کچھ یادیں سندر سی۔۔ عصمت طاہرہ

“دہ جماعت پاس”

ڈاکٹر عثمان، جو میرے کتوں کے معالج ہیں اور میرے فیس بک فرینڈ بھی ہیں ۔ ۔میرے گھر کتوں کو انجکشن لگانے  آئے تو بولے .”میں آپکی لکھی یادداشتیں پڑھتا ہوں انجوائے کرتا ہوں ۔۔۔آپ نے کیوں لکھنا چھوڑ دیا؟ “بس ایسے ہی” میں نے جواب دیا۔۔۔ جاتے جاتے ڈاکٹر صاحب بولے اب ایک یاد داشت ہو جائے۔

تو ڈاکٹر عثمان، جب آپ ننھے منے ہوں گے نا، تب میں بہت زیادہ  ریڈیو کے لیئے کام کرتی تھی۔۔

میں ریڈیو پاکستان کی جانب سے “سیالکوٹ کی آواز ” پروگرام کرنے سیالکوٹ گئی تو وہاں صنعتی نمائش بھی لگی ہوئی تھی۔۔۔ ۔میں بھی وہ نمائش دیکھنے چلی گئی۔ گھومتے پھرتے میں “اورینٹ پریشر کوکر” کے سٹال پر پہنچ گئی۔ میں اور ثروت عتیق انکا ریڈیو پروگرام کرتے تھے۔۔۔ اورینٹ کمپنی کے مالک نے پرتپاک انداز میں خوش امدید کہا اور کہنے لگے” عصمت صاحبہ  آپکی پبلک سٹی  (پبلسٹی) ہمیں بہت زیادہ پسند ھے۔۔۔۔ میں نے کہا ” جی”، تو وہ پھر بولے آپ بہت اچھی ” پبلک سٹی “کرتی ہیں۔ انکی مراد پبلسٹی تھی۔

میں لاھور  واپس لوٹی تو پیرا گون ایڈرورٹایزنگ والوں کا ایک ایڈ کی ریکارنگ کا فون آیا۔۔ میں انکے افس پہنچی تو سنی بسکٹ کا لکھا ہوا ایڈ مجھے پکڑا دیا گیا جو کہ انگلش میں تھا۔۔۔۔پیرا گان کے میں پنجابی اور اردو میں لکھے ایڈ تو کیا ہی کرتی تھی مگر انکو یہ بتانے کی ھمت نہ ہوئی کہ جناب میں تو ٹاٹوں والے اردو میڈئم سکول کی “دہ جماعت پاس” ہوں  انگلش کہاں بول سکتی ہوں ۔۔۔۔ خیر جی سکرپٹ لے کر سٹوڈیو میں جانے کی بجائے میں ریڈیو پاکستان سید سلیم گیلانی کے دفتر پہنچ گئی اورکہا جناب آپ وائس آف امریکہ میں ڈائیریکٹر رہے ہیں انگریزی تو اچھی بول لیتے ہونگے ۔۔ لیجیئے یہ ایڈ پڑھ  کر سنائیے۔۔۔ گیلانی صاحب نے ایڈ پڑھ کر سنایا، ہم نے اپنے ذہن میں  تلفظ کاپی کرلیا۔۔ گیلانی صاحب بولے ” اب پڑھ کر سنائیے ؟  جی آپ کے سامنے انگلش بولتے ہوئے شرم ٓاتی ہے۔۔

جب میں آفس سے باھر جانے لگی تو مرحوم بولے۔  ” بڑی دردناک انگریزی بولیں گی آپ”۔۔۔۔

خیر جی میں نےانگریزی میں ” پبلک سٹی” کر ہی لی، اور میرا انگلش کا ایڈ سارے سٹیشنوں پر براڈ کاسٹ ہوا۔ سلیم گیلانی نے اسلام آباد  میں ایڈ سنا، واپس آئے تو مجھے تھپکی دے کر شاباش دی- پیرا گان والوں کو بھی پتہ نہیں چلا کہ میں صرف “دہ جماعت پاس” ہوں۔

——–

“جج کی بیوی”

مشتاق صوفی نے کہا کہ “عصمت جی رشوت بنا تو تاریخ نہیں ملتی، فیصلہ لے کر دکھاو”۔

صوفی جی، آپ نے مجھے کچھ قیمتی سی بات یاد دلا دی۔۔۔ ۱۹۷۷ میں میں یو سی ایچ میں داخل تھی کہ میری بہن کے ساتھ میرے کمرے میں ایک خوبصورت عورت میری خبر گیری کے لیئے داخل  ھوئی۔اس خاتون کا کوئی عزیز ساتھ والے کمرے میں داخل تھا۔۔وہ خاتون باتیں تو میرے ساتھ کرتی لیکن اسکی مخروطی  انگلیاں تیزی سے نٹنگ کر رہی ہوتیں۔۔۔کوئی بھلا سا نام تھا اسکا جو میں بھول گئی۔۔البتہ اسکی چھوٹی بیٹی کا نام دھن تھا ( دولت)۔ اب وہ خاتون روز میرے کمرے میں آتی، کبھی گھر کا بنا سوپ لے کر مجھے اپنے ہاتھ سے پلاتی۔ وہ جتنی دیر بھی میرے پاس بیٹھتی اسکے ہاتھ نٹنگ میں مصروف رہتے۔۔ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد میں گھر پہنچی تو خاتون نے ایک روز مجھے کھا نے پر بلایا۔  خاتون کا گھر لاہور لکشمی میں تھا اور اوپر والا چھوٹا سا پورشن تھا جو انتہائی سلیقے سے سجا ہوا تھا۔۔گھر میں کوئی قیمتی چیز نظر نہیں آ رہی تھی۔۔مگر سادگی اور سلیقہ بے مثال تھا۔۔۔ گھر کے آتش دان میں دیا جل رہا تھا  جو بتا رہا تھا کہ اہل خانہ پارسی ہیں۔۔ کھانے کے بعد خاتون پھر نٹنگ میں مصروف ہو گئیں۔۔۔ پھر انہوں نے نہائیت  عمدہ، اپنے ہاتھوں کے بنے، نومولود بچوں  کے سوئیٹر ٹوپیاں جرابیں دکھائیں جو وہ “ایچ کریم بخش” پر سپلائی کرتیں تھیں اور گھر کے خرچے میں یوں  آسانی پیدا ہو جاتی تھی۔  پتہ ہے وہ خاتون کون تھیں۔۔۔۔ ھائی کورٹ کے جج، جسٹس رستم سدھوا کی بیوی۔

مشتاق صوفی جی، میرے دل کے اتش دان میں امید کا دیا جل رھا ہے کہ میرے پاکستان کی ہر عدالت میں رستم سدھوا جیسے جج ہونگے۔۔۔۔ جنکے گھر سادگی کے مظہر ہونگے اور وہاں سے ایمان داری کی خوشبو آ رہی ہو گی۔

 

عصمت طاہرہ
عصمت طاہرہ
عصمت طاہرہ معروف ٹی وی آرٹسٹ اور فنکارہ ہیں۔ آپ کی داستان پاکستان کی سماجی اور کئی بار تو سیاسی تاریخ کی سی ایمیت رکھتی ہے۔ مکالمہ عصمت جی کا ممنون ہے کہ انھوں نے مکالمہ کو اپنے خیالات چھاپنے کی اجازت دی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 5 تبصرے برائے تحریر ”کچھ یادیں سندر سی۔۔ عصمت طاہرہ

  1. میری گزارش محترمی عصمت طاہرہ سے اتنی ہے کہ مہربانی فرما کر مسلسل لکھیں، لکھنا ترک نہ کریں۔ سبق آموز تجربات سے مستقبل کی نسل بہت کچھ سیکھے گی۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *