مائے نی میں کِنوں آکھاں ۔قسط 1

میرا نام فیصل ہے ۔۔ میں دُنیا میں آنکھ کھولنے سے پہلے ہی شفقتِ پدری سے محروم ہو چُکا تھا ۔۔۔۔۔۔ میری ماں جو کم عمری میں ہی میرے باپ سے بیاہی گئی تھی ،میرے باپ سے نباہ نہ کر پائی اور شادی کے چند ماہ بعد ہی لڑ جھگڑ کر میکے آ گئی  اور بذریعہ عدالت خلع لے لی ۔ میری ماں کا تعلق غیر سید گھرانے سے تھا میرے نانا کا انتقال والدہ کی شادی سے پہلے ہو چکا تھا ،ان کے سوگواروں میں   میری نانی ، ماں اور ماں سے چھوٹی میری دو خالہ تھیں۔ ایک   ماموں بھی تھے  جن کا نام ظہیر الدین تھا اور ان کا بچپن میں ہی ٹی بی کے مرض سے انتقال ہو گیا تھا۔

میری ایک اور خالہ تھیں ان کا بھی پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا، میرے باپ کا تعلق سادات کے گھرانے سے تھا اور میرے اجداد میں کئی  صوفیاء گزرے جن کے مزارات پر آج بھی زائرین کا رش لگا ہوتا ہے لیکن میری پیدائش پر میرے ددھیال سے کوئی بھی مجھے دیکھنے نہیں آیا ،نجانے انھیں کسی نے خبر بھی دی تھی کہ نہیں یا اگر خبر دی بھی تھی تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہاں اس خبر کا کیا ردِعمل ہوا ہو گا ۔۔نجانے میری پیدائش میرے ننھیال میرے دددھیال میرے باپ اور میری ماں کے  لیے ایک سانحہ تھی ،حادثہ تھی یا خوشخبری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے باوجود میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ پیدا ہوتے ہی میرا گلا نہیں گھونٹ دیا گیا۔۔۔ مجھے کوڑے کے ڈھیر پر نہیں پھینک دیا گیا ،ایدھی سینٹر یا یتیم خانے نہیں پہنچا دیا گیا۔۔۔۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس وقت میری ماں کے میرے متعلق کیا جذبات رہے ہوں گے اور میرے ننھیال کے افراد نے میرے متعلق کیا سوچا ہوگا ۔۔ پتہ نہیں میری پیدائش کی خوشی میں کسی نے مٹھائی بھی بانٹی ہو گی کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر جب مجھے میری ماں گھر لے ہی آئی تو فطری طور پر مجھے ننھیال نے ہی پالنا تھا ۔۔۔ ایک کم عمر لڑکی کی گود میں ایک ننھی سی جان ۔۔۔ وہ ننھی جان اس لڑکی کی گود میں ہے کہ جس لڑکی کو اس ننھی جان کے باپ نے اس قدر ستایا کہ وہ اس سے خُلع لینے پہ مجبور ہو گئی۔ لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے، ۔۔۔ وہ چاہتی تو خلع کے بعد کسی ڈاکٹر   یا  دائی سے مجھے جنم دینے سے پہلے موت کی وادیوں میں پہنچا دیتی۔۔۔ وہ ابھی نو عمر تھی، اس نے پھر سے اپنی زندگی شروع کرنی تھی ۔۔۔۔۔۔کسی نئے شریک سفر کے ساتھ،اس کی آنکھوں میں بھی خواب ہوں گے اور ان خوابوں کی تعبیر کی جستجو کرنا اس کا پیدائشی حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے خوابوں کے لیے وہ خود غرض بھی بن سکتی تھی  اور ہو سکتا ہے اسے میری خالاؤں یا میری نانی اور رشتے دار خواتین نے اس قسم کے مشورے بھی دیے ہوں کہ اگر وہ ان مشوروں پر عمل کرتی تو میں آج دُنیا میں نہ ہوتا۔۔ لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے ۔۔۔۔

اس وقت کیا حالات ہوئے ہوں گے؟ایک نوازائیدہ بچے کو کیسے یاد ہو سکتا ہے۔۔اگرچہ مجھے اب بھی ماں کی گود کا لمس یاد ہے ،میں جب پہلی دفعہ چلا تھا مجھے یاد ہے ، عموماََ یہ چیزیں بچوں کو یاد نہیں ہوتیں لیکن مجھے اپنی شیر خوارگی کے زمانے کی بہت سی باتیں یاد ہیں ۔۔۔۔۔۔ شاید اللہ نے مجھے باقی بچوں سے تھوڑا مختلف بنایا ہے ،میری ماں کی دو اور بہنیں تھیں ، ماں مجھے بہت پیار کرتی، میرا بہت خیال رکھتی ،جیسے ایک چھوٹی بچی اپنی گڑیا کا خیال  رکھتی ہے۔۔

میرے ننھیال کے رشتے داروں میں سے ایک شخص اکثر ہمارے گھر آیا کرتا تھا وہ غیر شادی شدہ تھا اور ماں کو پسند کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔اس کا ذریعہ معاش ایک دکان تھی ،آہستہ آہستہ اس کا آنا جانا بڑھنے لگا اور ماں بھی اس سے محبت کرنے لگی  اور یوں آہستہ آہستہ وہ شخص ماں کی  پہلی ترجیح   بنتا  چلا گیا۔۔۔ ا س وقت میری عمر تقریباً چھ سال ہو چکی تھی، جب میں نے خواب میں دیکھا کہ ماں کے ساتھ جا رہا ہوں، ماں نے برقعہ پہنا ہوا ہے اور منہ پر نقاب ہے ،ہم اس شخص کی دکان کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو ماں مجھے کھڑا کر کے اس شخص کی دکان پر چلی جاتی ہے پھر کچھ دیر بعد لوٹتی ہے تو میں   بھاگ کر ماں سے لپٹتا ہوں اور اسے پیار کرتا ہوں ،ماں اپنا نقاب ہٹاتی ہے تو میں ڈر جاتا ہوں اور چیختا ہوں کہ تم میری ماں نہیں ہو تم تو کوئی چڑیل ہو ..

جس روز میں نے یہ خواب دیکھا اس کی صبح ہی سے ماں کا رویہ مجھ سے یکسر بدل گیا ،۔ وہ مجھ سے ہر بات پہ چڑنے لگی ہر بات پہ جھاڑنے لگی اس کی آنکھوں سے ماں کی مامتا بالکل غائب ہو گئی۔۔۔ میں ماں سے ڈرا ڈرا اور سہما سہما رہنے لگا ۔۔۔ نفرتوں کی تپتی دھوپ میں ایک ماں کی ذات ہی تو تھی جو مجھے اپنی محبت کے سائے میں پروان چڑھا رہی تھی ۔۔۔ اب اچانک سے وہ سایہ چھن گیا اور میرے پاس کوئی جائے پناہ نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔ خواب کے صرف ایک ہفتے بعد مجھ پر پیسوں کی چوری کا الزام لگا ۔۔۔۔ الزام لگانے والا کوئی اور نہیں، میری ماں تھی ۔۔۔۔۔۔

ماں نے مجھے خوب مارا ۔۔۔۔۔۔۔میرے گالوں کو اپنے تھپڑوں سے سُجایا اور مجھے چوری کا اقرار کرنے پر زور دیا ۔۔۔۔۔ نہ میں نے چوری کی تھی نہ میں اقرار کر رہا تھا ۔۔۔۔ اس وقت تو شاید میں لفظ ” چوری ” سے بھی ناآشنا تھا ۔تھپڑ مار مار کر جب ماں کے ہاتھ جواب دے گئے تو ماں نے مٹھی بھر کر مرچیں میری دونوں آنکھوں میں ڈال دیں ۔۔۔ اس و   قت درد کی    جس کیفیت سے میں گزرا شاید  دشمن کے علاقے میں پکڑا جانے والا کوئی جاسوس اس کیفیت سے گزرا ہو ۔۔۔۔۔ لیکن نہ میں جاسوس تھا نہ دشمن کے علاقے میں پکڑا جانے والا جاسوس ۔۔۔۔ ہاں میں چور تھا ، ان پیسوں کا چور نہیں جن کا الزام مجھ پر لگا تھا، میں چور تھا شاید اپنی ماں کی  خوشیوں کا ۔۔۔۔اس کے ارمانوں ، اس کے مستقبل کے بارے دیکھے سہانے خوابوں کا  اور شاید ماں مجھے انہی چوریوں کی سزا دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔

آنکھوں میں مرچیں ڈال کر ماں نے مجھے کمرے میں بند کر کے چیختا بلکتا روتا چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔اور جب آنکھیں آخر تھک ہار کر اس درد کی عادی ہو گئیں ،جب آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل کے آنسو بھی خشک ہو گئے ،جب مجھے صبر آ گیا،تب کہیں جا کر ماں نے پانی سے میری آنکھیں دھوئیں ،مجھے نہیں پتہ کہ ماں نے اتنا رحم کیوں دکھایا۔۔۔پانی سے آنکھوں کو دھو ڈالنا ہی کافی سمجھا گیا اور کسی ڈاکٹر کو زحمت دینے کی بالکل بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔۔۔۔۔۔۔

میں نہیں جانتا کہ ماں کا رویہ یوں یکلخت کیوں بدل گیا، کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ شاید اس شخص نے ماں کو حاصل کرنے کے لیے کسی عامل اور جادوگر کا سہارا لیا اور یوں جادو کے زور پر ماں کے دل میں میرے لیے نفرت پیدا کی گئی ۔۔۔شاید میری ماں نے میری پرورش کے لیے اس شخص سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہو، مگر حتمی طور پر میں کچھ بھی تو نہیں کہہ سکتا۔۔میرے پاس قیاس کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اس لیے میں ان خیالات کو اپنے دماغ سے جھٹک دیتا ہوں ۔۔۔۔۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ماں کا رویہ کیوں بدل گیا   اور پھر اس قدر شدید نفرت ۔۔۔۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ماں انتہائی خوش اخلاق، نرم گو، ملنسار اور رحمدل خاتون تھیں اور وہ ہر کسی سے خوش اخلاقی سے پیش آتی، ان کی شفقت اور محبت ہر کسی کے لیے تھی، چاہے اپنا ہو یا بیگانہ لیکن میرے معاملے میں ان کی شفقتیں، محبتیں، خوش اخلاقیاں، خوش گفتاریاں، ملنساریاں اور رحمدلی پتا نہیں کہاں غائب ہو جاتی تھی۔۔

اب ماں بہانے بہانے سے میری پٹائی کرنے لگی، بات پٹائی تک ہی محدود نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ماں میری عزتِ نفس مجروح کرنے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی ،مہمانوں کے سامنے ،گلی محلے کے بچوں کے سامنے، نہ صرف ماں میری تذلیل کرتی بلکہ میرے منہ پر بنجر زمین پر برستی موسلا دھار بارش کی طرح تھپڑ برساتی ۔۔۔ میرا رونا بلکنا بھی اس کے دل میں میرے لیے ہمدردی پیدا نہیں کر سکا ۔۔۔۔۔ کوئی کندھا ایسا نہ تھا جس پر سر رکھ کر میں رو لیتا ۔۔۔۔۔ کوئی کان ایسے نہ تھے جنھیں میں اپنا دُکھڑا سنا سکتا۔۔۔۔۔۔کوئی ہاتھ ایسے نہ تھے جو میرے زخموں پر مرہم رکھتے۔۔۔۔۔

جاری ہے

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے