قصہ حاتم طائی جدید۔قسط1

ظفر جی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔۔ان کی تحریر آپ کو ایک ہی وقت میں رونے اور ہنسنے پر مجبور کردیتی ہے۔کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردینے والی آفاقی سیریل ” قصّہ حاتم طائی جدید “کو مکالمہ آپ قارئین کے لیئے سلسلہ وار تحریر کی شکل میں پیش کر رہا ہے۔اس سلسلہ کی پہلی قسط آپ قارئین کی نذر ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قصّہ حاتم طائی جدید۔۔۔۔ قسط 1

حاتم جنگلوں اور صحراؤں میں مارا مارا پھر رہا تھا-
شہزادی حسن بانو کے تازہ سوال نے اسے دربدر کر کے رکھ دیا تھا- سوال اتنا مشکل تھا کہ اگر بورڈ کے امتحان میں پوچھا جاتا تو 80 فیصد طلباء یقیناً فیل ہو جاتے-
“اس مولوی کی خبر لاؤ جو یہ کہتا ہے ، مافی مافی مافی ۔۔۔ شادی ایک ہی کافی”۔۔
پچھلے دوماہ سے وہ مختلف مکاتب فکر کے دوسو مولویان کا پلڈاٹ سروے کر چکا تھا- اگرچہ ان مولویان کا آپس میں چھینکنے پر بھی اختلاف تھا لیکن مسئلہ تعدد ازواج پر سب کے سب متفق علیہ تھے۔
سو اس بار واقعی شہزادی نے حاتم کو سپلی دلانے کا تہیہ کر رکھا تھا-
چلتے چلتے حاتم ایک لق و دق جنگل میں جا پہنچا- چہار سو جس کے ہو کا عالم تھا- اس نے ایک درخت سے مسواک توڑنے کا فیصلہ کیا-ناگاہ نظر اس کی ایک عبارت پر پڑی ، جو ایک درخت پر کندہ تھی۔

” یہ چھانگا مانگا کا وہ طلسمی جنگل ہے ، جہاں کبھی ہارس ٹریڈنگ کے خفیہ میلے لگتے تھے- یہاں کی لکڑی سرکاری چوروں کے سوا کوئی نہیں کاٹ سکتا- جو بھی ایسا کرےگا …اندھا ہو جائے گا”۔۔۔۔۔
حاتم نے فوراً مسواک کا ارادہ ترک کیا اور دانتوں میں ماچس کی تیلی مارتا ہوا آگے بڑھ گیا-
ابھی وہ سو دو سو کوس ہی چلا ہوگا کہ اس نے ایک پیرِ فرتوت کو ایک توت کے نیچے آرام کرتے دیکھا- حاتم اس درویش کی قدم بوسی کو جھکا ہی تھا کہ ناگاہ وہ بزرگ ہڑبڑا کر اٹھا اور عالم پریشانی سے کہا۔
“ایتھے میری سیکل سی ۔۔۔ تے چمڑے دا بیگ؟؟”

حاتم کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے انتہائی میسنی سی صورت بنا کر کہا۔۔
” قسم ان طہارت پسند پادشاہوں کی جو مانجھ مانجھ کر سرکاری خزانے کی صفائی کرتے ہیں۔۔۔ اس فقیر نے نہ تو آپ کی سائیکل دیکھی۔۔۔ نہ ہی چرمی بیگ ۔۔۔ شاید مجھ سے پہلے ہی یہ اسباب کوئی لپیٹ چکا تھا۔۔۔ فقیر ایسے شاندار مواقع پر اکثر لیٹ ہو جاتا ہے”۔

یہ سن کر پیر فرتوت نے ایک سرد آہ بھری اور گویا ہوئے۔۔۔
” دنیا بے ثبات ہے۔۔۔ اور اسباب اس کے عارضی ۔۔۔۔سو راہ لِلّہ معاف کرتا ہوں میں نے بھی یہ سامان ایک سرکاری اسکول سے ہی چُرایا تھا۔۔۔”
حاتم نے کہا”بے شک یہ ملک ایک جنگل ہے اور آپ جیسے بزرگوں نے ہی اسے منگل بنا رکھا ہے- آپ ہی کی برکات سے یہاں شیر، چیتے، بھیڑیے ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔۔۔۔”
وہ بزرگ اس تعریف پر پھولے نہ سمائے اور کہا:
” مانگ کیا مانگتا ہے۔۔۔ اس دلّق پوش کے پاس کونسلرز سے لے کر ایم پی اے تک سب کے فون نمبر ہیں”
حاتم نے کہا:
اے بزرگِ نیک طینت۔۔۔۔۔ مجھے تو بس اپنے کام سے غرض ہے ۔۔۔ جلال پور جٹاں کا شہزادہ منیر شامی اسلام آباد سیکٹر ڈی کی شہزادی حسن بانو پر فریفتہ ہے- شہزادی نے شہزادے کی دماغی حالت جانچنے کےلئے سات سوالات کا ایک پرچہ بنوایا ہے- منیر شامی نے اخبارات میں اس کا ٹینڈر دیا تو قرعہ اس فقیر کے نام نکلا- سو بارے پہلے سوال کے تلاش ہے اس مولوی کی جو عقدِ ثانی کا مُنکر ہو اور جنگلوں جنگلوں یہ صدا لگاتا ہو ۔۔۔۔ کہ ایک بار گھوڑی پر چڑھا ہوں ۔۔۔ دوسری بار چڑھنے کی ہمت نہیں”۔۔۔۔
یہ سن کر بزرگ نے تین بار پھونک ماری اور اپنا چشمہ صاف کرتے ہوئے بولے:
” اے حاتم ! انسان خطاء کار ہے اور چرخ ، فلک ، عورت اس کے ازلی دشمن- اگرچہ یہاں ہر شخص بیگم گزیدہ ہے لیکن میں تجھے سیاسی رستہ ہی بتاؤں گا- سو اگر تُو ذات کا پٹواری ہے تو داستانِ بنی گالا سنا کر شہزادی کے سامنے سرخرو ہو جا اور اگر انصافی ہے تو داستانِ صفدری سے استفادہ کر کہ اس میں بہتوں کی عبرت کا سامان ہے-

حاتم نے کہا” یہ بندہء پر تقصیر”،”منصورہ” سے بیعت ہے ، نہ اِدھر کا ہے نہ اُدھر کا- ویسے بھی شہزادی کے سامنے سیاسی جواب دینا” آ گائے مجھے مار” والی بات ہے- اگر شہزادی خود انصافی نکلی تو اس غریب کی گردن مفت میں ماری جائے گی-
( نکالنا اس بزرگ کا جیب سے آئی فون فائیو اور سمجھانا گوگل ارتھ سے اس”مولوی بیزار زوجہ ثانی”کا مکمل ایڈریس جو ضلع سرگودھا ، چک نمبر 73جنوبی کے شمال میں رہتا تھا !!!!
( جاری ہے)

Avatar
ظفرجی
جب تحریر پڑھ کر آپ کی ایک آنکھ روئے اور دوسری ھنسے تو سمجھ لیں یہ ظفرجی کی تحریر ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”قصہ حاتم طائی جدید۔قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *