ستارے

ہم جب شیخ چوگانی مزار کے پاس دریا کے کنارے بیٹھے تھے تو شام کا شفق ختم ہو رہا تھا اور دریا کے کنارے ایک خوابناک منظر تھا۔ جواد، عاطف اور سعدیہ الگ تھے اور کہیں دور کسی بات پر زور زور سے بحث کر رہے تھے، اچانک ستاروں سے بھرا آسمان روشن ہوگیا، اور یوں لگا جیسے ہم کسی ملکوتی جہاں میں سانس لے رہے ہیں۔

محبت میں ہر شے کے معنی کیوں بدل جاتے ہیں۔ ۔۔ایک دم شاماں میری طرف جھکی اور بولی شیری۔۔دیکھو آسمان کی طرف، میں نے شام کی طرف دیکھا، اس کا چہرہ یوں کھلا تھا کہ میں سانس لینا بھول گیا۔ پھر آسمان کی طرف دیکھا، میرے عین اوپر ایک روشن ستارہ تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم جانتے ہو یہ ستارے کون ہیں۔ ۔۔۔؟

میں نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ وہ بولی یہ ہمارے اپنے ہیں جو ہم سے رخصت ہو گئے۔میں نے بڑے الگ انداز سے ستاروں کو دیکھا، اس نے بڑے وثوق سے کہا میں ان میں سے اکثر ستاروں کو جانتی ہوں اور ان سے باتیں کرتی ہوں۔

میں نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا اور کچھ نہ بولا۔

اس نے کہا ،کیا تھیں  محبت پر یقین نہیں ہے،میں نے کہا مجھے یقین ہے۔

اس نے کہا تو پھر تم یہ بات ابھی نہیں سمجھو گے۔۔ جب تم سے کوئی اپنا بچھڑے گا تب تمہیں سمجھ آئے گی۔

آج سالوں بعد میں نے دوبارہ وہی ستاروں بھرا آسمان دیکھا تو میرے عین اوپر ایک روشن ستارہ چمک رہا تھا۔

میں نے ستارے کو دیکھا تو مجھے شام کی مسکراہٹ ذہن میں آئی۔ میں نے پھر اس روشن ستارے کی طرف دیکھا ،

واقعی یہ ستارے میرے اپنے ہیں اور میں اپنی شاماں کو کیوں نہیں پہچان سکتا ۔۔۔جو اب آسمان کا روشن ستارہ بن چکی ہے!!

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *