مزارِ غالب کی تعمیر، تاریخ کے آئینے میں ۔۔۔سعدیہ کمال

“ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے”
ایسا ہی تصورلیے اپنے دورہ بھارت کے دوران جب میں مزارِ غالب کے مزار پر  پہنچی تو دفعتاً مجھے مرزا نوشہ کا وہ شعر یاد آیا:
“ہوئے مر کے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا”

اور پھر ایسے لگا جیسے غالب میرے سامنے کھڑے ہوں اور اپنے مزار کی رسوائی کا نوحہ پڑھ رہے ہوں، میں نے ذہن کو جھٹکا دیا اور سوچا غالب کا خدشہ درست تھا، ایسی بڑی شخصیت اور اس کے مزار کی یہ حالت۔اردو کے عہد ساز شاعر اور ادیب مرزا اسد اللہ خان غالب کا مزاربڑی یادگاروں میں شامل ہونا چاہیے جو اب تک غالب کی شخصیت اور مقام کے شایان شان نہیں ہے۔ مزارِ غالب حضرت نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ کے قریب واقع ہے۔حضرت نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ پر جانے والے بہت سارے عقیدت مند اس سے نا واقف ہیں۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا ،کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا،
ڈبویا مجھ کو ہونےنے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا!

دہلی میں نوا ب مرزا اسد اللہ خان غالب کی کوئی جائیداد نہیں تھی ۔ ان کا آبائی قبرستان آگرہ میں تھا۔ مرزا غالب نے۱۸۶۹ء میں ۷۳سال کی عمر میں وفات پائی ان کی خواہش تھی کہ انہیں ان کے سسرالی قبرستان واقع بستی حضرت نظام الدین میں دفن کیا جائے۔غالب اردو فارسی کے شاعر اور منفرد نثری اسلوب رکھنے والے اہل قلم تھے ۔ غالب کے مرتبہ اور مقام کے مطابق ایک قومی یادگار کی تعمیر نا گزیر تھی اور یہ حقیقت ہے کہ دنیائے ادب میں مرزا غالب کا جو مقام ہے اس کے مطابق ان کی یادگار اب تک تعمیر نہیں کی گئی۔ الطاف حسین حالی زندگی کے آخری ایام تک مرز ا اسد اللہ خان غالب کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے باقاعدگی سے جاتے تھے اور قبر کی مٹی بھی درست کرتے تھے۔میری ملاقات غالب اکیڈمی کے سیکرٹری ڈاکٹر عقیل احمد سے ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ مزار کی آرائش کا کام مسلسل جاری رہتا ہے۔
مزار کی حرمت و تعمیر کا اولین دور(۱۹۱۱ء تا ۱۹۱۵)
دوسرادور اورپہلی غالب سوسائٹی کا قیام(۱۹۱۶ء تا ۱۹۳۴)
تیسرا دور اور دوسری غالب سوسائٹی کا قیام(۱۹۳۵ء تا ۱۹۵۲)
چوتھا دور اور تیسری غالب سوسائٹی کا قیام(۱۹۵۳ء تا ۱۹۶۸)
غالب اکیڈمی دہلی کا قیام (۱۹۶۹ء تا حال)

ڈاکٹر سید محمود غازی پور نے اکتوبر ۱۹۱۹ء میں دہلی میں قیام کے دوران دیوان غالب پر مقدمہ لکھا تو مزار کے بارے میں بے ساختہ لکھ گئے:
”افسوس غالب کا مزار دلی میں جس حالت میں پڑا ہوا ہے اسے دیکھ کر ایک فلسفی کا قول یاد آتا ہے ۔ جس نے کہا تھا کہ اگر تمھیں  کسی قوم کی حالت کا اندازہ کرنا ہوتو تم اس کے اکابرین کے مزارات پر چلے جاؤ، غالب کے مزار پر جا کر جو کیفیت مجھ پر طاری ہوئی وہ احاطہ تحریر سے باہر ہے مجھے ویمر میں گوئٹے کے مزار کو دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا ہے ۔ ایک وہاں کی قدر دانی ہے اور ایک یہاں کی کسمپرسی ۔ دونوں کا فرق دیکھ کر اقبال کا مشہور شعر جو اس نے غالباََ ایسی ہی کیفیت سے متاثر ہو کر لکھا ہو گا، بے اختیار میری زبان پر جاری ہو گیا۔۔
“آہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرا میدہ ہے
گلشنِ ویمر میں ترا ہمنوا خوابیدہ ہے ”

مزارِ غالب کی مرمت اور اسے ایک یادگار کے طور پر محفوظ کرنے کااحساس پہلی مرتبہ ۱۹۱۱ء میں ایک برطانوی صحافی ڈاکٹر جے مورٹن کو ہوا۔ انہوں نے ایک انگریزی اخبار میں مراسلہ شائع کرایا جس میں انہوں نے حکومت اور لوگوں کی توجہ اس طرف دلائی ۔ اس طرح ”مزارِ غالب کا تحفظ ”کے عنوان نے ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی۔ ۱۹۱۱ء سے ۱۹۵۵ء تک چندوں، کمیٹیوں ، اسکیموں ، تجاویز اور مشوروں کے درمیان کبھی دم پکڑتی رہی اور کبھی دم توڑتی رہی۔اردو پریس میں مزارِ غالب کے لیے لکھاگیا ۔ مزارِ غالب کی تعمیر شروع ہو ئی اوریادگار کے طور پر غالب اکیڈمی وجود میں آئی۔ڈاکٹر جے مورٹن اور حامد علی خان کے مراسلوں کا اردو ترجمہ ماہنامہ معیار لکھنوء کی مئی ۱۹۱۱ء کی اشاعت میں شامل ہوا۔ ان دونوں مراسلوں کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:

پانیر دوشنبہ ۷جون ۱۹۱۱ء
”ایک بھولی ہوئی قبر”
ایڈیٹر صاحب
جناب من ! برائے مہربانی مجھے اس امر کی اجازت دیجیے کہ غالب کی شاعری کے شیدائیوں کی توجہ میں ان کی بھولی ہوئی قبر کی طرف مبذول کرواؤں۔ یہ قبر نظام الدین اولیاؒء دہلی میں واقع ہے ۔ چونکہ احاطے کے باہر ہے اس لیے اس کے وجود سے ان واردین کو بھی اطلاع نہیں ہے جو دلچسپی لیتے ہیں ۔ پچھلی مرتبہ جو میں گیا تو میرے ساتھ ایک غیر معمولی ہوشیار اور سمجھ دار خاد م تھا جو اس قبر کو دکھانے مجھے وہا ں لے گیا۔ قبر ایک ٹوٹے پھوٹے احاطے میں واقع ہے جس کی دیوار منہدم ہو رہی ہے اور پتھر کا فرش گرے ہوئے ریزوں میں پوشیدہ ہو گیا ہے سرہانے کا لوحِ مزار سنگ مر مر کا ہے اور اس پر ایک نظم کندہ ہے۔ مگر اس کے بھی زیر زمین ہو جانے کا خوف ہے ایک یا دوسال کی بارش میں اندیشہ ہے کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہ جائے اور اس کے ساتھ ہی اردو کی ایک ” پر عظمت نشانی ” غائب ہو جائے گی ۔ اس لیے کیا میں شاعری کے دلدادہ اور غالب کا دم بھرنے والے حضرات سے اس کی التجاء کر سکتا ہوں کہ وہ اس تباہی کو روکیں؟ شاعر، مورخ اور مصنف جو مشہور ہو جاتے ہیں قوم کے لیے بہت   مایہ ناز ہوتے ہیں۔ ان کی آرام گاہوں کو ایک محبت آمیز طریقے سے محفوظ اور مامون رکھنا چاہیے ۔ ان کی قبریں بے بہا باقیات سے ہیں جن سے غفلت کرنے کو آئندہ نسل آسانی سے معاف نہیں کرے گی اس لیے اور خود اپنی قدردانی ظاہر کرنے کو میں یہ تجویز پیش کرتا ہو ں کہ ایک روپے کے چندے کی ابتداء کی جائے اور شایان شان دیرپا یادگار، غالب کی قبر پر قائم کی جائے ۔ چونکہ غالب مسلمان تھے اس لیے غالباََ ”مسلم ریویو”لکھنؤ کے ایڈیٹر اس فنڈ کے سکریٹری کا کام خوشی سے انجام دیں۔ میرے خیال میں   تین چار ہزار روپے کی اس فنڈ کے لیے ضرورت ہو گی ۔سکول کے طالب علم نہایت آسانی سے آپس میں چندہ  جمع کر سکتے ہیں اور آنریری سکریٹری صاحب کی خدمت میں پیش کر سکتے ہیں۔ جو صاحب کہ اس خدمت کو اپنے ہاتھوں میں لیں گے وہ ایک باعزت خدمت کو انجام دیں گے اور عمدہ ادب کے شائقین کی منت پذیری حاصل کریں گے ” ۔

جے مورٹن ،ایم ڈی

اب حامد علی خان کا خط ملاحظہ کیجئے
”قبر غالب”
ایڈیٹر صاحب!
جناب من ۔ ڈاکٹر جے مورٹن نے آپ کے اخبار کے ذریعے سے ”قبر غالب ” کی تباہ شدہ حالت کی طرف توجہ دلا کے غالب کی شاعری کے عاشقوں کو بہت کچھ ممنون کیا ہے۔بہ لحاظ غالب کے فارسی اور اردو شاعر ہونے کے ،نثر نگار اور بذلہ سنج ہونے کے میں ان کا دلدادہ ہوں۔ میری محبت و شیدائیت کا اندازہ قدرے اس امر سے ہو سکتا ہے کہ ان کے ملاز م ” کلو” سے جس کا ذکر وہ اپنے خطوط میں کرتے ہیں ملنے کے لیے گیا۔ میں نے غالب کو کبھی نہیں دیکھا ۔ جب ان کا انتقال ہوا میں بہت کم عمر تھا ۔ چند سال ہوئے کہ میں نے ان کی قبر کی  زیارت کی تھی ۔ دو پتھروں پر تاریخ کندہ ہے ایک خود غالب کی تصنیف ہے دوسری ان کے مشہور شاگرد مجروح کی جس کا چوتھا مصرعہ یہ ہے
ہاتف نے کہا : ”گنج معانی ہے تہہ خاک”
مجھے ڈاکٹر مورٹن کے خط سے یہ معلوم کر کے صدمہ ہوا کہ اگلی یا دوسری برسات تک غالب کی قبر بالکل نیست و نابود ہو جائے گی میں امید کرتا ہوں کہ قبل ا س کے کہ آئندہ برسات کا موسم ختم ہو دلداد گان غالب ان کی قبر پر ایک شایان شان اور قیام پذیر یادگار قائم کر دیں گے۔ اس کے کہنے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ مجھ سے جو خدمت ہو سکے گی میں بہت خوش ہوں گا۔
(حامد علی خان )


پہلی بات یہ ہے کہ جہاں مزار غالب واقع ہے وہ جگہ مرزا غالب کے سسر نواب الہٰی بخش خاں کے خاندان کی ملکیت تھی ۔ اس جگہ پر خاندان لوہارو کا ذاتی قبرستان تھا۔ اس قبرستان میں مرزا غالب کی اہلیہ امراؤ بیگم ، غالب کے سسر مرزا الٰہی بخش خان ان کی بیگم کے بھانجے زین العابدین عارف اور دوسرے سسرالیوں کی قبریں ہیں۔ مختلف ادوار میں جن مشاہیر نے مزار غالب پر حاضری دی انہوں نے مزار کی حالت کے بارے میں لکھا کہ اتنا بڑا نامی گرامی شاعر اور اس کی قبر جو آج یاد گار زمانہ ہوتی اس کسمپر سی کی حالت میں ہے۔ کسی نے لکھا کہ قبر ایک ٹوٹے پھوٹے احاطے میں واقع ہے جس کی دیوار منہدم ہوتی جا رہی ہے ۔ جن اکا برین نے مزار غالب پر حاضری کے بعد اس کی حالت کے بارے میں لکھا ان میں مرزا حسرت بیگ ، نظامی بدایونی ، علامہ اقبال ، خواجہ حسن نظامی ، شیخ عبدالقادر، ڈاکٹر جے مورٹن ، حامد علی خان لکھنوی ، نادم سیتا پوری، مولوی بشیر الدین احمد ، ڈاکٹر سید محمود، غلام رسول مہر اور دوسرے شامل ہیں۔

بعض جرائد میں مزار غالب کی تصاویر بھی شائع ہوئیں ۔ اس کے علاوہ غالب اکیڈمی کے میوزیم میں قدیم تصاویر موجود ہیں جن سے مزار غالب کی حالت زار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اور یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ غالب کے مزار کو قومی یادگار بنانے میں کس قدر غفلت اور لا پروائی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے۔اردو ادب کی تاریخ کو جس نے اعلیٰ مقام عطا کیا اس کو کس طرح نظر انداز کیا گیا۔۱۹۱۱ء میں مولانا محمد علی کے اخبار کا مریڈ کی طرف سے ”مزار غالب فنڈ” قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مولانا کی جانب سے کی گئی گزارش کا گرم جوشی سے جواب نہ دیا گیا۔ تاہم سست رفتاری کے ساتھ چندے ملنے شروع ہو گئے۔ ۱۹۱۶ء میں مزار غالب کی تعمیر کی تحریک زور پکڑ گئی ۔ تحریک کو چلانے والے نظامی بدایونی تھے۔

۷اگست ۱۹۱۶کو بہ عنوان ”مزار غالب کے مزار کی حرمت ” نظامی بدایونی کے اس نوٹ کو ہم عصر اخبارات ورسائل میں نقل کیا گیا۔ مختلف مضامین او ر مراسلوں اور اشتہارات کے ذریعے مزار غالب کی تعمیر کی تحریک آگے بڑھی ، نظامی بدایونی ، خلیق دہلوی اور حامدعلی خان کی عملی جدوجہد نتیجہ خیز ثابت ہوئی ۔ اس طرح دہلی کے متعدد معزز ین کے اشتراک و تعاون سے ایک کمیٹی وجود میں آئی جس کے خازن حکیم اجمل خان تھے ۔ تاہم ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جس نے تحریک کو کمزور کر دیا، یہ سلسلہ نشیب و فراز سے دوچار ہوتا ہوا جاری رہا۔


اس دوران شعراء نے بھی نظمیں لکھ کر اس تحریک کو تقویت دی۔ خلیق دہلوی کی نظم ”مزارِ غالب ” کے دو بند ملاحظہ فرمائیں۔
جب سیر کرنے نکلے دیکھا مزارِ غالب
زیر زمیں نہاں تھی فصلِ بہار ِ غالب
یاد آرہا تھا سب وہ افتخار غالب
نظروں میں پھر رہا تھا عز و وقار غالب
حسرت برس رہی تھی ،روتی تھی خوش بیانی
اردو ، لحد کے اوپر کرتی تھی نوحہ خوانی
افسوس قبر اس کی ٹوٹی ہوئی پڑی ہے
بوسیدہ ہو گئی ہے پھوٹی ہوئی پڑی ہے
دستِ فلک سے بالکل لوٹی ہوئی پڑی ہے
بے غور ہے، نظر سے چھوٹی ہوئی پڑی ہے
مٹنے کو ہو رہی ہے ، غالب کی یاد ساری
شعرو سخن لحد پر کرتے ہیں آہ و زاری
(رسائل کے دفینوں سے اردو ادب کی بازیافت)
ج،ص:۲۳۶

۱۹۳۲میں اس تحریک کے احیاء کی کوشش کی گئی ۔ ۱۹۳۵ء دہلی میں غالب سوسائٹی کے نام تنظیم وجود میں آئی۔ اور مرزا اسد اللہ خان غالب کے یوم وفات کو ۱۵۔۱۶فروری ۱۹۳۶، کو ”غالب سوسائٹی ” کے زیر اہتمام عربک کالج دہلی کے ہال میں پہلا ” یوم غالب” منایا گیا۔ اس تقریب میں۲۵ہزار مرد و عورت بلا تفریق مذہب و ملت شریک ہوئے۔ اور ایک انجمن وجود میں آئی جس کے عہدیداروں کا چناؤ کیا گیا، انجمن نے اعلان کیا کہ مزارِ غالب کو اس کے شایانِ شان بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ لوگوں نے انجمن کو چندے دینا شروع کر دیے۔ حکیم محمد احمد نے مزار کی ملحقہ زمین جو ان کی ملکیت تھی مکان تعمیر کرنے کے لیے انجمن کو دے دی ۔اس طرح ہمدرد دواخانہ کے مالک حکیم حاجی عبد الحمید نے زمین کا ٹکڑا خرید کر انجمن کودیا۔ اس تحریک میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی شریک تھے۔ اسی سال ۱۷فروری کو آل انڈیا ریڈیو نے غالب پر تقار یر نشر کیں اور ۱۸فروری کو حیدر آبار میں یوم غالب منایا گیا۔

مزار غالب کی تعمیر اور غالب کے فکروفن کی اشاعت کی تحریک میں حکیم اجمل خان کے علاوہ خواجہ حسن نظامی بھی نمایاں حصہ لیتے رہے ۔ انہوں نے اخبارات و جرائد میں مزار غالب کی تعمیر اور ان کی قومی یادگار بنانے سے متعلق مضامین شائع کیے۔سچ یہ ہے کہ ۱۹۱۱ء سے لے کر ۱۹۳۶تک تقریباً ۲۵سال تک کئی مضامین شائع کرنے کے ساتھ اکابرین کی عملی جدو جہد نے مزار غالب کی تعمیر کو ممکن بنایا ۔ مزار غالب کی تعمیر کے مشن کا نیا مرحلہ شروع ہو ا ،۱۹۵۳سے ۱۹۶۸تک چوتھی مرتبہ نئے سرے سے مزار غالب کی تعمیر کی تحریک شروع ہوئی۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹناکر نے غالب میموریل ہال بنانے کی تجویز پیش کی ، اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد بھارت کے وزیر تعلیم اور ڈاکٹر بھٹناکر وزارت تعلیم کے سیکرٹری تھے۔ اس مرحلہ پر بھارت کے فرقہ پرستوں نے اس تجویز کی مخالفت شروع کر دی جس سے مولاناآزاد گھبرا گئے۔ تاہم انہوں نے مزار غالب کی تعمیر کے لیے جدو جہد جاری رکھی اور پھر مزار غالب کے لیے بھارت کے سر کردہ لوگوں نے چندے دینا شروع کر دیے۔ ان چندوں سے سنگ مر مر کی منقش تختیوں اور جالیوں کی تیاری کا کام جون ۱۹۵۴میں شروع ہوا اور چھ ماہ میں مکمل کر لیا گیا یہ کام غالب سوسائٹی نے مکمل کیا۔

وقت گزرتا گیا۔ بالی وڈ کے نامور ہدایت کار سہراب مودی نے مزارِ غالب فلم بنوائی۔ انہوں نے ۱۹۸۴میں مزارِ غالب تعمیر کرایا ۔ مئی۱۹۸۴میں ایک اور غالب سوسائٹی تشکیل دی گئی جس نے مزار غالب کے اطراف پھیلے تعفن اور گندگی کو دور کرنے اور ناجائز قابضین سے جگہ خالی کرانے کا کام کیا۔ اس سلسلہ میں قانونی چارہ جوئی ہوئی جو کامیاب رہی۔۲۰۰۳ء میں اس وقت کے بھارتی وزیر کلچر اینڈ ٹورازم مسٹر جگ موہن نے مزار غالب کا صحن از سر نو بنوایا۔ اور غالب کی اہلیہ کی قبر پر جالیا ں لگوائیں۔ ۲۸ستمبر۲۰۰۵کو حکومت بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے مزار غالب کو قومی اثاثوں کی فہرست میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔


مزار غالب کی تعمیر کی تاریخ مرزا غالب سے عقیدت رکھنے والوں کی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ سر کردہ اہل قلم اور اکابرین نے انفرادی طور پر حصہ لیا اور اس جدو جہد کے نتیجہ میں سرکاری طور پر مزار غالب کی مختلف مراحل میں تعمیر ممکن ہوئی ۔ غالب کی صدی کے موقع پر ۲۲فروری۱۹۶۹کو اس وقت کے بھارت کے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین نے غالب اکیڈمی کی عمارت کا افتتاح کیا۔ مزار غالب کے ساتھ غالب میوزیم بھی ہے جس میں مرزا سد اللہ خان غالب سے متعلق یاد گار اشیاء رکھی گئی ہیں۔ جس میں بنارس، لکھنؤ ، دہلی میں واقع ان مکانوں کی تصاویر شامل ہیں جن میں غالب نے رہائش اختیار کی، غالب کی مرغوب غذاؤں کے مصنوعی نمونے ، لباس کے نمونے ڈاک ٹکٹ ، مہریں اور تحریر کے نمونے ،غالب اور غالب کی غزلیں ، گانے والی ڈومنی کا مجسمہ اور غالب کے اشعار پر مبنی فنکار ایم ایف حسین ، ستیش گجرال اور فاروقی وغیرہ کی پینٹنگز اور بر جندرسیال کے سنگ ریزے موجودہیں۔

غالب اکیڈمی لائبریری جہاں غالب پر کتب و رسائل موجود ہیں ۔ اور غالب پر مطبوعہ مضامین کے تراشے بھی ہیں جن کی تقریباً۲۰۰فائلیں محفوظ ہیں۔غالب اکیڈمی آڈیٹوریم نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ جہاں مرزا غالب سے متعلق جملہ پروگرام ہوتے ہیں۔ ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات پر سیمینار ہوتے ہیں اور کلام اور پیغام غالب سے متعلق خطبات کا بھی اسی آڈیٹوریم میں اہتمام کیا جاتا ہے۔غالب اکیڈمی کے شعبہ نشرو اشاعت کے تحت ششماہی رسالہ ”جہانِ غالب ” شائع کیا جاتا ہے ۔ جس کا اجراء ۲۰۰۶ء میں ہوا تھا۔مرزا اسد اللہ خان غالب کا کلام کسی یاد گار کا محتاج نہیں اور نہ ہی ان کا فکر وفن مزار کی خوبصورتی اور بلندی سے تعلق رکھتا ہے۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

مرزا غالب کی رحلت کو تقریباََ ڈیڑھ صدی ہونے کو آئی ہے۔ تعمیر مزار کی داستان کھلی کتا ب کی طرح ہے ۔ اس ڈیڑ ھ صدی کے دوران مزار کی حالت کیا رہی ۔۔۔ کیا کیا تبدیلیاں لانے کی کوششیں کی گئیں؟ کیا یہ کوششیں ایک قومی یادگار کی تعمیر میں معاون ثابت ہوئیں ؟ بھارتی حکومت اور بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ اور اہل ادب نے اس جانب کس انداز میں توجہ دی؟ اس کا مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ویسے بقول غالب:
کوئی امید بَر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *