کوئی سِکھّا شاہی زمانے کی بات تھوڑی ہے، ہمارے سامنے کا قصّہ ہے ، کیا نام ہے سے، ساہنہ اور کاہنہ دو سگے پیٹی بھائی ہوا کرتے تھے ۔ اور موضع پَدّر کی پچھاڑی میں ،ٹھیریوں پر رہتے تھے۔ دونوں← مزید پڑھیے
تنہائی اپنے وجود کی گُھٹن سے مرتی ہے ۔نہ اسے خوشی مار سکتی ہے اور نہ ہی رونق کی انتہا۔ آپ میلوں ٹھیلوں کی رونق میںَ اکثر تنہا ہو جاتے ہیں اور عین تنہا کمرے میں ناچ اور جھوم رہے← مزید پڑھیے
تحریر ہماری ایکٹیوٹی ہے، یا پھر کتھارسس یا تخلیق، کبھی ایسا سوچا ہے کہ ایک ہی تحریر دو مختلف الخیال افراد یا دو افراد کی مجموعی سوچ کی تخلیق ہو؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ اک ایسی تحریر لکھی جائے،← مزید پڑھیے
خوشی کیا چیز ہے؟ اور خوش رہنے کے لیے کون کون سے لوازمات ضروری ہیں؟ انسانوں کی اکثریت خوشی کے حصول کے لیے طرح طرح کے جتن کرتی رہتی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ دولت، خوشی حاصل کرنے← مزید پڑھیے
اکثر ماں باپ اور بزرگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہماری نئی جنریشن ہماری بات نہیں سمجھتی یا بات نہیں سنتی، اس مسئلے کو ہم “جنریشن گیپ” کہہ کر سر سے اُتار دیتے ہیں۔ اسی جنریشن گیپ کے بارے میں← مزید پڑھیے
۱۔ جافنا کے مسلمانوں کا تامل ٹائیگرز لبریشن کے ہاتھوں سنگینوں کی نوک پر گھر بدری بیسویں صدی کی آخری دہائی کا ایک بڑا اور المناک واقعہ ہے۔ ۲۔ بدھ دنیا کا مقدس ترین دانت طلسم بھری کہانیوں سے مالا← مزید پڑھیے
“وقت کی قید میں” از قلم “خالد فتح محمد”، نو افسانوں پر مشتمل مختصر کتاب ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہانیاں قاری پر جو تاثرات قائم کرتی ہیں اُن میں سر فہرست انسانی نفسیات، نفسانی خواہشات کی پیچیدگیاں، معاشرتی و← مزید پڑھیے
“Critique of Pure Reason ” کانٹ کے مداح آرتھر شو پنہاور نے کہا تھا ، کسی عظیم ذہن کی تخلیق میں غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کر دینا بہت آسان لیکن اس کی قدرو قیمت کے بارے میں وضاحت کرنا← مزید پڑھیے
راشد اور ارشد دوست تھے۔ راشد نے پانچویں کے بعد بھی سکول کی تعلیم جاری رکھی اور ارشد کے ابّا نے اسے پانچویں کے بعد سکول سے ہٹا کر مدرسہ میں داخلہ دلوا دیا۔ راشد کے تعلیم مکمل کرنے تک← مزید پڑھیے
25 اپریل 2010 کی دوپہر جب ڈاکٹر محمد حسن کے انتقال کی خبر ملی تو میں دہلی اردو اکیڈمی کے ممبران کی ایک ٹیم کے ساتھ مشرقی دہلی میں اردو خواندگی مراکز کا جائزہ لے رہا تھا۔ خبر ملتے ہی← مزید پڑھیے
حال ہی میں اسرائیلی مصنف یووال نوح ہراری کی نئی کتاب Nexus:A Brief History of Information Networks from the Stone Age to AI شائع ہوئی ہے۔ ہراری ہمارے زمانے کے بڑے نہیں،مقبول عام مصنف ضرور ہیں۔بڑا مصنف ہر شے کو← مزید پڑھیے
ممبئی، وہ شہر جو کبھی نہ سوتا تھا، اپنی صبحوں میں ایک عجیب بے چینی اور مستعدی رکھتا تھا۔ یہاں وقت جیسے خوابوں اور حقیقت کے درمیان ایک مبہم سرحد پر رقص کرتا تھا، جہاں ہر شخص ایک جاگتے خواب← مزید پڑھیے
فیض احمد فیض 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔ وہ زمانہ طالب علمی ہی میں شعر و سخن کہنے لگے تھے۔ نقش فریادی، دست صبا، میرے دل میرے مسافر، وادئ سینا اور← مزید پڑھیے
یو کے میں رہنے والے اکثر دوستوں کو معلوم ہوگا کہ یورپ کی ہالی ڈے کیلئے موبائل فون کمپنیاں رومنگ مہیا کرتی ہیں۔ یورپ کے کچھ ملکوں میں رومنگ فری ہے مگر کچھ ملکوں کے لیے آپ کو رومینگ کا ← مزید پڑھیے
ایساڈِنگا ٹیڑھا شخص ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ کوئی شرم نہ لحاظ ، نچلے دھڑ پرفقط اک “سی تھروُ”دھجی چپکائے گدھے گھوڑے بیچ کر سویا پڑا تھا۔ چھی چھی چھی۔۔ ارے یہ ناروے کا بیچ نہیں ،جہاں گوریاں← مزید پڑھیے
جب میں نے یہ کتاب پڑھنی شروع کی تب میں بیس صفحات کے بعد قصداً سو گیا، میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں سے ایک لڑکی بُنی اور اس سے کہا : “میں زندگی میں پہلی بار ایک ایسی کتاب← مزید پڑھیے
حامد یزدانی صاحب شاعر تو اچھے ہیں ہی، کچھ عرصے سے محفلوں میں ان کی وہ سنجیدہ تحریریں بھی سننے کو مل رہی ہیں جن میں نمکین ذائقہ جا بجا ہوتا ہے۔ یہ تحریریں ان کی سنجیدگی کے پیچھے چھپی← مزید پڑھیے
لویا تھن “Leviathan ” تھامس ہوبز (ایک مختصر تعارف)انگلش سیاسی اور اخلاقی ) فلسفے کے بانی تھامس ہوبز (1588ء تا 1679ء) نے تقریباً ہر موضوع پر قلم اٹھایا۔ نا صرف فلسفہ ، بلکہ مذہب ، ریاضی ، منطق ، نفسیات،← مزید پڑھیے
عام طورپر کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی تخلیق کار اپنے فن میں یکتا ہے تو اس کی ذاتی کمزوریوں اور عیوب کو نظرانداز کرنا چاہئے، مگر میں اس نظریہ سے متفق نہیں ہوں۔ کوئی اچھا فن کارتبھی بن سکتا← مزید پڑھیے
خالد جاوید صاحب کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں پروفیسر ہیں۔ موت کی کتاب ان کا مختصر ناول ہے جس کو پاکستان میں سٹی بک پوائنٹ نے شائع کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک← مزید پڑھیے