کتھا چار جنموں کی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط9

راولپنڈی میں، جہاں میں مشن ہائی سکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، مارچ ۱۹۴۷ء کو فسادات پہلے شروع ہوئے۔ کچھ لوگ مارے گئے، کچھ گھر جلا دئے گئے۔ میرا پنجاب یونیورسٹی کا میٹرک کا امتحان ۴ / مارچ کو شروع ہونے والا تھا۔ رول نمبر اور ڈیٹ شیٹ آ چکے تھے۔ لیکن اس سے دو دن پہلے لوٹ مار کا بازار گرم ہوا. آس پا س کے دیہات سے بلوائیوں کے گروہ در گروہ راولپنڈی پر چڑھ آئے، چاقو زنی کی لا تعداد وارداتیں ہوئیں، سینکڑوں لوگ مارے گئے۔
چار مارچ کی صبح آئی تو میں امتحان کے سینٹر میں جو میرے اپنے ہی اسکول یعنی مشن ہائی اسکول میں واقع تھا، جانے کے لیے تیار ہو گیامیرے بہنوئی نے جو پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھے، اپنی وردی پہنی، مجھے اپنے سائکل پر پیچھے بٹھایا اور چل پڑے۔ کرفیو لگا ہوا تھا لیکن گلیاں سڑکیں سنسان تھیں اور کہیں بھی پولیس کے گشتی دستے نہیں تھے۔ سڑک پر ناولٹی سنیما کے پاس ہم نے ایک تانگہ الٹا ہوا اور ایک گھوڑا مرا ہو دیکھا جسے تیز آلوں کی مدد سے کاٹ دیا گیا تھا۔ ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ روز سنیما کے چوک کے پاس داہنی طرف تھانے کے باہر صرف ایک با وردی سپاہی بندوق زمیں پر ٹکائے کھڑا تھا۔ میرے بہنوئی رک گئے۔ سنتری نے انہیں سیلیوٹ کیا اور کہا، ”کہاں جا رہے ہیں ساہنی صاحب؟ کوئی امتحان نہیں ہے۔ اسکول کا تالاٹوٹاپڑا ہے۔ سوالوں کے پرچے لوگ لوٹ کر لے گئے ہیں۔ تھانیدار صاحب کا لڑکا بھی امتحان میں بیٹھنے کے لیے تیار تھا، لیکن ہمارے دو کانسٹیبل جا کر دیکھ آئے ہیں۔۔۔واپس جایئے، اور ذرا احتیاط سے۔ وردی میں ہونے کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اور پھر آپ کے ساتھ تو بچہ بھی ہے۔“
اس رات؟ڈھوک رتّہ کی طرف سے آئے ہوئے بلوائیوں نے موہن پورہ پر چاروں طرف سے حملہ کیا۔ پولیس بالکل غیر حاضر تھی۔ سینکڑوں کی تعداد میں بلوائی کدالیں، کسیاں، ڈانگیں، تلواریں، چھرے اور دیگر ہتھیار لے کر گلیوں میں گھس گئے۔ ناولٹی ٹاکیز کی طرف سے پہلے تیس پنتیس گھروں کے دروازے توڑ دیے گئے۔ ان میں چھپے ہوئے عورتوں مردوں اور بچوں کو باہر نکال کر، گھر وں کا سامان لوٹ لیا گیا۔ نوجوان عورتوں کو ہانک کر لے جایا گیا۔ مردوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ صبح دو بجے تک یہ قتل عام جاری رہا، تب لاریوں پر پولیس یا ملٹری کی ایک لاری آئی، اور جونہی اس میں سوار فوجیوں نے تھری ناٹ تھری کی بندوقوں سے ہوا میں فائر کرنے شروع کیے، فسادی بھاگ کھڑے ہوئے۔ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ صرف ایک فسادی زخمی ہوا اور دو چار عورتوں کو ان کے قبضے سے چھڑا کر انہیں جانے دیا گیا۔
افواہوں کا سلسلہ شروع ہوا تو پتہ چلا کہ موہن پورہ اکیلا ہی فسادیوں کا ہدف نہیں تھا، نانک پورہ بھی تھا۔ دونوں محلوں میں تین سو سے زاید آدمی مارے گئے تھے، زخمیوں کو سول اسپتال میں جو صرف چوتھائی میل کے فاصلے پر تھا، لے جایا گیا لیکن ان کی چارپائیاں باہر کھلے آسمان کے نیچے ہی پڑی رہیں کیونکہ اسپتال کا عملہ جو زیادہ تر ہندوؤں پر مشتمل تھا اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر پچھلی رات بھاگ گیاتھا کیوں کہ لگ بھگ سبھی لوگ قریب کے محلوں یعنی موہن پورہ یا نانک پورہ میں ہی رہتے تھے۔ان میں سے کچھ شاید بھاگتے ہوئے مارے بھی گئے تھے۔

تو ہم موہن پورہ میں اپنے تعمیر کیے ہوئے مکان کو چھوڑکر آریہ محلے میں جہاں نسبتاً ہندوؤں کی آبادی زیادہ تھی، کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے۔ موہن پورہ کے ساتھ نالہ لئی کے پار ڈھوک رتّہ تھی، جو مسلم آبادی تھی اور راستہ موہن پورہ کے ایک کنارے سے ناولٹی سنیما کے ساتھ ہوتا ہوا آگے راجہ بازار کی طرف جاتا تھا۔ چونکہ شہر سے موہن پورہ اور نانک پورہ کو ملانے والی بھی یہی سڑک تھی، اس لئے اس پر اکّا دکّا لوٹ مار کی وارداتیں کئی بار ہو چکی تھیں۔ خود مجھ سے ایک ہٹے کٹے لانگڑ باندھے ہوئے آدمی نے میرا سائکل چھیننے کی کوشش کی تھی او ر یہ واقعہ بعد از دوپہر کا تھا، جب میں اسکول سے واپس آ رہا تھا۔ سولہہ برس کا لمبا تڑنگا لڑکا، شروع جوانی کی پہلی بلوغت کی منزل پر پہنچنے کے بعد، میں ساری دنیا کو خود سے کم تر سمجھتا تھا۔مجھے بے حد غصہ آیا اور میں نے سائکل کو زمین پر گرا کر اس آدمی کے گھٹنے پر زور سے ٹھڈا مارا۔ وہ موالی بلبلاتا ہوا زمین پر بیٹھ گیا۔ میں نے چشم زدن میں اپنی سائکل اٹھائی اور تیزی سے سائکل کا پیڈل گھماتا ہوا گھر لوٹ آیا۔ سانس دھونکنی ہو رہا تھا اور جب ماں کو میں نے بتایا تو خوش ہونے کے بجائے الٹا ماں نے مجھے ہی ڈانٹا، ”اس کمبخت کو سائکل دے دینی تھی، اگر وہ چاقو مار دیتا تو….“ مجھے یہ خیال ہی نہیں آیا تھا کہ ان بد معاشوں کا اصل ہتھیار چاقو ہے جو وہ ہمیشہ پاس رکھتے ہیں۔ بہر حال اس ایک واقعے کے بعد گھر والوں نے طے کر لیا کہ وہ اپنے نئے بنے ہوئے A/542 نمبر کے مکان کو تالا لگا کر کرائے کے مکان میں منتقل ہو جائیں گے۔ جب سامان باندھنے کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ گھر کا آدھا سامان تو میریی کتابیں اور دیگر الم غلم ہے جو میں نے برسوں کی محنت سے اکٹھا کیا ہے۔ اس میں دادا جی کی بہیاں بھی تھیں جو میں بابو جی کی اجازت کے بغیر کوٹ سارنگ سے لے آیا تھا۔ کتابیں، ناول، رسالوں کے پرانے شمارے، دوستوں کے ساتھ کھینچے گئے ہاکی میچوں کے فوٹو، ایک پرانا فٹ بال کا خول جس پر ٹیم کے سب ممبروں نے دستخط کئے تھے۔ آخر یہ طے ہوا کہ سوائے ضروری کپڑوں، بستروں، باورچی خانے کے سامان کے باقی کا سب سامان وہیں گھر میں چھوڑ دیا جائے اور تالا لگا دیا جائے۔ چونکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کوٹ سارنگ جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا، جہاں بقول ماں کے،سبھی مسلمان ان کے بھائی بہنیں تھے اور کوئی واردات نہیں ہو سکتی تھی، اس لئے یہی طے کیا گیا کہ آریہ محلے کے کرائے کے مکان میں صرف اشد ضرورت کا سامان ہی لے جایا جائے۔ اپریل انیس سو سینتالیس کو ہم بابو جی کو آریہ محلے کے گھرمیں چھو ڑ کر کوٹ سارنگ پہنچ گئے۔بابوجی کا خیال تھا کہ اگر ان کے پریوار کے لیے کوئی جگہ واقعی محفوظ ہے، تو کوٹ سارنگ ہے، جہاں وہ صدیوں سے رہتے آئے ہیں، وہاں ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو سکتی۔
(جاری)

tripako tours pakistan

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *