چلے تھے دیو سائی۔جاوید خان/قسط4

دریاکنارے جابجا مکئی کے کھیت پھیلے تھے اور ان کے سروں پر ترشول نما سِلے نکل آئے تھے۔چھلیوں میں فطرت نے دانے بھرنے کاعمل شروع کردیا تھا۔ مکئی کے پودے اپنے پھلنے پھولنے پہ خوش نظر آرہے تھے وہ مست ہوکر جھوم رہے تھے لازماً اِن کو سینچنے والے کسان بھی جھومتے ہوں گے۔بعض پہاڑ ی چوٹیاں سبزے سے محروم تھیں ان پر سفید ی نما سخت پھتریلی بجری نمایاں تھی۔ایک جگہ سڑک کنارے فولادی دستوں پہ جست کی چادر کاایک بڑا رنگین کتبہ (بورڈ) جَلی حروف لیے کھڑا تھا
”ہماری شہ رگ ہماری سڑکیں ہیں“

میں شہ رگ کے لفظ پہ چونکا۔شہ رگ زندگی کی ضمانت ہے۔ شہ رگ زخمی ہو جائے تو زندگی جاتی رہتی ہے۔مگرشہ رگ لہولہان ہو خون فواروں کی طرح اُچھل اُچھل کر پھیل رہا ہو۔دوسری طرف زندگی گہماگہمی میں گم،برابر مُسکراتی،چہکتی لشکاتی ہنگامہ دنیا میں بُری طرح اُلجھی ہوتو ایسے دعوے پہ حیرانی ضرور ہوتی ہے۔لہٰذا مجھے اپنی سڑک سے خوف آنے لگا۔جانے کہاں ہماری یہ شہ رگ ہمیں بھی خون میں نہلا دے ،ویسے میں اپنی شہ رگ پہ اتنا بھروسہ نہیں کر سکتا کہ وہ زخمی ہو اور میری زندگی مسکراتی اٹکھیلیاں کرتی پھرے۔

حالانکہ یہ ایک معجزہ ہے کہ ہماری بے شمار شہ رگیں زخمی اور اُکھڑی سانسیں لے رہی ہیں مگر ہم بے فکر مصروف زیست ہیں۔بہرحال کوئی کچھ کہے معجزہ اسی کا نام ہے۔ہر معجزہ حیرانی سے شروع ہو کر نہ ختم ہونے والی حیرانی پہ ختم ہوتا ہے۔
قافلہ یاراں بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہا تھا۔اب مشکل زمینیں سامنے آنے لگیں تھیں۔مشکل پہاڑوں پر چھوٹے چھوٹے دیہات کھڑے تھے اور ان کے نیچے سے زمین سرک رہی تھی۔ان سرکتی زمینوں کے باسی اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی بھی دیکھ رہے تھے ا ور خاموش بھی تھے شاید اُن کے سامنے کوئی متبادل نہیں ہے۔

اس کٹاؤ کو روکنے کے لیے اکثرجگہوں پر سفیدے اور کیکر کے درخت اُگائے گئے ہیں۔انہی سرکتی ڈھلوانوں پر کڑی مشقت کے بعد کھیت بنا کر مکئی اُگائی گئی تھی۔سڑک اب خطرناک ہو رہی تھی۔نیچے گہرائی میں دریا اور دائیں طرف پہاڑ جن کی نوکیلی چٹانیں کئی کئی جگہوں سے باہر کو نکلی ہوئی تھیں۔راستہ تنگ دامنی کاشکار تھا۔سیاحوں کے قافلے ہمارے آگے پیچھے چل رہے تھے۔بالاکوٹ سے ذرا آگے اور کیوائی سے پیچھے دونوں اطراف سر بفلک پہاڑوں نے دریا کنہار کو سکڑ کر چلنے پہ مجبور کر دیا ہے۔

بالاکوٹ تاریخی مقام ہے۔۱۳۸۱ء کی تحریک کے حوالے سے مشہور ہے۔ جگہ جگہ ڈھلوانوں پہ اخروٹ کے باغات کھڑے تھے۔بالاکوٹ سے ۳۲ کلومیٹر کے سفر کے بعد کیوائی آتا ہے۔چھوٹا سا بازار اک پہاڑی پر آباد ہے۔یہاں پہاڑی ندی کے بہاؤ کو پھیلا کر چوڑے زینوں کی آبشار میں بدلا گیا ہے۔ان زینوں پر بجری بچھا دی گئی ہے۔اس بجری پر فولادی ستون کھڑے کر کے پلاسٹک کی چھت ڈال دی گئی ہے اوراس چھت کے نیچے پلاسٹک کی کرسیاں رکھی ہو ئیں ہیں۔سیاح ان پہ بیٹھ کر چائے اور لوازمات کا لطف اُٹھاتے ہیں۔

یہاں سیاحوں کی بھیڑ تھی۔لمبی لمبی بسیں جو تنگ جگہوں سے گُزر کر آتی  ہیں یہاں کھڑی ہوتی ہیں۔بلندی سے گرتے قدرتی پانی کو پائپ کے ذریعے سڑک پہ ڈال کر کاروں کو دھونے کا کام جاری تھا۔سیاحوں کو قدرتی چشموں کا تازہ صاف پانی اپنی قیمتی گاڑیاں دھونے کو ملے تو اُن کی سیاحت کالطف اس قدرتی ماحول میں دوبالا ہوجاتا ہے۔

اب کنہار بلندوبالا پہاڑوں کے قدموں میں سر رگڑ رگڑ کر گُزررہا تھا۔ہر بلندی اپنے اندر چٹانی عزم کو لیے کھڑی رہتی ہے اور ہر نشیب کو اُوپر دیکھناکم نصیب ہوتا ہے۔کبھی کبھی چٹانی غرور تڑخ جائے  تو چٹانیں ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جاتی ہیں۔غرور انسانوں کا ہو یا چٹانوں کا کہیں بھی اچھا نہیں۔۔ غرور کو آخرکار تڑخنا ہی ہوتا ہے ۔عزم الگ چیز ہے وہ صرف ہمت کی بنیاد پہ ملتا ہے۔غرور ہمیشہ خاک چاٹتا ہے جبکہ عزم شکستوں کے باوجود سُرخرو رہتا ہے۔

کیوائی کے پانچ کلومیٹر بعد پارس آتا ہے۔پارس میں سڑک دریا کے نزدیک اُتر کر چلنے لگتی ہے۔پارس بازار سے ذرا آگے دریا کے پار ایک کچی دُبلی پتلی سی سڑک دریا کے اوپر اور چٹانوں کے بیچ لڑکھڑا کے رہ گئی تھی۔یہ سڑک ہماری بہت سی شہ رگوں کی طرح زندگی اور موت کی کشمکش میں کھڑی تھی۔مگر اس پہ نظرالتفات ڈالنا ابھی کسی کو گوارہ نہ ہوا تھا۔ہماری بہت سی شہ رگیں ایسے ہی مصنوعی آکسیجن کے سہارے لڑکھڑا رہی ہیں۔ہمیں کسی طبیب کی نہیں سوجھتی بس رہے نام اللہ کا۔

اسی مصنوعی آکسیجن پہ لیٹی شہہ رگ کے نیچے ایک لکڑی کا پُل اپنا ٹوٹا ہو ا انگ اگلے کنارے سے جوڑنے کی جدوجہد میں تھا۔مگرشاید اب مزید جان نہیں رہی تھی۔اُس کی لکڑیاں اُکھڑ کر کنہار کے تیز بہاؤ کی نذر ہوچکیں تھیں۔صرف سریے رہ گئے تھے جنہیں تیز ہوائیں کبھی کبھی چھیڑتی ہوں گی۔

ایک جگہ دیودار کے درخت جھمگٹے کی صورت میں کھڑے تھے۔کمزور اور لاغر جیسے کوئی غریب الوطن اپنے دیس کے لیے ترستا ہو۔ایسی ہی غریب الوطنی ان کے وجود سے عیاں تھی۔اگرچہ یہ سار اعلاقہ سرسبز اور خوشنما ہے مگر یہ جگہ ان دیوداروں کی افزائش کے لیے نہ تھی۔کوئی بھی درخت ہو یا تہذیب صرف اپنی مٹی پہ کھڑی اچھی لگتی ہے۔ان دیوداروں کو یہاں جبراًاُگایا گیاتھا۔جو جنگل اور تہذیبیں اجنبی زمینوں پہ زبردستی اُگائی جاتی ہیں اُن کے وجود سے ایسا ہی پردیسیانہ اور لاغرانہ پن چھلکتا ہے۔

جاری ہے۔۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *