• صفحہ اول
  • /
  • متفرقات
  • /
  • تعلیم و زبان اور احساس ، ذریعہ تعلیم اور زبان ۔۔۔ وقار مصطفیٰ

تعلیم و زبان اور احساس ، ذریعہ تعلیم اور زبان ۔۔۔ وقار مصطفیٰ

میں بحثیت طالب علم برائے کتاب زندگی مختلف جگہوں اور تقریبات میں جاتا ہوں پچھلے کچھ عرصہ سے میں ایک تحقیقی مقالہ کے سلسلہ میں مختلف ادبی نشستوں میں گیا اور ان کو ایک نئی نظر زاویہ سے دیکھا۔ اب بات یہ ہے کہ زبان کا تعلق جس چیز سے لاشعور میں ہے ۔ وہ ہے احساس اور اس کے علاوہ یقینی طور پر یہ چیز تعلیم کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے ۔
قیام ملک کے بعد سے ہی زبان کا ہمارا معاشرہ میں موضوع گرم رہا ہے۔ خواہ یہ بنگالی، اردو کا مسئلہ تھا یا اب اور پہلے بھی اردو کا دیگر علاقائی زبانوں کے درمیان مسئلہ تھا۔ سب سے پہلے کچھ واقعات ماضی سے، پھر حال میں سے قیام پاکستان کے ساتھ ہی انگریزی، اردو اور اردو، بنگالی کا موضوع خبروں میں آنا شروع ہو گیا تھا۔ یہ نقطہ تو اب عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے کہ ابتدائی تعلیم کو مادری زبان میں ہونا چاہیے اور دنیا میں ایک بھی ایسی قوم نہ ہے جس نے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے بغیر ترقی کی ہو۔ تمام ترقی یافتہ اقوام چین، جاپان، فرانس اور جرمنی سمیت سب نے ذریعہ تعلیم اپنی مادری زبان کو ہی بنایا۔ پھر دنیا میں اپنا مقام پیدا کیا۔ لیکن پاکستان میں قومی زبان اور ذریعہ تعلیم کس زبان میں ہونا چاہیے یہ بات شروع سے ہی ایک اختلافی مسئلہ بنی رہی۔ دنیا بھر میں جس ملک میں زبان کی بنیاد پر فسادات ہوئے مظاہرے ہوئے اور لوگ اپنی جانوں سے گئے ۔ ان میں سر فہرست وطن عزیز ہی ہے۔
عالمی سطح پر ہماری قومی تاریخ کے ایک واقعہ 21فروری1952کے دن ہونے والے قتل عام کی وجہ سے ہی 21فروری کو اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی یوم ماں بولی قرار دیا گیا ہے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے قیام میں جن دو چیزوں نے بظاہر نمایاں کردار ادا کیا ان میں ایک مذہب اور دوسری اردو زبان ہی تھی۔ لیکن یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کی وجہ بننے والی تحریک کی بنیاد بھی 21فروری1952کو ہی پڑی۔ یہ نقطہ بھی اپنی جگہ تحقیق طلب ہے کہ اردو اور اسلام کو لازم و ملزوم کیوں سمجھا گیا ؟ جبکہ دنیا بھر میں، اسلام اور مقامی ثقافت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وسطی ہند کے مسلمان مذہب کے ساتھ ساتھ شاید اردو کی وجہ سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ اب یہ بھی 100فیصد حقیقت ہے کہ جس زبان کو اب پنجاب اور کراچی میں اردو کہا جاتا ہے۔ یہ زبان اتر پردیش اور جمنا دوامی دوآبہ میں ہندی کہلاتی ہے ۔ اور ماضی میں بھی اس کے نام مختلف رہے ہیں۔ آج کے پاکستان میں نظام تعلیم کے حوالے سے بے شمار مسائل ہیں۔ ان میں سر فہرست نصاب تعلیم اور ذریعہ تعلیم انگریزی میں ہو یا اردو میں۔ بلکہ اس سے بھی آگے کہ سندھی، پشتو اور پنجابی (سرائیکی) کو بھی ذریعہ تعلیم بنانے کی آوازیں ملک کے گوشوں میں بہت نمایاں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام بچے ایسی تعلیم حاصل کریں جو کہ ان کو شعور، سمجھ اور دنیا سے آگہی کے اہداف کی حقیقی تکمیل کر سکے۔
اب اصولی  بات تو یہ سمجھ آتی ہے کہ یہ کام وہ اپنی زبان میں با آسانی کر سکتے ہیں۔ اب یہ مسئلہ یا سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان جیسے ملک جہاں ہر شعبہ کو اب عملاً انگریزی کے بغیر چلانا صرف نا ممکن ہے ۔ وہاں پر مقامی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنا کر کیا صرف ڈگری یافتہ کی تعداد میں اضافہ کر کے ہم ترقی اور بین لالقوامی ہم آہنگی کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں؟ دوسری طرف تمام تر سروے اور تحقیق جو کہ مقامی اور عالمی اداروں نے کی ہے ۔ اس میں یہ ثابت ہوا کہ صوبہ پنجاب میں پرائمری اور مڈل کی سطح پر دیہی سکولوں میں بچوں کو سکولوں سے نکالنے کی شرح (جو کہ بہت زیادہ ہے) کی سب سے بڑی وجہ ان کا نئی زبان میں ملنے والی تعلیم سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔
اس سب کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے۔ ہمارا نظام تعلیم ۔۔وہ یہ کہ دوسری طرف مہنگے نجی انگریزی میڈیم سکولز ہیں۔ جن میں پڑھنے والے بچوں کی اکثریت انگریزی زبان کو ترجیح دیتی ہےاور صرف اس واحد خوبی کی وجہ سے عملی زندگی میں بہتر کار کردگی دکھا جاتی ہے ۔ دوسری طرف اردو میڈیم کے بے شمار طلباء انگریزی سیکھنے کے شوق میں کسی اور کام کے بھی نہ رہے۔ صرف ایسی چیز نے ان کو احساس کمتری کا مریض بنا دیا۔ اس مسئلہ کا حل ہمارے تمام دانشور اور حکومتی اراکین کو سوچنا ہو گا کیونکہ یہ سب اس طرح مزید نہیں چل سکتا۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تعلیم و زبان اور احساس ، ذریعہ تعلیم اور زبان ۔۔۔ وقار مصطفیٰ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *