سنگیت شناس۔۔ایوب اولیا: آصف جیلانی

جناب یوسفی صاحب کے بارے میں لوگوں کو تعجب ہوتا تھا کہ کہاں، بنکوں کے بھاری بھرکم کھاتے اور پیچیدہ حساب کتاب ، وہاں ایسے پھڑک دار طنز و مزاح کی امامت کیسے ممکن ہے۔
اب ہمارے ایوب اولیا بھی ان سے کچھ کم نہیں ہیں ، بلکہ ان سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ برسوں پرانی بات ہے جب ان سے پہلی بار تعارف ہوا تھا تو انہیں ہمیشہ پی آئی اے کے اکاونٹس کے شعبہ میں حساب کتاب میں غرق پایا۔ لیکن اس کے ساتھ شاعری اور موسیقی میں بھی ہمہ تن سر شار نظر آئے۔
ایوب اولیا، یوسفی صاحب سے اس لحاظ سے بہت آگے بڑھ گئے کہ حساب کتاب کے ساتھ ساتھ شاعری اور موسیقی کے شوق کو زندہ رکھااور یہی نہیں اس سے بڑھ کر انہوں نے موسیقی کے ممتاز گھرانے کو بڑی کامیابی سے اپنا سسرال بنا لیا ۔ پھر موسیقی کے گھرانے سے سسرالی تعلق کی بدولت صرف موسیقی سے شوق ہی نہیں بلکہ اس فن میں گہرا ادراک حاصل کیااوراس کے ساتھ شاعری نے ان کی شخصیت کو جلا بخشی ہے۔ یوں ایوب اولیا کی شخصیت صرف ایک فن ہی تک محدود نہیں بلکہ ان کی شخصیت متعددفنون ، صلاحیتوں،اوصاف ، ہنر اور جوہروں کی امتزاج ہے۔
بہت سے لوگوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ ایوب کے نام کے ساتھ اولیا کا لفظ اس بناء پر منسلک ہے کہ وہ ایک ولی نہیں بلکہ ولیوں کی جمع اولیا کہلاتے ہیں ، اپنے ان ہی فنون میں صلاحیتوں کی وجہ سے۔ اگر یہ نام ان کے والدین نے رکھا ہے تو بلا شبہ ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ مختلف فنون میں صلاحیتیں حاصل کریں یا انہیں وثوق سے یقیں تھا کہ ایوب اپنے جذبہ شوق اور عزم و ارادہ کی بنیاد پر متعدد فنون سے سر سرشار ہوں گے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہے۔
ان کی کتاب سنگیت کار سے ایوب اولیا کی تہہ دار شخصیت اجاگر ہوتی ہے۔ تعلیم تو انہوں نے فورمین کرسچین کالج میں طبیعات اور ریاضی کی حاصل کی لیکن لندن آکرانہوں نے اکاونٹسی ، قانون اور ایڈمنسٹریشن کے شعبوں میں مہارت حاصل کر کے ایک نئی راہ اختیار کی اوراب سنگیت کار تصنیف کر کے انہوں Related imageنے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ اعلی پایہ کے موسیقی شناس ہیں۔ مشہور شخصیت اور گھرانے سے وابستگی کی وجہ سے عام طور پر انسان کی خود اپنی شخصیت گہنا جاتی ہے ، لیکن ایوب اولیا کے ساتھ یہ نہیں ہوا۔ انہوں نے استاد اللہ رکھا کے مشہور گھرانے سے وابستگی کے باوجود اپنی منفرد شخصیت کو درخشاں رکھا ہے ۔ شاعری اور موسیقی شناسی کے فن میں ایوب اولیا کے اعلی درجات کا ان کی کتاب سنگیت کار اس کا نمایاں ثبوت ہے۔
عام طور پر تو کتاب کی اشاعت کے بعد اس کے بارے میں تبصرے اور تجزیے اخبارات اور رسایل کی زینت بنتے ہیں لیکن آج کل ایک نرالی ریت ہے کہ کتاب ہی میں ممتاز ادبی شخصیات کے تبصرے اوران کی آراء شایع کردی جاتی ہیں۔ ایک تو کتاب کافی ضغیم بن جاتی ہے دوسرے، کتاب کے مطالعہ سے پہلے ہی پڑھنے والے پر کتاب کی وقعت روشن ہو جاتی ہے اور ان ممتاز شخصیتوں کی انگلی پکڑے پکڑے آپ کتاب کا سفر بڑی دلکشی کے ساتھ طے کر لیتے ہیں۔
سنگیت کار میں علی سردار جعفری، احمد ندیم قاسمی، پروفیسر رالف رسل،پنڈت روی شنکر روشن آراء بیگم ، نوشاد علی ، عبد اللہ حسین اور ساقی فاروقی کی آراء شامل ہیں۔اب کون ہے جو ان شخصیات کی آراء پڑھنے کے بعد پوری کتاب سے لطف اندوز نہ ہوگا۔
دھرپد، خیال اور دادرا کے فرق کے بارے میں سطحی جان کاری کے بعد میں اپنی جانم میں یہ سمجھتا تھا کہ میں موسیقی کے فن سے پوری طرح سے واقف ہوں۔ لیکن ایوب اولیا کی تصنیف سنگیت کار پڑھنے کے بعد میری خود ستائی کا محل مسمار ہو گیا۔ اس کا مجھے قطعی افسوس نہیں بلکہ خوشی ہے کہ مجھے تفصیل سے موسیقی کے راز جاننے کا موقع ملا اور اب میں پہلے سے کہیں زیادہ موسیقی سے لطف اندوز ہو سکتا ہوں یہی نہیں اب میں اپنے آپ کوموسیقی شناسی کے میدان کا سورما سمجھنے لگا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی استاد ایوب اولیا کے سامنے ہیچ ہوں۔
بلا شبہ ’’سنگیت کار ‘‘، ایک نایاب تحفہ ہے ۔اور کہاں ایک نشست میں آپ بڑے غلام ، پنڈت روی شنکر، استاد اللہ رکھا،امیر موسیقی، امیر خان صاحب، استاد برکت علی خان، مختار بیگم رسولن بائی ، سارنگی نواز استاد نتھو خان ، روشن آراء بیگم ، کے ایل سہگل، نور جہاں فریدہ خانم اور ناھید نیازی ایسے ممتاز فنکاروں کے بارے میں جان سکتے ہیں اور وہ بھی ایوب اولیا کے منفرد دلچسپ پیرائے میں ۔
میں ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب سے پوری طرح سے اتفاق کرتا ہوں کہ ایوب اولیا نے اپنے مضامیں کے ذریعے کلاسیکی موسیقی اور غزل کی گائیکی کے ایک روشن اور درخشاں عہد کو زندہ کر دیا ہے ۔ ان شخصی خاکوں میں انہوں نے ایسے دلکش اور خوبصورت رنگ بھر دئے ہیں کہ فی الحقیقت ایک مرقعِ سنگیت وجود میں آگیا ہے ۔  مضامین تو سنگیت کار کے سب لاجواب ہیں لیکن سب سے زیادہ مجھے ان کا مضموں غالب اور موسیقی پسند آیا ہے، جس میں انہوں نے مرزا غالب کی موسیقی شناسی پر روشنی ڈالی ہے۔ غالب کے بارے میں ایوب اولیا کا یہ بیان واقعی اچھوتا ہے کہ مرزا غالب اپنے زمانے کے مروجہ علوم و فنون سے کما حقہ با خبر تھے۔ علم الکلام و منطق ، قانون، طب، نجوم ، علم تاریخ اور موسیقی سے گہری وابستگی تھی اور اسی بناء پر ان علوم و فنون کی اصطللاحات سے آگاہ تھے اور ان کا بر محل استعمال اپنے اشعار و افکار میں کرتے تھے۔ ایوب اولیا کا کہنا ہے کہ غالب جہاں کہیں مشکل ادق یا اچھوتا خیال پیش کرنا چاہتے تھے وہ موسیقی کی علامتوں اور تراکیب پر تکیہ کرتے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی شعر میں تین اور چار تک موسیقی کی علامتیں اور ترکیبیں استعمال کرتے ہیں۔
مرزا غالب کے بارے میں یہ مضمون پڑھنے کے بعد آپ کو الگ سے دیوانِ غالب کے مطالعہ کی ضرورت نہیں رہتی۔موسیقی اور دوسرے بے شمار موضوعات پر مرزا غالب کے اتنے زیادہ منتخب اشعار ، اس مضمون میں شامل ہیں کہ آپ، دیوان غالب کھولنے اور کھکھوڑنے کی زحمت سے بچ جاتے ہیں۔
ویسے بھی سنگیت کار کے دوسرے مضامین میں جا بجا اشعار کے سلمہ ستارے جڑے ہوئے ہیں ،جن کی وجہ سے یہ مضامیں جگمگا اٹھے ہیں۔
بہت سے لوگ ، استاد عاشق علی خان کو بھول گئے ہیں جو پنجاب میں کلاسیکی موسیقی کے بانی مانے جاتے ہیں اور ان کے دم سے پٹیالہ گھرانا وجود میں آیا ہے۔ ایوب اولیا نے ان کی یاد تازہ کردی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خان صاحب عاشق علی خان ایسے زبردست گویئے تھے کہ آج تک ان کی گائیکی کو ’’جناتی گائیکی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا انداز اتنا اچھوتا اور پیچیدہ تھا کہ بڑے سے بڑا گوئیا ان کے آگے پانی بھرتا تھا۔
“گائیکی کا تدریجی ارتقا” کے عنوان کے تحت ایک جائزے میں ایوب اولیا نے لکھا ہے کہ بر صغیر ہندو پاکستان کی موسیقی کی ترویج وترقی کے لئے یہاں کی تمام قوموں نے خاطر خواہ کوشش کی ہے، خصوسی طور پر یہ شاستری فن ہے جو ہندو پاکستان میں پچھلے تین ہزار سال مروج ہے۔ شروع شروع میں صرف تین سروں پر مشتمل اشلوک وغیرہ پڑھے جاتے تھے جیسے کہ ہمارے ہاں فقیر وغیرہ بازاروں میں پڑھتے ہیں اور گائے جاتے ہیں۔  ایوب اولیا لکھتے ہیں کہ جوں جوں ذہن انسانی ترقی کرتا گیا سروں کی تعداد بڑھتی گئی اور موسیقی کے ودوانوں نے یہ طے کیا کہ راگ کے پانچ سے کم سر نہیں ہو سکتے اور دور حاضر میں پانچ ، چھ اور سات سر کے راگوں کو گایا جاتا ہے ۔
لیکن میں پورے وثوق سے یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ اب سنگیت کار کی تصنیف کے بعد کلاسکی موسیقی کی دنیا میں ایک نئے سر کا اضافہ ہو گیا ہے اور وہ ہے ’’اولیا سر‘‘ جس کے بغیر موسیقی شناسی ممکن نہیں۔
آپ سب کا شکریہ اور خاص طور پر ایوب اولیا کا شکریہ جنہوں نے سنگیت کار کی صورت میں یہ خوب صورت تحفہ عطا کیا ہے۔

آصف جیلانی
آصف جیلانی
آصف جیلانی معروف صحافی ہیں۔ آپ لندن میں قیام پذیر ہیں اور روزنامہ جنگ اور بی بی سی سے وابستہ رہے۔ آپ "ساغر شیشے لعل و گہر" کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *