ڈاکٹر رضوان اسد خان ایک چائلڈ سپیشلسٹ ہیں، اس وقت سعودی عرب میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی امور، حالات حاضرہ، سیاست اور ادب میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ دور حاضر کے باطل افکار،← مزید پڑھیے
اٹھارویں صدی میں جارج ہمن ( Johann Georg Hamann(۱۷۳۰-۱۷۸۸)نام کے ایک جرمن فلسفی گزرے ہیں۔وہ ایما نوئیل کانٹ کے ہم عصر تھے،اور اس کے فلسفے کے نقاد بھی تھے۔وہ خدا،عیسیؑ ، عیسائیت، خیر وشر کے ساتھ حسن وسچائی کو جاننے← مزید پڑھیے
یہ ان دنوں کی بات تھی جب مجھے نوکری کرتے ہوئے چند ہی سال ہوئے تھے تب میری شاعری کی پہلی کتاب چھپی۔ میں کالج کے زمانے سے محبت کی نظمیں کہا کرتا تھا۔ ان دنوں محبت مجھ پر ایتھر← مزید پڑھیے
بات چیت میں کانگریس کا ذکر بھی در آیا، وہ بولے ’کانگریس کی حکومت میں ایک ’ڈی جی پی‘ تھے۔ اس وقت یہاں ویربھدر چیف منسٹر تھے، ان سے میرے خاص تعلقات تھے۔ میں مسلمانوں کے لیے ان سے کام← مزید پڑھیے
“Nineteen Eighty-Four ” جارج آرویل جارج آرویل کی ضد یوٹوپیا ، ( جہاں ہر چیز خوفناک ہے ) ” انیس سو چوراسی کی منصوبہ بندی 1943ء میں یورپ کا آخری آدمی کے زیر عنوان ہوئی ۔ چنانچہ یہ اس کی← مزید پڑھیے
اقتباسات سے ابتدا کرتے ہیں : “جس عورت کو کبھی حمل نہ ہوا ہو وہ اولاد کے لئے اتنا نہیں روتی ہے جتنا وہ جس کا حمل ضائع ہو گیا ہو!” “دنیا میں ہر کام کی فیس ہوتی ہے کام← مزید پڑھیے
ان دنوں پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے درالحکومت شملہ کے مضافات سنجولی میں واقع ایک مسجد کو لیکر ہنگامہ بپا ہے۔ شملہ سفر کے دوران میں مسلمانوں سے متعلق میں نے کچھ معلومات اکٹھا کی تھیں۔ کچھ اقتباسات اپنے معزز← مزید پڑھیے
ساٹھ کی دہائی میں جب فروخت ہونیوالی کتابوں کے اعداد و شمار جمع کیے گئے تو اک سنسنی خیز نتیجہ سامنے آیا تھا۔ڈی ایچ لارنس کا ناول ”Leady cheterly lovers“ بائیبل سے زیادہ خریدا گیا تھا۔جس طرح مذہبی،سماجی،خاندانی اور← مزید پڑھیے
ان دنوں پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے درالحکومت شملہ کے مضافات سنجولی میں واقع ایک مسجد کو لیکر ہنگامہ بپا ہے۔ شملہ سفر کے دوران میں مسلمانوں سے متعلق میں نے کچھ معلومات اکٹھا کی تھیں۔ کچھ اقتباسات اپنے معزز← مزید پڑھیے
حوزے ساراماگو پرتگالی ادیب تھے۔ جن کو ۱۹۹۸ میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ نوبیل انعام کے بعد بھی ساراماگو نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ناول لکھا جس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوا۔← مزید پڑھیے
پل کے ہزارویں حصے میں بھی لاریف ہادی اس بات کا تصور تک نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا بیٹا لبریشن ٹائیگرزاف تامل جیسی جنگ جُو اور دہشت گرد تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے۔ تنظیم کے بانی← مزید پڑھیے
“لیکن میں بے قصور ہوں ۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ کوئی شخص قصور وار ہو ہی کیسے سکتا ہے؟ یقیناً یہاں ہم سب انسان ہیں ، ایک جیسے انسان ۔“ یہ بجا ہے، لیکن قصور واراکثر اسی طرح کی← مزید پڑھیے
سید ریاض حسین زیدی ہمیں 1965 ۔67 ایمرسن کالج ملتان میں اردو اختیاری پڑھاتے تھے یہ کلاس 70 سے زائد طالب علموں پر مشتمل تھی جس میں روف شیخ ، خالد شیرازی، شاہد زبیر تھے ، تب طالب علموں کو← مزید پڑھیے
سرسید احمد خاں کے خوابوں کے مرکز ”مدرسۃ العلوم “یا ”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ کا یہ میرا پہلا سفر نہیں تھا لیکن تن تنہا، آزاد اور اپنی مرضی سے یہ علی گڑھ کا میرا پہلا دورہ تھا۔ میرا اس سے← مزید پڑھیے
سیمون دی بووار کی “دی سیکنڈ سیکس” مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب فیمینزم اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب میں دی بووار نے خواتین کی سماجی حیثیت، تاریخ، اور ان کے ساتھ ہونے← مزید پڑھیے
سبز ہلالی پرچم لہرانے اور آزادی کے گیت گانے کے ان پابند اگست موسموں میں ماتم و سوگ سا سماں ہے ، چہار سو دٍل دٍل پاکستان کی نہیں بلکہ بٍل بٍل پاکستان کی صدائیں ہیں ، یہ ظلم کی← مزید پڑھیے
سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم تھا کہ دیودار اور صنوبر کے درختوں← مزید پڑھیے
شادی کے بعد سے ہمارا یہ معمول رہا تھا کہ مہینے میں ایک اتوار رات کھانا باہر کھایا جاتا. اس تسلسل میں بچوں کی آمد کے بعد کبھی ان کی نا سازی طبع تو کبھی کسی اور سبب متعدد بار← مزید پڑھیے
معروف صحافی معصوم مرادآبادی کے سفرِ حج کی روداد ’ جہاں نور ہی نور تھا ‘ کے مطالعہ نے مجھے تین طرح سے متاثر کیا ، ایک تو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت← مزید پڑھیے
وہ دِلی کی حویلی سے نکلنے والا اپنے خاندان کا آخری شخص تھا۔ یہیں اس نے آنکھ کھولی تھی۔ اسی حویلی کے صحن سے اس نے اپنے باپ کا جنازہ بھی اٹھایا تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا← مزید پڑھیے