ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 23 )

الوداع/ڈاکٹر رحمت عزیز خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان ایک چائلڈ سپیشلسٹ ہیں، اس وقت سعودی عرب میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی امور، حالات حاضرہ، سیاست اور ادب میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ دور حاضر کے باطل افکار،←  مزید پڑھیے

شاعری نسل انسانی کی مادری زبان ہے/ناصر عباس نیّر

اٹھارویں صدی میں جارج ہمن ( Johann Georg Hamann(۱۷۳۰-۱۷۸۸)نام کے ایک جرمن فلسفی گزرے ہیں۔وہ ایما نوئیل کانٹ کے ہم عصر تھے،اور اس کے فلسفے کے نقاد بھی تھے۔وہ خدا،عیسیؑ ، عیسائیت، خیر وشر کے ساتھ حسن وسچائی کو جاننے←  مزید پڑھیے

فالتُو/تحریر-قراۃ العین حیدر

یہ ان دنوں کی بات تھی جب مجھے نوکری کرتے ہوئے چند ہی سال ہوئے تھے تب میری شاعری کی پہلی کتاب چھپی۔ میں کالج کے زمانے سے محبت کی نظمیں کہا کرتا تھا۔ ان دنوں محبت مجھ پر ایتھر←  مزید پڑھیے

شملہ کہانی(3)-محمد علم اللہ

بات چیت میں کانگریس کا ذکر بھی در آیا، وہ بولے ’کانگریس کی حکومت میں ایک ’ڈی جی پی‘ تھے۔ اس وقت یہاں ویربھدر چیف منسٹر تھے، ان سے میرے خاص تعلقات تھے۔ میں مسلمانوں کے لیے ان سے کام←  مزید پڑھیے

انیس سو چوراسی/مبشر حسن

“Nineteen Eighty-Four ” جارج آرویل جارج آرویل کی ضد یوٹوپیا ، ( جہاں ہر چیز خوفناک ہے ) ” انیس سو چوراسی کی منصوبہ بندی 1943ء میں یورپ کا آخری آدمی کے زیر عنوان ہوئی ۔ چنانچہ یہ اس کی←  مزید پڑھیے

کتاب : ایک اور آدمی/ مصنف : حسن منظر صاحب /تبصرہ : مسلم انصاری

اقتباسات سے ابتدا کرتے ہیں : “جس عورت کو کبھی حمل نہ ہوا ہو وہ اولاد کے لئے اتنا نہیں روتی ہے جتنا وہ جس کا حمل ضائع ہو گیا ہو!” “دنیا میں ہر کام کی فیس ہوتی ہے کام←  مزید پڑھیے

شملہ کہانی(2)-محمد علم اللہ

ان دنوں پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے درالحکومت شملہ کے مضافات سنجولی میں واقع ایک مسجد کو لیکر ہنگامہ بپا ہے۔ شملہ سفر کے دوران میں مسلمانوں سے متعلق میں نے کچھ معلومات اکٹھا کی تھیں۔ کچھ اقتباسات اپنے معزز←  مزید پڑھیے

ناول- ”Leady cheterly lovers“/عامر شہزاد ـــ 

ساٹھ کی دہائی میں جب  فروخت ہونیوالی    کتابوں کے اعداد و شمار  جمع کیے گئے تو اک سنسنی خیز نتیجہ سامنے آیا تھا۔ڈی ایچ لارنس کا ناول ”Leady cheterly lovers“ بائیبل سے زیادہ خریدا گیا تھا۔جس طرح مذہبی،سماجی،خاندانی اور←  مزید پڑھیے

شملہ کہانی(1)-محمد علم اللہ

ان دنوں پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے درالحکومت شملہ کے مضافات سنجولی میں واقع ایک مسجد کو لیکر ہنگامہ بپا ہے۔ شملہ سفر کے دوران میں مسلمانوں سے متعلق میں نے کچھ معلومات اکٹھا کی تھیں۔ کچھ اقتباسات اپنے معزز←  مزید پڑھیے

التوائے مرگ/راجہ قاسم محمود

حوزے ساراماگو پرتگالی ادیب تھے۔ جن کو ۱۹۹۸ میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ نوبیل انعام کے بعد بھی ساراماگو نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ناول لکھا جس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوا۔←  مزید پڑھیے

سیلون کے ساحل ۔ہند کے میدان( باب نمبر5 -الف)اپنے حصّے کا دیا جلائیں/سلمیٰ اعوان

پل کے ہزارویں حصے میں بھی لاریف ہادی اس بات کا تصور تک نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا بیٹا لبریشن ٹائیگرزاف تامل جیسی جنگ جُو اور دہشت گرد تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے۔ تنظیم کے بانی←  مزید پڑھیے

کتاب دی ٹرائل “The Trial” مختصر تعارف-فرانز کافکا/مبشر حسن

“لیکن میں بے قصور ہوں ۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ کوئی شخص قصور وار ہو ہی کیسے سکتا ہے؟ یقیناً یہاں ہم سب انسان ہیں ، ایک جیسے انسان ۔“ یہ بجا ہے، لیکن قصور واراکثر اسی طرح کی←  مزید پڑھیے

کلیاتِ سیّد ریاض حسین زیدی/انوار احمد

سید ریاض حسین زیدی ہمیں 1965 ۔67 ایمرسن کالج ملتان میں اردو اختیاری پڑھاتے تھے یہ کلاس 70 سے زائد طالب علموں پر مشتمل تھی جس میں روف شیخ ، خالد شیرازی، شاہد زبیر تھے ، تب طالب علموں کو←  مزید پڑھیے

سر سید کی بگیا میں/ محمد علم اللہ

سرسید احمد خاں کے خوابوں کے مرکز ”مدرسۃ العلوم “یا ”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ کا یہ میرا پہلا سفر نہیں تھا لیکن تن تنہا، آزاد اور اپنی مرضی سے یہ علی گڑھ کا میرا پہلا دورہ تھا۔ میرا اس سے←  مزید پڑھیے

کتاب “The Second Sex” کا ایک مختصر تعارف/مبشر حسن

سیمون دی بووار کی “دی سیکنڈ سیکس” مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب فیمینزم اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب میں دی بووار نے خواتین کی سماجی حیثیت، تاریخ، اور ان کے ساتھ ہونے←  مزید پڑھیے

محمد نصیر زندہ، رباعی کے استاد شاعر…. راجا شاہد رشید

سبز ہلالی پرچم لہرانے اور آزادی کے گیت گانے کے ان پابند اگست موسموں میں ماتم و سوگ سا سماں ہے ، چہار سو دٍل دٍل پاکستان کی نہیں بلکہ بٍل بٍل پاکستان کی صدائیں ہیں ، یہ ظلم کی←  مزید پڑھیے

ملن کے گیت/سیّد محمد زاہد

سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم تھا کہ دیودار اور صنوبر کے درختوں←  مزید پڑھیے

مِتَّر/شاہین کمال

شادی کے بعد سے ہمارا یہ معمول رہا تھا کہ مہینے میں ایک اتوار رات کھانا باہر کھایا جاتا. اس تسلسل میں بچوں کی آمد کے بعد کبھی ان کی نا سازی طبع تو کبھی کسی اور سبب متعدد بار←  مزید پڑھیے

جہاں نور ہی نور تھا : حج کا سفر نامہ /تعارف و تبصرہ : شکیل رشید

معروف صحافی معصوم مرادآبادی کے سفرِ حج کی روداد ’ جہاں نور ہی نور تھا ‘ کے مطالعہ نے مجھے تین طرح سے متاثر کیا ، ایک تو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت←  مزید پڑھیے

عزتیں قبروں سے زیادہ محترم ہیں/محمد فیصل

وہ دِلی کی حویلی سے نکلنے والا اپنے خاندان کا آخری شخص تھا۔ یہیں اس نے آنکھ کھولی تھی۔ اسی حویلی کے صحن سے اس نے اپنے باپ کا جنازہ بھی اٹھایا تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا←  مزید پڑھیے