے سے مٹایا جاچکا ہے تو خیال آتا ہے کہ وہ مسلمان کیا ہوئے جنھیں ہندوؤں کے دیوی دیوتاؤں کے روپک ڈھونڈنے کا شعور تھا، جو پھاگ میں رادھا اور کرشن کے چھیڑ چھاڑ کے گیت گاتے۔ کیا ہوئے وہ ہندو جن کے تاشوں میں گمک تھی اور شربت کے پیاؤ کے بغیر تعزیہ نہیں اٹھتے تھے۔ انسانیت کی وہ روایت جو ایک دوسرے کو سمجھ کر زندگی سے رنگینیاں بٹوانا سکھاتی تھی جو خود ایک دوسرے سے ٹھٹھول کرنے کو مذہبی اصولوں پر نقصان مانتی تھی اور مل کر ہنسنے یا خوش ہونے کو اپنا بنیادی حق اور زندگی کی طرف اہم فرض گنتی تھی کہاں کھو گئی۔۔۔۔ یہ ہماری نسل کی کمزوری تھی کہ ہم اپنی بیش قیمتی وراثت کو سنبھال کر نہ رکھ پائے۔‘‘
ایسے خیالات اور سوالات سے یہ کتاب محض یادیں یا آپ بیتی تک محدود نہیں رہ پاتی بلکہ جا بجا سنجیدہ خیالات اور سوالات کے ذریعے حقیقت اور معروضیت کی دستاویز بن جاتی ہے۔ کتاب کا یہ دوسرا باب ان معنوں میں بے حد اہم اور قیمتی ہے جس میں فراق کے حوالے سے بڑے کام کی بات کہی گئی ہے۔
تیسرا باب جو کھانے کی میز سے شروع ہوتا ہے لیکن کھانے کا ذکر کم، دنیا کے مسائل کا ذکر زیادہ:
’’اچھا کھانے کے بعد باتوں کا دور شروع ہوتا۔ اکثر آئے ہوئے لوگوں میں سے کوئی شعر سناتا یا افسانہ کبھی امی اپنی نئی کہانی یا ناول سے کوئی باب سناتیں۔ ہر تحریر پر چرچا ہوتا۔ زبان کے غلط استعمال پر تبصرہ کیا جاتا اور نئے طرح سے لفظوں کے گھماؤ کی تعریف کی جاتی۔ لطیفوں قہقہوں کی جھنک میں سگریٹ کے دھوئیں سے گھنگھراتی ہوا نقش و نگاور کھینچنے لگتی۔ وہ نقوش جس میں سماج میں برابری اور انصاف ہوگا جس میں صرف جسم ہی نہیں خیالاوت بھی آزاد ہوں گے اور تصور کے پنکھ لگائے نئی سے نئی تحریر کو پیدا کریں گے۔‘‘
یہ سب محض خیال نہ تھا بلکہ زندگی کے عام رویوں میں بھی سجاد ظہیر آزاد خیال تھے۔ ثبوت دیا انھوں نے اپنی لڑکیوں کی تعلیم اس کے بعد ان کی شادیوں کو لے کر بھی۔ تبھی تو نور یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہیں کہ ’’نصیحت اور عمل میں ابا کی زندگی میں کوئی فرق نہ تھا۔‘‘ (جاری ہے)
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply