مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 4۔ لالہ صحرائی

پـروٹوکـول

جزو ثانی :  پرچہ ترکیب استعمال

تحــــــریــر  :  لالہ صحـــــرائی

جذباتی رویئے پر ایک نظر:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہمارے لوگوں کے مزاج کچھ ایسے ہیں کہ جب عقیدت کرتے ہیں تو انتہا درجے کی اور جب مخالفت کرتے ہیں تو وہ بھی انتہا درجے کی، اس رویئے کے پیچھے معاملات کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنے کی بجائے ذاتی پسند اور ناپسند کو حق سچ ثابت کرنے کا جذبہ زیادہ کار فرما ہوتا ہے، اس جذبے کو ری۔شیپ کرنے کی سخت ضرورت ہے

ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں جاری خاندانی اور طبقاتی عقائد کا ہمارے ذہنوں پر بہت گہرا اثر موجود ھے جس کے تحت ہم لوگ شریعت کی منشا پر چلنے کی بجائے زیادہ تر اپنے طبقاتی جھنڈے بلند کرنے کو دینی خدمت سمجھتے ہیں، جہاں کہیں سے اپنے عقیدے سے مِیل کھاتی گفتگو یا دلیل نظر آئے اس پر لٹو ہو جاتے ہیں اور جہاں کہیں مخالفت میں دلیل نظر آ جائے اس کا محاسبہ کرنے کے لئے شدت پر اتر آ تے ہیں

میں ایک بار خود بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہوا تھا جب مجھے کلام اقبال سے والہانہ عقیدت تھی، لاہور کے معروف دانشور شاعر شریف کنجاہی صاحب نے ایک ٹیوی انٹرویو میں علامہ اقبال کے روحانی سفر زندہ رُود کو تخیلاتی سفر قرار دیا تھا جس میں وہ پیر رومی کے ساتھ عالم بالا کی سیر کو جاتے ہیں، مجھے اس بات پر شدید تاؤ چڑھا کہ اس سفر کو حقیقی سفر کی بجائے تخیلاتی کیوں کہا گیا ہے

اپنے دوستوں کے دائرہ کار میں ہم سب اس بات پر متفق تھے کہ علامہ صاحب نے پیر رومی کی راہبری میں جو افلاک کا سفر کیا ھے، وہ خیال کی بجائے ایک حقیقت ھے کیونکہ تصوف میں افلاک کا سفر ایک باقائدہ رجحان ھے

اگر اس سفر کو دانتے کی ڈیوائین کامیڈی کا ریپلیکا سمجھ لیا جائے تو پھر اس کہانی میں مولانا روم کی پوزیشن کیا ہوگی اور جنت دوزخ کا جو بیان ھے، ٹیپو سلطان سے جنت میں ملاقات کا تزکرہ کیا گیا ھے اسے کیا نام دیں گے، خود کلامی یا افتراء…؟؟

پھر یہ کہ علامہ صاحب جیسے فلاسفر کا کسی بزرگ کو لے کر ایک فرضی کہانی بیان کرنا کس حد تک درست طرز عمل ھے؟

ایک فرضی کہانی میں اگر بزرگوں اور مشاہیر کا نام ہمسفر کی حیثیت سے استعمال کیا جائے تو یہ افتراء کے زمرے میں کیونکر نہیں آئے گا؟

کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ میں علامہ صاحب کے ساتھ ایک ایسا سفر نامہ لکھ دوں؟

کنجاہی صاحب کو خط لکھنے سے پہلے میں نے یہ آرگومنٹس اپنے اردو کے استاد محترم کو دکھائے جن سے مجھے حمائیت کی توقع تھی لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا، انہوں نے الٹا میرے آرگومنٹس کو کنجاہی صاحب کے حق میں ریشنالائیز کر دیا

استاد صاحب کا کہنا تھا کہ اگر اس کلام کو تخیلاتی سفر کہا جائے تو بھی اس کی معنویت میں کوئی کجی نہیں آتی، تصوف، گیان اور ویژن کے تحت جو بات بھی بیان کی جائے وہ ضروری نہیں کہ کسی ٹائیم لائن پر حقیقی طور پر وقوع پزیر بھی رہی ہو

اصل بات کسی کہانی یا شاعری کا ویژنری پیغام ہوتا ھے جس میں دیکھنے کی بات صرف یہ ہوگی کہ اسے کسی درجے میں مشعل راہ بنایا جا سکتا ھے یا نہیں؟

جہاں ایک طرف ہم شاعر کو زیب داستاں کے لئے شاعرانہ مبالغہ آرائی کا حق دیتے ہیں وہاں اپنے لئے بھی اس بات کا حق محفوظ رکھتے ہیں کہ صوفیانہ شاعری کو حرف بحرف حق ماننے کی بجائے صرف اس کے حاصل کلام کو مشعل راہ کی حیثیت دی جائے کیونکہ جب ہم حرف بحرف کسی بات کو لاگو کرنے چلیں گے تو بہت سے مقامات پر حقیقت اور نظریئے میں تفاوت کا سماں پیدا ہو جائے گا

ہمارے لئے کوڈ آف کنڈکٹ کی حیثیت سے بنیادی پاتھ وے اسلامی تعلیمات ہیں لیکن دین کی طرف راغب کرنے کے لئے شرعی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اگر کسی تخیلاتی بیان، حکمت، حکایت، وعظ یا شاعری کی ضرورت ہو تو اسے نیریٹیو کے طور پر یا دعوت فکر کے طور پر اختیار تو کیا جا سکتا ھے لیکن اس سلسلے میں یہ ضد روا نہیں ہونی چاہئے کہ بیان شدہ نیریٹیوو یا دعوت فکر کسی طرح سے حقیقی واقعہ ھے یا لازمی حجت ھے، ایسے  نیریٹیوو کو حقیقی بات کہہ کر لاگو کرنا یا تخیلاتی بات کہہ کر رد کرنا، دونوں ہی رویے مناسب نہیں بلکہ مطمع نظر اس کے حاصل کلام پر مرکوز ہونا چاہئے

نظریاتی معاملات کی تفہیم کے سلسلے میں یہ میری پہلی اور آخری جذباتی کیفیت تھی اس کے بعد میں نے ہر پسندیدہ بات کو بھی ایک بار تنقیدی نگاہ سے ضرور دیکھا ہے جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اپنا کوئی نظریہ طے کرنے سے پہلے امیچور آرگومنٹس کو آپ خود ہی ترک کر دیتے ہیں اور دوران گفتگو میچور نقطہ نظر نظر پیش کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں

وجد، تواجد اور تصوف:

                            ********************

مولانا رومی علیہ رحمۃ اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ

؎ مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم

      تا غلام شمس تبریزی نہ شد

مولوی کبھی بھی مولانا روم نہ بنتا اگر شمس تبریز کی غلامی میں نہ آتا، یہ ان کی نگاہ کا کمال تھا کہ مجھے اس مقام تک پہنچا دیا

بے شک مولانا روم نے ایسا کہا ھے بلکہ مثنوی میں وہ جابجا یہ کہتے ھیں کہ شمس تبریز سے پوچھو، کسی صاحب نظر سے ملو، اہل اللہ سے پوچھو، کسی ولی اللہ کے ہاتھ میں اپنا آپ دو، اس طرح کے بے شمار مضامین مثنوی میں موجود ہیں

مولانا رومی کی ان باتوں کو لے کر ہمارے طبقات میں ایسا پرچار بھی ہوتا ہے کہ فٹا فٹ کہیں کسی سلسلے میں فٹ ہو جاؤ ورنہ سب کچھ بیکار ہے، دین پر چلنا کچھ معنی نہیں رکھتا جب تک کسی اللہ والے کا ساتھ نہ ہو لیکن شمس تبریز جیسے ولی اللہ اب کہاں ملتے ہیں، کہنے کو تو سبھی کہتے ہیں کہ وہ شریعت کے پاسدار ہیں لیکن اندر خانے کیا کچھ بھرا ہوتا ھے وہ سادہ سمجھ سے پتا نہیں چلتا جب تک کہ شریعت کے آئینے میں نہ دیکھیں اور جب انہیں شریعت کے آئینے میں دیکھیں تو مروجہ تصوف کے قرطاس پر ایسا بہت کچھ براجمان ہے جو شریعت مطہرہ سے نہ صرف متصادم ہے بلکہ ۱۸۰ ڈگری الٹ ہے، اس ہنگام سے بچنے کی شدید احتیاج ہے

میں نے دوسری قسط اپنی ذاتی تلاش پر لکھی تھی جس میں بہت سے اولیاء اکرام سے ملا ہوں جو صاحب کشف و کرامت بھی تھے لیکن جب انہیں شریعت کے آئینے میں دیکھا تو واپس چلا آیا، وہ قسط میں نے طوالت کی وجہ سے ڈیلیٹ کر دی ہے

کہنے کی بات صرف اتنی ہے کہ مثنوی کے سحر بیان اور وجد آفرین مضامین سے متاثر ہو کر انسان اگر حق کی طرف چل پڑے تو عین مقصودِ وجد یہی منزل ھے لیکن وجد اگر خام ہو تو انسان کسی غیر معتبر منزل کی طرف بھی نکل سکتا ھے، خام وجد خام خیالی سے پیدا ہوتا ھے اور خام خیالی کم علمی اور مروجہ غیر ضروری عقیدوں سے پیدا ہوتی ھے

اس خام وجد یا تواجد سے بچنے کے لئے انسان کا ایمان کے بنیادی تقاضوں پر اعتقاد غیر متزلزل اور مضبوط ہونا چاہئے ورنہ انسان کا ایمان محض کسی ایک شعبدے کی مار ھے، کسی ایک کرامت کے قدموں پر ڈھیر ہو کر ساری ساری عمر لوگ خدا کو بھول کر تصوف کے اسٹیک ہولڈرز کی دہلیزیں چومتے ہوئے گزار دیتے ہیں

؎ ایسے خام اذہان کو مثنوی سنانا سونے کی دیگ میں شلجم پکانے کے مترادف ھے

بندے کو کنٹرول کرنے کےلئے آج کے متصوفین ایسے ایسے تواجد پسند ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں کہ بندہ ان کے حصار سے پھر نکل نہیں سکتا، اس کےلئے حکایات کا سہارا لیا جاتا ھے، حاجت روائی کر کے دکھائی جاتی ہے، بزرگوں کے اقوال کو مس-یوز کرکے لوگوں کو ٹریپ کیا جاتا ھے اور غلام بنا کے رکھا جاتا ہے

مولانا روم اس صورتحال سے خود بھی آگاہ ہیں اسی لئے انہوں نے مثنوی کے ابتدائی چیپٹرز میں خود بھی اس بات کو موضوع بنایا اور اپنے پڑھنے سننے والوں کو کھرے کھوٹے کی تمیز رکھنے کا سبق بہت واضع الفاظ میں دیا ھے

جعلی تصوف پر مولانا رومیؒ کی تنقید:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تواجد پسند متصوفین پر تنقید کرتے ہوئے خود مولانا رومی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:۔

“چونکہ بہت سے شیطان انسانی چہرے جیسے ہیں، اس لئے ہر ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ پکڑانا چاہئے، شکاری پرندے جیسی آواز اس لئے نکالتا ہے تاکہ وہ پرندے کو دھوکہ دے سکے، وہ پرندہ اپنے ہم جنس کی آواز سمجھ کر فضا سے زمین پر اترتا ہے تو جال اور ڈنک پاتا ہے، اسی طرح کمینہ آدمی فقراء کے کلمات چرا لیتا ہے تاکہ وہ کسی بھولے بھالے پر منتر پڑھے، مردوں کا کام روشنی اور گرمی پہنچانا ہے جبکہ کمینوں کا کام دھوکہ دینا اور بے شرمی ہے، یہ لوگ اپنی گداگری، یعنی مال اور نام کمانے کے لئے، اون کا شیر بناتے ہیں، ایسے لوگوں کی مثال ایسی ہے جو مسیلمہ کذاب کو احمد کا لقب دیں جبکہ مسیلمہ کا لقب کذاب رہا ہے اور سیدنا محمد ﷺ کا لقب “صاحب عقل” رہا ہے،  شراب حق کی مہر خالص مشک کی ہوتی ہے اور دنیاوی شراب کی مہر گندگی اور عذاب ہے”

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:-

“کھوٹا سونا اور کھرا سونا، کسوٹی پر پرکھے بنا ہرگز قابل اعتبار نہیں، خدا جس کے دل میں کسوٹی رکھ دیتا ہے بلاشبہ وہ یقین کو شک سے جدا کر لیتا ہے، وہ جو سیدنا مصطفیٰ کریم (صل اللہ علیہ  وآلہ وسلم ) نے فرمایا ہے کہ “اپنے دل سے فتویٰ پوچھ” اس بات کو وہی سمجھتا ہے جو وفاداری سے پُر ہے، زندہ کے منہ میں اگر تنکا گر جائے تو اس کو چین اسی وقت آتا ہے جب اس کو باہر نکال دے، ہزاروں لقموں میں جب ایک چھوٹا سا تنکا آیا تو زندہ کی حس نے اس کا پتا لگا لیا”

یہاں زندہ سے مراد وہ ھے جو شریعت کو جانتا ھے، جب اس کے سامنے غیر شرعی فعل ہو گا وہ فوراً تنکے کو پہچان جائے گا لیکن جو شریعت سے بے بہرہ ہوں گے وہ مردے کی مانند ہیں انہیں اس تنکے یعنی غیر شرعی فعل کی خبر نہیں ہو گی وہ بزرگ کی کشف و کرامت سے ایک بار مرعوب ہر کر ہر نوالہ مقدس سمجھ کر نگلتے رہیں گے

—————

تصوف و طریقت اصل میں کیا ھے، یہ کب سے شروع ہوا، کیوں شروع ہوا، اسے قرانی نصوص اور احادیث مبارکہ کی سپورٹ حاصل ھے یا نہیں، ان موضوعات پر یہاں کوئی بحث مقصود نہیں کیونکہ اس فیلڈ کے حق میں اور اس کے رد میں بے شمار کتب موجود ہیں

میرے نزدیک ایسا ھے کہ جو کچھ اللہ و رسولﷺ نے فرما دیا اس کے مخالف میں کسی چیز کو ایمان کا حصہ نہیں مانتا اور نہ ہی قابل عمل سمجھتا ہوں، سب سے پہلے اللہ و رسولﷺ کا فرمایا ہوا مقدس و مقدم ھے لیکن اگر کوئی معاملات دینوی کی کوئی تشریحی صورت بیان کرتا ھے، کسی طرح سے بھولے بھٹکے انسان کو کہانیاں سنا کر دین کے قریب لانے کی کوشش کرتا ھے اور اس سلسلے میں سیلف۔لیس خدمات انجام دیتا ھے تو میرے لئے وہ قابل قبول بھی ھے اور قابل احترام بھی ھے

جو متصوفین یہ کہتے ہیں کہ شریعت ایک ظاہری چیز ھے اور اس کا جوہر تصوف ھے جو ایک سپیرئیر چیز ھے جس کے بغیر دین کے ثمرات کا حصول ممکن نہیں تو ان کی یہ بات مجھے قابل قبول نہیں، میں اللہ و رسول ﷺ کے فرمائے ہوئے پر کسی چیز اور کسی فرد کی رتی برابر فوقیت بھی نہیں مانتا، میرا یہ ماننا ھے کہ اولیاء اکرام تصوف کی وجہ سے بزرگ نہیں تھے بلکہ شریعت کی پاسداری کرکے بزرگ ہوئے ہیں، کوئی بیانیہ، کوئی تبلیغی کوشش، کوئی تربیتی کوشش، کوئی دبستان دین مبین اور شریعت مطہرہ کا طفیلی یا خدمت گار اور دین کا نیریٹیوو تو ہو سکتا ھے مگر دین سے سپیرئیر نہیں ہو سکتا

میں اپنے اس قول کی حمائیت میں حضرت علی ہجویریؒ کا یہ فرمان رکھتا ہوں کہ “کوئی آپ کو ہوا میں اڑ کر دکھا دے، یا پانی پر چل کر دکھا دے اگر وہ شریعت کی مکمل پاسداری نہیں کرتا تو وہ ہرگز قابل تقلید نہیں”

ایک شخص نے حضرت علی ہجویریؒ سے کہا کہ آپ کے پاس ایک ماہ گزارا ھے لیکن ایک بھی کرامت نہیں دیکھی، تو حضرت صاحب نے فرمایا، کیا تم نے اس دوران یہاں کوئی غیر شرعی معمولات دیکھے ہیں، اس کا جواب نفی میں سن کر آپ نے پھر فرمایا، بیٹا شریعت پر چلنے سے بڑی کرامت اور کیا ہو سکتی ھے، یہی اصل مقصود ھے اس کے مقابلے میں کسی خرق عادت کی کوئی اہمیت نہیں

ایک دوسرے بزرگ کا فرمان ھے “ہوا میں تو پرندے بھی اڑ لیتے ہیں اور پانی پر تو مچھلیاں بھی چل لیتی ہیں، یہ کوئی کمال نہیں اصل کمال شریعت مطہرہ کی تابعداری میں ھے”

حاصل کلام :

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تصوف پر جو قدغن میں نے اس مضمون میں لگائی ھے وہ عوام الناس کی بہتری کے لئے ھے تاکہ مثنوی کے وہ مضامین جن میں مولانا روم کسی ولی اللہ کی ھم نشینی پر اصرار کرتے ہیں انہیں پڑھ کر آپ جوش میں آ کے کسی غلط بندے کے پاس نہ چلے جائیں

جو بندہ شریعت کو تفصیلاً نہیں جانتا وہ تصوف میں موجود الیوژن یا مغالطوں سے بچ نہیں سکتا جو کہ تصوف میں جا بجا ملتے ہیں اور بندے کو پاسدارِ شریعت کی بجائے احکامات شریعۃ سے متصادم افعال کو نیکی سمجھ کے کرنے پر لگا دیتے ہیں، یہاں سمجھنے والوں کو اتنا پتا ھے نہ سمجھانے والوں کو پتا ھے، ایسی صورتحال خود مثنوی کے اندر بھی موجود ھے، میں اس بات کا مظاہرہ درس مثنوی کی نویں قسط میں واضع طور پر دکھاؤں گا اور اس کے بعد بھی جگہ جگہ یہ مرحلے آئیں گے، تب آپ کو اس قدغن کی اہمیت کا احساس بخوبی ہو جائے گ

ہمارے معاشرےمیں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو درس مثنوی کے نام پر بھی اپنے اپنے مسلکی عقیدوں کو فروغ دینے کے لئے مثنوی سے بھی ایسے ہی باتیں چھانٹ چھانٹ کر بیان کرتے ہیں جیسے وہ قرآن و حدیث سے اپنے اپنے مسلک کے دوام کےلئے باتیں چھانٹ چھانٹ کے بیان کرتے ہیں اور جھوٹے وجد پیدا کرتے ہیں جن میں نہ کوئی رضائے الہی کا پہلو ہے اور نہ ہی کوئی روحانی سکون ہے

وجد صرف عشق الہی میں ہے اور تواجد اس کی نقل ہے جو ذاتی مفادات کے گرد گھومنے والوں کا شعار ہے، ان دونوں کا فرق اور دائرہ کار واضع کرنے کے بعد میں توقع کرتا ہوں کہ پڑھنے والے خواتین و حضرات رجوع الی الحق کا صاف ستھرا راستہ اختیار کریں گے، مثنوی شریف سے متاثر ہو کر تصوف کے کسی نامعقول دائرے میں داخل ہونے کی بجائے رسول اللہ ﷺ کو اپنا ہادی اور اللہ کو اپنا نگہبان سمجھیں، بس اتنا کافی ہے،

اس سلسلے میں مولانا رومیؒ کی وصیت بھی قابل غور ہے جو انہوں نے اپنے مریدوں کے نام اپنے وصال سے پہلے لکھوائی تھی، اس واضع نصیحت کے بعد میں اپنے قارئین کی کسی بھی غیر معتبر اپروچ یا تواجد سے کلی طور پر بری الذمہ ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر رومی کی وصیت:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میں تم سب کو پوشیدہ اور کھلے عام ہر حال میں اللہ سے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، نیز کم کھانے اور کم سونے اور کم بولنے کی تاکید کرتا ہوں ، نیز معاصی اور گناہوں سے اجتناب اور روزے پر مواظبت اور قیام شب پر مداومت اور ہمیشہ شہوات کے ترک اور ہر شخص کی جفا و زیادتی پر تحمل کی نصیحت کرتا ہوں ، نیز عوام اور بیوقوفوں کے ساتھ بیٹھنے سے اجتناب اور صالحین اور شریفوں کے ساتھ بیٹھنے کی وصیت کرتا ہوں ۔

یقیناً بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہو اور عمدہ ترین کلام وہ ہے جو لفظ کے اعتبار سے تو کم ہو مگر معنیٰ کے اعتبار سے زیادہ ہو ، حمد کا مستحق تو بس اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر میں ایک ضروری تنبیہ:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اہل تصوف کے ہاں جس طرح سے تصوف کو دین کا خاصہ سمجھا جاتا ھے ایسے ہی وحدت الوجود کو تصوف کا خاصہ سمجھا جاتا ھے اور وحدت الوجود میں ابن عربیؒ صاحب کو شیخ اکبر کہا جاتا ہے اور انہیں مرکزی حیثیت حاصل ھے

شمس تبریز صاحب سے کسی نے ابن عربیؒ صاحب کے بارے میں رائے پوچھی تو شمس بابا نے کہا، “ابن عربی کنکر ھے اور رومی ہیرا ھے، رومی جیسا نہ کوئی آیا ھے نہ کوئی آئے گا”

شمس بابا رومی صاحب کے مقابلے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے، یہ ایسے قلندر کی بارگاہ ھے جہاں ابن عربی صاحبؒ کے معتبر خلیفہ شیخ صدرالدینؒ اور بوعلی قلندرؒ صاحب جیسے شمشیر بے نیام بھی ہاتھ باندھ کے بیٹھتے تھے، پچھلے آٹھ سو سال میں شمس بابا کی بات سچ ثابت ہوئی ہے، ہر آنے والے عاشق صادق نے اقلیم عشق و ولائیت پر نہ صرف رومی صاحب کا سکہ تسلیم کیا بلکہ ان کے کلام سے اپنے عشق کو مہمیز بھی کیا ہے

مثنوی کے افکار سے کسی کا متفق نہ ہونا کوئی مسئلہ نہیں، ہر کسی کو اپنے افکار چننے میں مکمل آزادی ھے لیکن جن لوگوں کو جگہ جگہ تعصباتی جنگ لڑنے کی عادت ہوتی ھے ان حضرات سے صرف اتنی سی گزارش ھے کہ کسی بات کو ہلکا نہیں لینا، اک مردِ قلندر کی شمشیر بے نیام کے سامنے لُچ تلنے کی کوشش کوئی سستا کام نہیں …… جسٹ بی ساودھان ………

تونے دیکھی نہیں عشق کے قلندر کی دھمال

پاؤں پتھر پہ بھی پڑ جائے تو دُھول اڑتی ھے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *