بلیک باسٹرڈ ؛ بابا محمد یحیی خان

تھا جو نا خوب ، وہی خوب ہوا
(پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان سے اقتباس)
​ایک بار لیڈز کی کرکٹ گراونڈ میں ایک پاکستانی چوکے پہ تالیاں بجانے کی پاداش میں مجھے ایک شرابی انگریز نے غصے میں “بلیک باسٹرڈ” کہہ دیا۔ میرے ساتھ چند ایک دوست بھی تھے جو فورا ًمرنے مارنے پر آمادہ ہو گئے مگر میں نے اشارے سے انہیں روک دیا اور اس انگریز کو بڑی نرمی سے کہا
“پلیز ، ونس مور۔۔۔”

اس نے پھر مجھے یہی کچھ کہہ دیا ، میں نے شکریہ ادا کر کے ایک بار پھر یہی کہنے کے لیے کہا اُس شریف آدمی نے پھر میری خواہش پہ یہی کچھ تیسری بار دوہرا دیا۔۔۔ اب یہ حال کہ وہ میری خواہش بلکہ فرمائش پوری کرتے کرتے تنگ آگیا اور اُٹھ کر بائیں طرف دور جا کر بیٹھ گیا ، وہ بڑے انہماک سے میچ دیکھنے میں مگن تھا۔ اسی اثنا میں وسیم نے ایک اور چوکا جو ٹکایا تو میں نے خوشی اور وارفتگی کے عالم میں پھر تالیاں پیٹنی شروع کر دیں۔ اُس نے اچانک میری جانب دیکھا اور ” او ، نو” کہتے ہوئے اٹھنے لگا تو میں نے اُس کی کلائی پکڑ لی اور کہا
“جنٹلمین! پلیز ، صرف آخری بار پھر وہی کچھ کہو ۔۔۔”
اُس کا نشہ شاید کچھ ہلکا پڑ چکا تھا ، وہ بکری کی طرح ممیاتے ہوئے کہنے لگا۔
“آخر تم بار بار کیوں مجھ سے گندی گالی کہلوانے پہ اصرار کر رہے ہو؟”
میں نے اسے تُرت سا جواب دیا ” مجھے مزہ آتا ہے ۔۔۔”
وہ یوں مجھے دیکھ رہا تھا جیسے میں کوئی ذہنی طور پر کھسکا ہوا اس کے سامنے بیٹھا ہوں۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“جب تم مجھے بلیک کہتے ہو تو میں خوشی سے پاگل سا ہو جاتا ہوں۔۔۔۔ ایک تم ہی تو مردم شناس ملے ہو جو مجھے کالا کہتے ہو، ورنہ لوگ تو مجھے اجلا سمجھتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔۔۔”
وہ اب پوری طرح میری جانب متوجہ ہو چکا تھا اور نشہ بھی جیسے کہیں وشہ ہو گیا تھا ، کہنے لگا
” مگر میں تو تمہیں بلیک کے ساتھ باسٹرڈ بھی کہتا ہوں ، یہ لفظ تمہیں برا نہیں لگتا۔ تمہیں اس لفظ کے معنی معلوم ہیں ، اس گندی گالی پر تمہارا خون نہیں کھولتا؟ ”
نہیں ، بالکل نہیں۔۔۔ میں نے قطعیت سے کہا۔۔
تم نے مجھے کالا ، شاید میرا لباس یا میرا اندر دیکھ کر کہا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ تم ظاہر اور باطن شناس ہو اور تم شاید یہ بھی جان گئے ہو گے کہ مجھے کالا کہلوانا پسند ہے۔ باقی رہا یہ کہ تم مجھے باسٹرڈ کہتے ہو تو کوئی کسی دوسرے کو کچھ بھی کہہ سکتا ہے ، یہ لفظ میں بھی تمہیں کہہ سکتا ہوں، لیکن کہنے سے پہلے مجھے سوچنا چاہیے کہ مجھے کسی اچھے یا برے انسان کے لیے بغیر تحقیق ، ایسے ناروا قسم کے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں یا نہیں؟ تم شاید نشے کی ترنگ میں ایسا کہہ گزرے ہو یا عربوں کی سوچ کی طرح ہم ایشین ، خاص طور پر یہ پاکستانی بھی تم یورپین قوموں کی نظر میں محض عجمی ہیں، جو اپنے گراونڈ میں ہمارے سنگل ڈبل چوکے چھکے اور آوٹ برداشت نہیں کر سکتے ۔جب کہ ہم نے اپنے ملک میں دو سو برس آپ کا جبری تسلط برداشت کیا ہے۔۔۔ اور ہاں ، پڑھے لکھے اور سمجھدارلوگ ، حرامی اسے نہیں کہتے جو حرامُ الولد ہو بلکہ اسے کہتے ہیں جو محسن کش اور بے محابا عیار و مکار ہو۔ اگر یہ برائیاں تمہیں مجھ میں دکھائی دی ہیں تو مجھے باسٹرڈ کہنے میں حق بجانب ہو اور اگر نہیں تو جان لو کہ تم کسی زعم ، غرور ، کسی احساس برتری یا پھر شراب کے نشے میں تھے اور اسی لیے ہمارے دین میں شراب یا نشے سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے کہ اس سے انسان اچھے بُرے کی تمیز ، رشتوں کی پہچان اور تقدس ، کہنے سننے ، دیکھنے ، محسوس کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔۔۔”
وہ مجھے یوں ہکا بکا سا دیکھ رہا تھا جیسے میں پہلے کوئی پتھر تھا اور اب مجھے زبان لگ گئی ہو۔۔۔
شرمندہ سا کہنے لگا۔۔۔
“جنٹلمین! آئی ایم رئیلی سوری ، مجھے اپنے ان الفاظ پر بڑی ندامت محسوس ہو رہی ہے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ تم مجھے فراخ دلی سے معاف کر دو گے۔۔۔” اس نے جیب سے ایک کارڈ نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا۔۔
“میرا نام رابرٹ کلے ہے ، میں ہیون آئس اسکیٹنگ اسٹیڈیم میں گراونڈ مینیجر ہوں۔ میں آپ سے پھر مستقبل قریب میں ایک تفصیلی ملاقات کرنا چاہتا ہوں”
مسٹر کلے! میں ایک سیلانی سا انسان ہوں۔ آج یہاں اور کل کہیں اور۔۔۔ بائی دی وے ، میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم مجھ سے کس سلسلے میں ملنا چاہتے ہو؟
وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولا “مجھے تم میں ایک مخصوص سی چھپی ہوئی شخصیت دکھائی دیتی ہے۔ مجھے تمہارے آج کے اس عجیب برتاو ، برداشت اور بلیک کلر سے محبت نے بڑا متاثر کیا ہے۔۔۔ تمہیں شاید اپنے الفاظ یاد ہوں ، تم نے کہا تھا کہ ” ایک تم ہو جو مجھے کالا کہتے ہو ورنہ لوگ مجھے اُجلا سمجھتے ہیں” میں یہ تو نہیں سمجھتا کہ مجھے باطنی اور روحانی علوم سے دلچسپی ہے یا ان کی کچھ سمجھ ہے لیکن میں نیپال ، کھٹمنڈو ، آسام ، جاوا سماٹرا میں کافی گھوما ہوں۔ سینٹ ، صوفی ، یوگی ، باوا لوگ مجھے بہت پراسرار دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے آج یوں محسوس ہو رہا ہے کہ تم بھی کچھ ایسے ہی ہو۔۔۔ میں تم سے مل کر کچھ سیکھنا چاہتا ہوں ، مذہب اور مشرقی علوم کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہوں”
میں نے اُسے اپنا ٹیلیفون نمبر اور پتہ لکھواتے ہوئے کہا۔۔۔
“مسٹر کلے! یو آر موسٹ ویلکم ، اگلے ہفتے تک تم کسی بھی وقت مجھے مل سکتے ہو”
اگلے کرسمس سے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے مسٹر کلے بریڈ فورڈ جامع مسجد میں با رضا و رغبت مسلمان ہو گیا۔ میں نےاس کا اسلامی نام محمد علی رومی تجویز کیا۔ میں نے اس کی شادی اسی کی خواہش کے مطابق لیسٹر کے ایک انتہائی دیندار مسلم گھرانے میں کرائی۔ اس کی بیوی انتہائی پڑھی لکھی ، پردہ دار خاتون ہیں۔ دونوں میاں بیوی برسرِ روزگار ہیں ، تبلیغ اور دین کے دیگر کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اب تو ما شاء اللہ ان کے بچے بھی بڑے ہوگئے ہیں۔ محمد علی رومی کو اب یہ بھی یاد نہیں کہ اس کا ماضی کیسا تھا اور کیا تھا؟ وہ تو اب اپنی آخرت سنوارنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ دیکھ کہ نگاہ ، صبر سبھاو اور سجل سُبک بول سے کیسے کیسے گرانڈیل اور ژولیدہ خاطروں کونکیل ڈالی جا سکتی ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بلیک باسٹرڈ ؛ بابا محمد یحیی خان

  1. نگاہِ مردِ مومن سے تو تقدیریں بدلتی ہی ہیں لیکن اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ برتاؤِ مردِ مومن سے بھی
    قدیریں بدل جایا کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بس تھوڑی برداشت تحمل اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔ اخلاقی تربیت کے لئے ایک بہترین سبق دیتی ہوئی تحریر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *