ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 204 )

محبت کی سرگوشیاں۔سائرہ ممتاز

زندگی یوں تو چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ کے مرغولوں میں بھی سما سکتی ہے لیکن سیمابی ء  فطرت کا تقاضا ہے کہ بھاپ کو دور تک جانے دیا جائے اور پھر بخارات کی کمی سے جنم لینے والی←  مزید پڑھیے

ماں۔فرحانہ صادق/افسانہ

 آج سدرہ نے پھر ویسا ہی خواب دیکھا ۔ وہ ایک سرسبز چراہ گاہ کے بیچ و بیچ دونوں بانہیں پھیلائے کھڑی ہے ۔ دور تک سنہری دھوپ کھلی ہوئی ہے ۔ شہابی رنگت اور سنہری بالوں والا تین چار←  مزید پڑھیے

پرواز۔۔۔ ساجدہ سلطانہ

  آج وہ پھر روزانہ کی طرح اس کے در پہ جا پہنچا۔ وہ اسی طرح اداس سی، سر نہوڑاے کھڑکی میں بیٹھی تھی۔ اسے اس طرح قیدِ تنہائی میں سسکتا دیکھ کر اس کا دل بھر آیا۔ کہیں ایسا←  مزید پڑھیے

جرنیلی سڑک۔۔۔ ابن ِ فاضل /قسط6

کھاریاں کے متعلق قابل خرگوشی کا شگوفہ ہے کہ وطنِ عزیز کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ‘کھا ریاں’ ہونا چاہیئے ۔مثلاََ اگر کوئی کسی بٹ یا کسی عوامی نمائندے سے پوچھے کہ کیہہ کررہے ہوپائین؟ اور وہ جواب←  مزید پڑھیے

پاگل۔۔۔مظفر عباس

میں آئینے میں ایک پاگل کو دیکھ کر مخاطب ہوا۔ سب لوگ کہتے ہیں میں پاگل ہوں۔ ہاں شاید میں پاگل ہی ہوں گا۔ کیونکہ اگرمیں اپنے آپ کو پاگل نہیں سمجھتا تو اس کا مطلب ہے کہ میں پاگل←  مزید پڑھیے

اپنی دنیا خود پیدا کر۔۔۔ رابعہ احسن

اس کی آ نکھوں کے سامنے اس وقت جو منظر تھا وہ کسی قیامت کا ہی حصہ ہوسکتا تھا وہ جو اپنے نازک احساسات اور جذبات لئے کتنی دیر سے انتظار کی گھڑیاں گن رہی تھی اپنےحنائی ہاتھوں پہ اک←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ ،ٹارگٹ ،ٹارگٹ۔کرنل ضیا شہزاد/قسط 16

بِل وِل مئی 1998 میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم فیملی کو پشاور شفٹ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ فوج کے اصول کے مطابق میریڈ اکاموڈیشن اور الاؤنسز کے لئے بلوغت کی حد 26 سال←  مزید پڑھیے

خواہش۔۔۔ جانی خان

کڑکتی دھُوپ اور ناہموار سی سڑک پر سلیم دُوکانداروں کے سامان سے لدی ریڑھی کھینچے جارہا تھا۔ ریڑھی کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ اور بے ترتیب سی چال سے اُن پہیوں کی ضعیفی کا پتہ چلتا تھا۔ جس سے ریڑھی کو←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط9

راولپنڈی میں، جہاں میں مشن ہائی سکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، مارچ ۱۹۴۷ء کو فسادات پہلے شروع ہوئے۔ کچھ لوگ مارے گئے، کچھ گھر جلا دئے گئے۔ میرا پنجاب یونیورسٹی کا میٹرک کا امتحان ۴ /←  مزید پڑھیے

میری کتوں سے نہیں بن پائی۔شاہد یوسف خان

اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے کتوں سے تعلقات ذرا کشیدہ ہی رہے ۔اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ بچپن میں دو بار چوری سے کاٹ لیا ہے۔ پھر تو انہیں آج تک جہاں بھی دیکھتا ہوں لتاں←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔جاویدخان/قسط5

اس سارے علاقے میں مچھلی کے فارم بنائے گئے ہیں۔مچھلی کی صنعت کو اس شفاف پانی والے علاقے میں مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔مچھلی کی مانگ اس وقت پوری دنیا میں دن بدن بڑھ رہی ہے۔یوں ضرور ت اور معیشت←  مزید پڑھیے

خوشبوؤں کے شہر سے ۔صاحبزادہ عتیق الرحمٰن

‎پھر کہتے ہیں ‎فرشتے کیوں نہیں اترتے نصرت کو ؟ ‎رحمت کیوں نہیں برستی ؟ ‎نعمتیں کیوں اٹھتی جارہی ہیں ؟ ‎تو سنو ، سنو ‎زمانے کے بہرو! ‎عقل کے اندھو! ‎مردہ دلوں کے مالکو! ‎بھُس بھری کھوپڑیوں والو !←  مزید پڑھیے

سکون ۔۔۔ احمد رضا بٹ

سکون ! . . .انتہائی معمولی لفظ ، انتہائی غیر معمولی احساس . . .سوچ رہا ہوں کیا یہ سچ ہے کہ انسان زندگی میں جو کچھ بھی کرتا ہے وہ صرف اپنے سکون کی خاطر کرتا ہے ؟اگر سچ←  مزید پڑھیے

یادوں کے جگنو۔رفعت علوی/قسط4

 طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں! کہیں ایسا نہ ہوجائے ۔۔کہیں ویسا نہ ہوجائے! مشعال فلسطینی مہاجر تھا۔ گلاب سوکھ جاتے ہیں، باغ اجڑ جاتے ہیں ، تتلیاں اڑ جاتی ہیں،←  مزید پڑھیے

بھٹائی اور ایاز۔۔۔ نعیم الدین جمالی

آج بھٹائی کا عرس ہے.سوچا کچھ لکھوں، لیکن جہاں بھٹائی کا خیال آتا ہے وہاں ایاز کو بھولنے نہیں پاتا ـ .سندھی ادب پر پہاڑوں جتنا بلند اور آکاش جتنا عظیم احسان اگر کسی نے کیا ہے تو وہ بھٹائی←  مزید پڑھیے

آنکھ بھر تماشا ہے، افسانہ یا حقیقت۔۔۔فارحہ ارشد

کلیشے کا بازار پہلے بھی گرم تھا اب بھی ہے۔ سطحی لکھنے والے اورگہرائی و گیرائی سے لکھنے والے بھی ہر دور میں رہے ہیں ۔بس فرق یہ ہے کہ سطحی لکھنے والا دوسروں کےقائم کردہ طلسمی ہالےکے اندر ہی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط8

میں استاذی منشی تلوک چند محروم سے ملنے کے لیے دوسرے دن وقت سے پہلے ہی پہنچ گیا۔ ابھی کوئی کلاس پڑھا رہے تھے۔ چپڑاسی کواب میری آمد شاید قبول تھی کہ وہ مجھے ان کا بھتیجا یا بھانجا سمجھ←  مزید پڑھیے

چاند کا آنسو۔مریم مجید ڈار

چاند کی بڑھیا کی آنکھوں میں دو آنسو رہا کرتے تھے ۔ایک شام جب بڑھیا سوت کات رہی تھی تو یونہی اس نے زمین پہ جھانکا۔۔تو اس نے کیا دیکھا؟؟؟ اس نے دیکھا کہ زمین کی سبھی عورتیں بہت دکھی،←  مزید پڑھیے

جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل/قسط5

گجرات کے باسی طبعاً بچوں ایسے ہیں یعنی بہت معصوم اور ضدی ہیں۔ اب دیکھیے نا کہ کسی بھی محفل سے جاتے ہوئے انسان معصومیت کی بنیاد پر اپنا جوتا بھول جائے اور جاتے ہوئے کسی اور کا تھوڑا بہتر←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔جاوید خان/قسط4

دریاکنارے جابجا مکئی کے کھیت پھیلے تھے اور ان کے سروں پر ترشول نما سِلے نکل آئے تھے۔چھلیوں میں فطرت نے دانے بھرنے کاعمل شروع کردیا تھا۔ مکئی کے پودے اپنے پھلنے پھولنے پہ خوش نظر آرہے تھے وہ مست←  مزید پڑھیے