15 اگست سے قبل ہی نگاہوں میں اجنبیت آ گئی تھی ۔ زندگی امتحان لیتی ہے تو اخلاقی اورانسانی قدریں اور مذہبی رواداری ہمسائیگی اور شناسائی کےدعوے ۔۔یہ سہارے یہ سوت کے دھاگے ۔۔۔ ایک جھٹکے سے ٹوٹ جاتے ہیں(جانثار← مزید پڑھیے
موبائل فون جب سے اس دنیاء بے دین و ایماں میں جلوہ افروز ہوا ہے،اس نے شریفوں سمیت بدمعاشوں کی بھی نیندیں حرام کرکے رکھ دی ہیں۔اگر آپ غلطی سے فون میں فیس بک میسنجر یا وٹس ایپ ڈاؤن لوڈ← مزید پڑھیے
سنہالی کہانی مصنف : ٹیسا ایبے سیکارا ترجمہ: مبین مرزا 7 مارچ 1996ء کی ایک شام میں یہ جھٹپٹے کا سماں تھا، سُورج لیکن اب تک اسی طرح سالم اور نارنجی نظر آرہا تھا جیسا وہ نومبر سے فروری تک← مزید پڑھیے
منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں← مزید پڑھیے
(کہانی مولوی مقصود کی ، جو عقد ثانی کا مُنکر تھا) اے حاتم سنو !!! میں چک نمبر 73 جنوبی کا امام مسجد تھا- علاقے بھر میں میرے جیسا خطیب کوئی نہ تھا- اسلامی دنیا کے مسائل پر میری ہمیشہ← مزید پڑھیے
ہم شاپنگ وغیرہ کرنے پر تو قطعی طور پر ایمان نہیں رکھتے کیونکہ یہ ایک کار بے کارہے اور اگر کارآمد ہے بھی تو کار نسواں ہے، کار مرداں تو یہ کسی طور ہے ہی نہیں- مگر یہ کمینہ خصلت← مزید پڑھیے
کُبڑا داؤد(فارسی سے ترجمہ) مصنف : صادق ہدایت مترجم : ح ر مہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ، نہیں میں یہ کام ہر گز نہیں کروں گا ، اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں ۔ دوسروں کے لئے خوشی کا باعث← مزید پڑھیے
اس لمبی سی کالی شے کو سڑک کہتے ہیں۔ جو انسانوں کو ادھر ادھر لیجانے کے کام آتی ہے۔ پتھروں کو باقاعدہ کوٹ کر اور ان پر کول تارکی تہہ چڑھا کر موجودہ شکل میں سڑک بنانے کا آغاز بیسویں← مزید پڑھیے
اور پھر جس شخص کو آنند اپنے ساتھ لے کر بُدھّ کی خدمت میں پہنچا اُس کا حلیہ مختلف تھا سر پہ لمبے بال تھے، ہاتھوں میں کنگن اور کانوں میں جھمکتی بالیاں تھیں صنفِ نازک کی طرح ۔۔ پر← مزید پڑھیے
قصّہ حاتم طائی جدید 2— ظفرجی حاتم نعرے مارتا ہوا اس بزرگ سے رخصت ہوا اور سرگودھا کی راہ پکڑی- سو ،دو سو کوس ہچکولے کھانے کے بعد اس نے ٹکٹ فروش سے اخلاقاً دریافت کیا: " اے اس بدبخت← مزید پڑھیے
ظفر جی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔۔ان کی تحریر آپ کو ایک ہی وقت میں رونے اور ہنسنے پر مجبور کردیتی ہے۔کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردینے والی آفاقی سیریل ” قصّہ حاتم طائی جدید “کو← مزید پڑھیے
مون سون کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف گھٹائیں بادل اوربارش ہو گی۔ اردو میں لکھے “مون سون” کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کریں تو لگے گا کہ اسکا مطلب ہے ،”جلدی کا چاند”۔فہم لیکن پیہم مزاحم ہے کہ← مزید پڑھیے
جنت دوزخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فکشن) ۔ قسط3 میں مرچکا تھا۔ میری روح عالمِ برزخ میں محوِ پرواز تھی۔ ایک شام جب میں جنت دوزخ کی درمیانی سرحد کی فضاؤں میں تیر رہا تھا تو اچانک میری نظر نیچے ایک ہجوم پر← مزید پڑھیے
“آپ کو لوگ پہچان لیتے ہیں۔” میری بیوی اکثر یہ کہتی ہے۔ سچ کہ راستہ چلتے لوگ مجھے روک لیتے ہیں۔ کبھی میری کہانی کی تعریف کرتے ہیں۔ کبھی کسی فیس بک پوسٹ کو سراہتے ہیں۔ کبھی سیلفی کی فرمائش← مزید پڑھیے
یہ جو ہم”ہاں”کہتے ہیں نا،یہ کئی طرح کی ہوتی ہیں۔۔مثال کے طور پر اگر کوئی پوچھے کھانا کھاؤ گے ؟ تو عزیز ہموطنوں کا جواب ہوگا “ہاں”.یہ اثباتی ہاں ہے۔ اسی طور اگر سوال ہو کہ مفتی پوپلزئی صاحب پاکستان← مزید پڑھیے
خود نوشت” میں کون ہوں اے ہم نفسو۔۔۔”کا دوسرا باب پدرم سلطان بود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدخان خالص یوسف زی پٹھان تھے جو افغانستان سے آئے تھے اوربستی انہی کے نام پر محمد پور ہوئی ،ان کی تعمیر کردہ سرمی پتھروں کی← مزید پڑھیے
فیس بک پر تھا کہ ایک پیغام موصول ہوا، کوئی انعام رانا تھا، پیغام کیا تھا، ایک عرضی تھی محبت کے آٹے میں سلیقے سے گوندھی ہوئی، پڑھا، لکھا تھا “آپ مکالمہ کے لیے لکھیں، عزت افزائی ہو گی”۔ سوچا← مزید پڑھیے
کچھ نیم خواندہ نوجوان مسکرا رہے تھے۔ ان کی ہنسی سے طنز و استہزا صاف جھلک رہا تھا۔ ان کی بلا سے اگر ایک درخت کو اس ویرانے سے کاٹ دیا جائے۔ چاہے یہ درخت باغ کا سب سے تناور← مزید پڑھیے
جنت دوزخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فکشن) ۔ قسط 2 اس سے پہلے کہ مارک کچھ بولتا، جنت کی ایک سمت سے زور زور سے ڈھول اور باجوں گاجوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ سب مڑ کر اس جانب دیکھتے ہیں۔ ایک سفید← مزید پڑھیے
“مکالمہ” اک دن میں نے فرشتوں سے، جو مرے کندھوں پر بیٹھے رہتے ہیں، کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اک دوسرے سے مشورہ کر کے نیچے اتر آئے۔ “میں بھی آپ دونوں کی طرح رائیٹر ہوں”۔← مزید پڑھیے