باہر نکلتے ہی سردی ایسے لِپٹ گئی جیسے اسے ہمارا ہی انتظار ہو۔ہمارے جسموں سے چپکی اُوڑھنیاں خود پریشان تھیں۔میں اور راحیل بازار کے عقب میں ٹیکری پر چڑھ گئے۔سورج بابو سر چوک سے رخصت ہو چکا تھا۔مگر پار ہمالیہ← مزید پڑھیے
“گبرائیل ڈولبرو مومچے” (گبرائیل اچھا لڑکاہے)۔۔۔نیچے وادی میں پہنچ کر میں نے گبرائیل کا کندھا چھوڑ کر ایک گہری سانس لی اس کے سخت بالوں سے بھرے گالوں کو تھپتھپایا اور ہم دونوں ہی بےدم ہوکر آسمان کی طرف منہ← مزید پڑھیے
مجھے نہیں معلوم کہ میں اتنا چٹورا کیوں ہو گیا ہوں، اب پتا نہیں اسے چٹورپن کہنا بھی چاہیے کہ نہیں، مجھے بہرحال ہر وقت منہ چلانے کو کچھ نہ کچھ چاہیے، بھنے چنے ہوں، مونگ کی تلی ہوئی خستہ← مزید پڑھیے
روحزن ۔ رحمان عباس سے پہلا تعارف تھا۔ اور ایک ایسے زمانے سے بھی جس میں وہ لکھا گیا۔ کلاویوز نے لکھا ہے۔ کہ” ناول یہی ہوتا ہے۔ ایک زمانےکی حقیقی تصویر ” ایک قاری کی حیثیت سے ناول کو← مزید پڑھیے
ماں مجھے ڈر لگتا ہے ۔ بہت زیادہ ڈر لگتا ہے ہر آہٹ پر اب چونک جاتی ہوں ۔ اب اپنے سائے سے ڈر جاتی ہوں ۔ سورج کی روشنی بدن پر آگ سی لگاتی ہے پانی کی بوندیں تیزاب← مزید پڑھیے
خود کلامی ۔۔۔ باہر کتنی ٹھنڈک ہے ناں ۔!!اور اندر اس آتش دان میں سلگتی آگ سے اڑتے جلتے بجھتے شرارے میں تمھاری آنکھوں میں دیکھتی ہوں ۔۔ تمھاری آنکھوں میں اس لیے کہ۔۔مجھے تمھارا قرب۔۔تمھاری بانہوں کی گرفت کسی← مزید پڑھیے
میں نے شاید پہلی مرتبہ نور جہاں کو فلم’’ خاندان‘‘ میں دیکھا تھا۔ اس زمانے میں وہ بے بی تھی۔ حالانکہ پردے پروہ ہرگز ہرگز اس قسم کی چیز معلوم نہیں ہوتی تھی۔ اس کے جسم میں وہ تمام خطوط،← مزید پڑھیے
جدید اور جدیدیت (تحریر1976 ء) گذشتہ برسوں کے کچھ رسائل اور کتب میں مشمولہ مضامین ِ نظم و نثر کی ورق گردانی کے بعددل میں یہ خیال جاگزیں ہوا کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم← مزید پڑھیے
راجا دشینت کو شکار کھیلنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک بار گرمیوں میں شکار کھیلتے کھیلتے وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر بہت دور جا نکلا۔ راستے میں ایک بے حد خوب صورت ہرن دکھائی دیا۔ راجا ہرن پر← مزید پڑھیے
اس نے کسی پھرتیلے جنگلی چیتے کی طرح مجھے آ لیا، میں جانوروں کی طرح دونوں ہاتھوں پیروں پر جھکی جھکی اس مختصر سی چڑھائی پر چڑھ رہی تھی کہ صنوبر کے ایک درخت کے پیچھے سے اس نے مجھے← مزید پڑھیے
سر جی میں جاواں گئے وقتوں میں پشاور کے آرٹلری میس میں ہمہ وقت پندرہ سے بیس بیچلر آفیسرز کا ڈیرہ رہا کرتا تھا۔ ایک کمرے میں عموماً تین سے چار افسروں کا پڑاؤ ہوتا تھا۔ ایک غیر تحریری معاہدے← مزید پڑھیے
نوٹ: اس کہانی کا مرکزی خیال بچپن میں پڑھی گئی ایک کہانی سے لیا گیا ہے! خونخوار ڈوئچے ڈوگے کی وحشیانہ غراہٹ اور بھونکنے کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں ، برف کے ذرے چھوٹے چھوٹے سفید گولوں میں ← مزید پڑھیے
یہ سن سینتیس کا ذکر ہے : مسلم لیگ روبہ شباب تھی۔ میں خود شباب کی ابتدائی منزلوں میں تھاجب خوامخواہ کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ صحت مند تھا، طاقت ور تھا اور جی میں ہر← مزید پڑھیے
آٹھ سالہ منی نے بودی لکڑی کے پھٹوں سے بنے جھولتے دروازے کو دیکھا تو مسرت سے آنکھیں چمک اٹھیں ۔باہر کچی گلی کے پار والے میدان سے اس سڑی شکر دوپہر میں گونجتی بانو،گڈی، پینو اور شاداں کی “کیکلی← مزید پڑھیے
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہماری زندگی کی قبا مفلسی کے پیوندوں سے بھری ہوئی تھی۔مصیبتوں نے ہمارے گھر کو آماجگاہ بنا لیا تھا۔ملازمت سے فراغت کا غم ابھی غلط نہ ہوا تھا کہ ہماری مشکلات میں اک← مزید پڑھیے
بوڑھے برگد کے نیچے بابا جی لوگوں کی مُنڈلی چارپائیوں اور موڑھوں پر ایک حقے کے گرد دھرنا دیے بیٹھی تھی۔ شیدے کی مج نے کل رات ہی کٹا دیا ہے (رشید کی بھینس نے کل رات کو ایک بھینسا← مزید پڑھیے
زبانوں میں اشتمال اور اخراج کا چلن! حیدرآباد میں قیام کے دوران ایک اور خزینہ ہاتھ لگا۔ یہ تھا ولی ؔدکنی کا وہ کلام جو جامعہ میں بسیار محنت اور جانفشانی سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ اس پر اپنا تحقیقی← مزید پڑھیے
بہت بے چینی ہے ملک میں جناب ۔ دیکھ لیں آج کا اخبار بھرا پڑا ہے ۔ کوئی سیاست دان ایسا نہیں جس پر دوسرا سیاست دان غبن کا الزام نہیں لگاتا ۔ کوئی منصوبہ ایسا نہیں جو صاف شفاف← مزید پڑھیے
تیس سال کی عمر ہونے سے پہلے مجھے کوئی مشکل لاحق نہیں تھی۔۔۔! میں ایک عام انسان تھا، بزنس میں ڈپلوما حاصل کیا، سرکاری نوکری مل گئی، تنخواہ بھی معقول ہوگئی، ماہانہ پچیس پاؤنڈ تنخواہ تھی۔ اسٹیشن گراؤنڈ میں واقع← مزید پڑھیے
یہ صادق فقیر کون؟ آپ نہیں جانتے؟ نہیں . کمال ہے۔۔ صادق فقیر میرا کلاس فیلو، میرا یار میرا دوست، آج میں اسی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہوں۔ تھر کا رفیع، منگنڑ ہار تھا، گلوکار تھا، سندھی زبان و← مزید پڑھیے