خوشبوؤں کے شہر سے ۔صاحبزادہ عتیق الرحمٰن

‎پھر کہتے ہیں
‎فرشتے کیوں نہیں اترتے نصرت کو ؟
‎رحمت کیوں نہیں برستی ؟
‎نعمتیں کیوں اٹھتی جارہی ہیں ؟
‎تو سنو ، سنو
‎زمانے کے بہرو!
‎عقل کے اندھو!
‎مردہ دلوں کے مالکو!
‎بھُس بھری کھوپڑیوں والو !
‎اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین پر
‎ایک بیٹی، ایک بہن، بنت حوا کے کپڑے اتار کر برہنہ کرکے گھنٹوں گلیوں میں گھمایا گیا!
‎اور یقیناً یہ مکروہ فعل کرنے والے ان مشرکینِ مکہ سے بھی زیادہ پلید اور غلیظ ہیں۔۔۔جو بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔
لیکن سر بازار اس طرح ذلیل و رسوا نہیں کرتے تھے۔۔کہ انسانیت بلبلا اٹھے!
ہاں ہاں مجھے یقین واثق ہے کہ ان کی ماؤں کی کوکھ سے بھی بددعائیں نکلتی ہوں گی۔۔۔اور وہ کہتی ہوں گی کہ کاش ہماری کوکھیں بنجر ہوجاتی۔۔
‎کاش ان کوکھوں سے ان ہیجڑوں کی بجائے چار ٹانگوں والے پلے ( کتے) پیدا ہوجاتے۔۔۔تو آج ان کوماں ہونے پر شرمندگی نہ ہوتی!
‎اور اپنے ہی گھروں میں اتنی ہی عمر کی بہنیں اور بیٹیاں ہونے کے باوجود  بیسیوں بے غیرت یہ تماشا دیکھتے رہے۔۔۔۔اور کوئی احتجاج نہ ہوا۔
غیرت کے نام پہ ہر سال ہزاروں قتل کرنے والی قوم کے کسی ایک بے غیرت غیرت مند  کی غیرت نہ جاگی کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر اس بیٹی کا برہنہ جسم ہی ڈھانپ دیتا!
سُنو! سُنو!
تمھارے دلوں پر!
تمھارے دماغوں پر!
‎تمھاری غیرتوں پر،
‎تمھارے ضمیروں پر مہریں لگ چکی ہیں!
‎مذہب فروشوں کے مقلدو!
‎دین فروش پیروں کے مریدو!
‎وطن فروش سیاستدانوں کے مزارعو!
‎ارب پتی  فائیو سٹار  جنرلوں کے بوٹ پالشیو!
‎اگر کوئی بے ادب تمھارے ان زمینی خداؤں کا نام بھی بے ادبی سے لے لیتا تو اب تک تم نے حشر بپا کر دینا تھا!
‎اپنے اندر کی کالک سے تم نے فیس بک کے صفحات سیاہ اور مخالف کے خاندان کا شجرہ نسب تک اکھاڑ پھینکنا تھا!
‎مگر تم نے کچھ بھی تو نہیں کیا۔۔۔
لیکن تم ایسا کیوں کرتے؟؟
‎کیوں کرتے؟؟
‎کیا ملنا تھا آواز اٹھانے سے؟؟
‎احتجاج کرنے سے؟؟
‎دھرنا دینے سے؟؟
‎ نہ کوئی مالی مفاد!
‎نہ کوئی بڑی آشیرباد!
‎نہ کوئی شاباش!
‎نہ کوئی عہدہ اور نہ ہی کوئی کوٹہ!
‎کیونکہ وہ معصوم کمسن بیٹی بھٹو خاندان سے تھی!
‎اور نہ ہی شریف فیملی سے!
‎اس کا خانوادہ بنی گالہ سے تھا!
‎اور نہ ہی ماڈل ٹاؤن سے!
‎اس کا تعلق فضل الرحمن کے باپردہ خاندان سے تھا،
‎اور نہ ہی مشرف کے بے پردہ خاندان سے!
‎چوہدریوں کے نت ہاؤس سے اور نہ ہی شیخ کی لال حویلی سے،
‎تو پھر ایک مزارع۔۔۔ایک عام انسان۔۔ایک کمی کمین۔۔۔ایک گمنام پاکستانی کیبیٹی کے لئے تم آواز کیوں اٹھاتے؟؟
‎کیوں اٹھاتے آواز؟؟
‎سچ ہے نایہ سب ؟؟
‎سر اٹھاؤ!!
‎آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتاؤ یہ سچ ہے نا؟؟
‎کڑوا اور کھرا سچ!
‎وہ منہ چھپاتی۔۔اپنے چہرے اور برہنہ جسم کو چھپاتی بیٹی۔۔ وہ کسی غریب کی بیٹی تھی۔۔کسی بے نامی کی بے نام بیٹی تھی۔۔۔
‎اس لئے نہ تمھاری غیرت جاگی!
‎نہ شرم سے تمھاری آنکھیں جھکیں!
‎نہ تمھارے قلم میں جنبش پیدا ہوئی!
‎نہ تم نے فیس بک پر اپنے تھوبڑے کے ساتھ پوسٹر لگائے!
‎نہ ہی ہیش ٹیگ کے ٹرینڈ چلائے!
‎اور نہ ہی واٹس ایپ گروپ میں ہمدردی کے اشتہار شئیر کئے!
‎سنو۔۔سنو۔۔۔
‎ذہنی غلامو!
شرک کی حد تک شخصیت پرستو!
‎لیڈروں اور اختیار والوں کے بے دام ٹٹوؤو!
‎اکڑی گردنوں  والے قومی لٹیروں کے خود !ساختہ ترجمانوں!
‎اگر اس بچی کے لئے تم نے کسی بھی درجہ پر آواز نہیں اٹھائی؟؟
‎احتجاج نہیں کیا؟؟
‎دھرنا نہیں دیا؟
‎تو پھر لکھ لو کہ
‎ہر زردار و صاحب اختیار کے حق میں تمھاری چیخ و پکار،
‎تعریف و توصیف میں لکھی جانے والی ہر تحریر!
‎اور تمھارے قلم سے نکلنے والے اخلاقیات کے درس دیتے الفاظ سے بہتر ۔۔۔۔۔۔۔اس گلی کے کتے کا بھونکنا ہے ۔۔ کہ جو کسی اجنبی کو گلی میں گھستے دیکھ کر بھونک بھونک کر سوئے ہوؤں کو جگا دیتا ہے!
‎ڈیرہ اسماعیل خان کی بچی پر ہونے والے انسانیت سوز ظلم پر کیا تم لوگوں نے چیخ چیخ کر اس بے حس معاشرے میں کسی کو اٹھایا ہے؟؟؟
‎یا پھر تم صرف پاؤں میں سر رکھ کر چیاؤں چیاؤں کرنے کے ہی عادی ہو ؟؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *