ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 211 )

بلیک باسٹرڈ ؛ بابا محمد یحیی خان

تھا جو نا خوب ، وہی خوب ہوا (پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان سے اقتباس) ​ایک بار لیڈز کی کرکٹ گراونڈ میں ایک پاکستانی چوکے پہ تالیاں بجانے کی پاداش میں مجھے ایک شرابی انگریز نے غصے←  مزید پڑھیے

چائنہ کے چینی

چین ہمارا برادر “غیراسلامی” ملک ہے۔ جغرافیہ میں ہمارے شمال میں، جذبات کے لحاظ سے ہماری سرآنکھوں پر اورمعاشی طور پر ہمارے کاندھوں پر واقع ہے ۔ رقبے کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک اور آبادی کے لحاظ سے دنیا←  مزید پڑھیے

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں، فراق گورکھپوری/تنویر احمد

جدوجہد آزادی میں پرتعیش ملازمت کو خیرآباد کہہ کرقید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے انگریزی کے لیکچرار فراق گورکھپوری کس طرح اردو ادب کے ایک گوہر نایاب بن گئے۔ ٹوپی سے باہر جھانکتے بکھرے ہوئے بال، شیروانی کے←  مزید پڑھیے

کبھی تو ان کا حساب ہوگا

کچی چار دیواری کا ایک منظر۔۔۔بلکہ تین دیوار ی کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔۔ کیونکہ ایک جانب تو دیوار میں دروازہ ہے ،اور دوسری جانب سے آدھی دیوار گری ہوئی ہے. جس کی اونچائی بمشکل پانچ فٹ ہوگی.سرکی جانب بانس←  مزید پڑھیے

میرو اور جینا۔۔ انعام رانا

کتنا مشکل ہے نا کسی بچھڑے کو عرصے بعد دوبارہ ملنا۔ جیسے بچھڑنے سے لے کر جدائی تک کا سب عذاب دوبارہ سے اپنی روح پر جھیلنا۔ بالخصوص دو ایسے لوگوں کا جو کبھی کسی قانونی رشتے سے بندھے تھے،←  مزید پڑھیے

خمارؔ، خماریات اور خمریات ۔شاہد کمال

نام محمد حیدر خاں ،تخلص خمارؔ۔ 15؍ستمبر 1919 ء کو بارہ بنکی کے معروف شاعر بہارؔبارہ بنکوی کے گھر پیدا ہوئے ۔ مبتدیاتی علوم کی تہذیب اپنے محترم چچا قرارؔ بارہ بنکوی سے سیکھی ،اورجوبلی کالج لکھنو سے انٹر میڈیٹ←  مزید پڑھیے

ستارے

ہم جب شیخ چوگانی مزار کے پاس دریا کے کنارے بیٹھے تھے تو شام کا شفق ختم ہو رہا تھا اور دریا کے کنارے ایک خوابناک منظر تھا۔ جواد، عاطف اور سعدیہ الگ تھے اور کہیں دور کسی بات پر←  مزید پڑھیے

مائے نی میں کِنوں آکھاں ۔قسط 1

میرا نام فیصل ہے ۔۔ میں دُنیا میں آنکھ کھولنے سے پہلے ہی شفقتِ پدری سے محروم ہو چُکا تھا ۔۔۔۔۔۔ میری ماں جو کم عمری میں ہی میرے باپ سے بیاہی گئی تھی ،میرے باپ سے نباہ نہ کر←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو۔سرگزشت/قسط10

اچانک دست قدرت نے دوستی کے اس مربع کو تکون میں  بدل دیا۔ ماجد ائیر فورس میں تھا اور رسالپورمیں اپنی تربیت کی تکمیل کر چکا تھا۔ دستور کےمطابق اس کی نسبت ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی خاندان کی ایک←  مزید پڑھیے

نیچر اور ہم۔۔۔ سیدہ فاطمۃ الزہرا

جب ہم شمالی علاقہ جات جاتے ہیں تو ہمارا دل وہیں کیوں رہ جاتا ہے؟ کیا آپ کو پتا ہے کہ ہمارا اصل مسکن یہ نیچر ہی ہے۔ ہم جسے ویکیشن سمجھتے ہیں یہی ہماری اصل رہنے کی جگہ ہے۔←  مزید پڑھیے

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں۔۔۔ عبدالرؤف خان

  ہاں شاید اگر آج سے برسوں پہلے مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں پر چیختے چنگھاڑتے، مونہہ سے جھاگ نکالتے ہوئے دوسرے فرقے کو کافر کہنے والے دین فروشوں کو چوک میں کھڑا کرکے ٹکٹکی پر باندھ کر ننگا کرکے کوڑے←  مزید پڑھیے

کچھ یادیں سندر سی۔۔ عصمت طاہرہ

“دہ جماعت پاس” ڈاکٹر عثمان، جو میرے کتوں کے معالج ہیں اور میرے فیس بک فرینڈ بھی ہیں ۔ ۔میرے گھر کتوں کو انجکشن لگانے  آئے تو بولے .”میں آپکی لکھی یادداشتیں پڑھتا ہوں انجوائے کرتا ہوں ۔۔۔آپ نے کیوں←  مزید پڑھیے

سفر عشق – علی زیدی – قسط 3

صبحِ انور (صادق پھر ہم سے چھوٹ گیا) 11 بجے ہماری آنکھ کھلی۔ ویسے تو 11 بجے کو صبح بھی نہیں کہا جا سکتا، صادق یا انور تو دور کی بات۔ مگر 9 سال کراچی میں رہ کر یہی ہماری←  مزید پڑھیے

داستاں سود خوروں کی

اگر مجھے صحت والی عمر ِخضر    مل جائے  تو وہ میں یوسفی صاحب کو دوں گی تاکہ وہ مزید لکھ سکیں۔ یوسفی صاحب لکھاریوں میں وہ یوسف ہیں جن کے پڑھنے والے دنیا کے بڑے بڑے لکھاریوں کو بھی←  مزید پڑھیے

سنگیت شناس۔۔ایوب اولیا: آصف جیلانی

جناب یوسفی صاحب کے بارے میں لوگوں کو تعجب ہوتا تھا کہ کہاں، بنکوں کے بھاری بھرکم کھاتے اور پیچیدہ حساب کتاب ، وہاں ایسے پھڑک دار طنز و مزاح کی امامت کیسے ممکن ہے۔ اب ہمارے ایوب اولیا بھی←  مزید پڑھیے

مزارِ غالب کی تعمیر، تاریخ کے آئینے میں ۔۔۔سعدیہ کمال

“ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے” ایسا ہی تصورلیے اپنے دورہ بھارت کے دوران جب میں مزارِ غالب کے مزار پر  پہنچی تو دفعتاً مجھے مرزا نوشہ کا وہ شعر یاد آیا: “ہوئے مر کے ہم←  مزید پڑھیے

چائے کی پیالی میں طوفان

فیصل آبادکا گھنٹہ گھر آٹھ بازاروں میں ویسے ہی گھرا رہتاہے۔جیسے رضیہ غنڈوں میں رہتی ہے۔آٹھ بازاروں میں چائے کے بہت سے ڈھابے ہیں۔جن میں سے کچھ سُرخوں کے ہیں۔ کچھ’’ سبزوں‘‘ کے ،اور۔کچھ رلے ملے ۔ ان ڈھابوں کی←  مزید پڑھیے

ٹارگِٹ، ٹارگِٹ ، ٹارگِٹ ۔قسط7

ہیبت ناک پروموشن! فوجی افسر پاس آؤٹ تو کندھے پر ایک پھول لے کر ہوتے ہیں تاہم اس پھول کو کھلانے کے لیے برابردو سال تک ایبٹ آباد کی پہاڑیوں کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح بعد کے←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ بولیاں

ایک کبوتر  دیکھا جو اسٹیج پر کھڑا کائیں کائیں کر رہا تھا ۔۔۔میں حیران ہوا۔ پھر ایک گائے  دیکھی  جو بھونک رہی تھی۔۔ ایک شیر دیکھا جو بکریوں کے مجمع سے حقوق نسواں کے موضوع پر خطاب کر رہا تھا۔←  مزید پڑھیے

سفر عشق ۔علی زیدی (قسط 2)

پنجاب سے گزرتے ہوئے سبز اور گھنے باغات اور خوش نما وادیاں دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی رہیں۔ ٹرین نے بلآخر 3 بجے راولپنڈی کے اسٹیشن پرقدم رنجہ فرمایا ۔ ہمارے دوست الطاف  حیدر نے ہمیں پہلے ہی “مسافرِ←  مزید پڑھیے