بابا جی۔۔ سلیم فاروقی

SHOPPING
SHOPPING

بوڑھے برگد کے نیچے بابا جی لوگوں کی مُنڈلی چارپائیوں اور موڑھوں پر ایک حقے کے گرد دھرنا دیے  بیٹھی تھی۔ شیدے کی مج نے کل رات ہی کٹا دیا ہے (رشید کی بھینس نے کل رات کو ایک بھینسا بچہ جنا ہے)، فیکے نے کماد میں نئی کھاد ڈال کر اپنا ہی نقصان کیا، بخشو کا چھوٹا بیٹا سکول سے بھاگ کر نہر پر نہانے چلا گیا تھا، رحیمو کی زنانی کچھ زیادہ ہی  بیمار ہوگئی ہے، غرض گفتگو کا کوئی ایک موضوع نہیں بلکہ موضوعات چل رہے تھے۔ ویلے باباجی لوگوں کی یہ منڈلی بالکل ہی ویلی نہیں تھی، یہ اس برگد کے نیچے بیٹھ کر بظاہر گپ شپ ہی کرتے تھے لیکن یہ یہاں سے پورے گاؤں کی نگرانی کا فریضہ بھی انجام دیا کرتے تھے۔ بزرگ ہونے کے  باعث پورا گاؤں ان کی عزت کیا کرتا تھا ۔ کبھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ مسئلے کی نوعیت کے مطابق ان ہی میں سے کسی باباجی سے تنہائی میں بھی مشورہ کرتا اور کبھی اس چوپال میں سب کے سامنے مسئلہ پیش کرکے مسئلے کا حل طلب کرتا۔اکثر گاؤں کے  چھوٹے موٹے تنازعات بھی ان ہی جرگے میں پیش کر کے حل بھی کروائے جاتے۔ جرگے میں باباجی لوگوں کا کیا ہوا فیصلہ تسلیم کرنے کا ہر ایک پابند بھی تھا۔

برگد کا یہ درخت زمین کے اس ٹکڑے پر تھا جو پورے گاؤں کی ملکیت تھا، یہ ٹکڑا ناقابلِ کاشت تھا اس لیے یہیں بابے اپنی بیٹھک بھی کرتے، لڑکے بالے کسی زمانے میں پٹھو گرم اور لنگڑی پالا کھیلا کرتے تھے لیکن آج کل کرکٹ میچ کھیلتے ہیں اور بابے کُڑھتے ہیں کہ گوروں کا کھیل کھیل کر لڑکوں کی آنکھ کی حیاء ختم ہو گئی ہے، حد ہوگئی ہے اِن کی عمر دیکھو، ابھی ٹھیک سے پیدا بھی نہیں ہوئے ہیں اور بزرگوں کے سامنے ایک ایک ”رن“ کے لیے آپس میں جھگڑتے ہیں۔ اور بے حیائی تو دیکھو ہر لڑکا ایک وقت میں دس دس بارہ بارہ ”رن“ لینا چاہتا ہے۔جب کوئی ان بابوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا کہ یہ وہ مونث ”رن “ نہیں ہے بلکہ مذکر ”رن“ ہے تو بابے ایک اور ”رن“ ڈال دیتے اور کہتے بات بے حیائی سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ لڑکے اب مذکر کو ہی ”رن“ بنانا چاہتے ہیں، قیامت کی نشانی ہے،ہم مر کیوں نہ گئے یہ دن دیکھنے سے پہلے۔ بابے کُڑھتے تو تھے لیکن کرکٹ کھیلنے سے منع اس لیے نہیں کرسکتے تھے کہ اس کرکٹ میں استعمال ہونے والا بلا اور گیند چودھریوں کے بیٹے کا تھا۔

گاؤں میں کبھی کسی کے یہاں شادی کی تقریب ہوتی تو شامیانے بھی اسی میدان میں تانے جاتے، بابے پوری تقریب کا الف سے یے تک تفصیلی مشاہدہ کرتے اور پھر اپنا بینڈ بجانا شروع کردیتے کہ بے حیائی دیکھو شادی کی اس تقریب میں دلہن دولہا کے ساتھ ہی بیٹھی تصویریں کھنچوا رہی تھی۔ اور رخصتی کے وقت وہ اسی گاڑی میں بیٹھی تھی جس میں دولہا سوار تھا، بس جی کیا کریں قیامت قریب ہے۔

اگرخدا نخواستہ اس میدان میں کسی کی نماز جنازہ کا موقع آجاتا تو یہی بابے صفیں سیدھی بھی کروا رہے ہوتے اور پیر چپل سے باہر بھی کروا رہے ہوتے، پائینچے گٹوں سے اوپر کروا رہے ہوتے اور بچوں کو پچھلی صفوں میں بھیج رہے ہوتے۔ ساتھ ہی متاثرہ گھر والوں کی جانب سے روٹی پانی کے لیے منتخب کردہ باورچی کی بھی بھرپور نگرانی کر رہے ہوتے کہ کہیں چاول یا بوٹیوں میں ڈنڈی نہ مار لے۔اس کے علاوہ اپنی چوپال بھی کم از کم تین دن کے لیے  موقوف  کرکے متاثرہ گھرانے کی بیٹھک میں ڈیرہ ڈال لیتے تاکہ دور دراز کے علاقے سے بعد میں آنے والوں کے ساتھ ہر دعا میں آمین بھی کر سکیں۔

یہی باباجی لوگ تنازعات کو سلجھانے میں علاقے کی روایات اور گاؤں کے امن و سکون کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھتے۔ کسی جانب سے کسی قسم کا دباؤ نہ لیتے۔ فیصلہ ہمیشہ برحق کرتے۔ اگر کسی کی بکری نے دوسرے کے کھیت کو نقصان پہنچایا ہوتا تو اس کو حسبِ نقصان اور حسبِ توفیق سزا بھی سناتے جو عموماً کھیت کے مالک کا نقصان پورا کرنے کی ہوا کرتی۔ ایک بار گاؤں کے کسی نوجوان نے گاؤں کے کریانہ والے کو دیسی گھی میں بناسپتی گھی ملاتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، کیس بابوں کی پنچائیت میں پیش ہوا تو اس دکان کے ایک ہفتے کے لیے بائیکاٹ کا حکم جاری کردیا گیا، پورے گاؤں نے اس فیصلے کو تسلیم بھی کیا اور عملدرآمد  بھی شروع ہوگیا۔ اب یہ الگ بات کہ بعد میں بابوں کے خصوصی اجلاس میں اس بائیکاٹ کو تیسرے دن ہی روکنا پڑ گیا کیونکہ اس دوران گاؤں کے اکثر گھروں میں راشن ختم ہوچکا تھا اور گاؤں میں ایسا کوئی دوسرا دکاندار نہ تھا جو گاؤں والوں کو اگلی فصل کے وعدے پر ادھار دے سکتا۔ بائیکاٹ کی مدت میں اس کمی کو بابا لوگ دباؤ قطعی نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ اس کو گاؤں والوں کی بہتری کے لیے نظریہ ضرورت گرادنتے تھے۔

ایک بار ان بابوں کے پاس بخشو فریاد لے کر آیا کہ چوہدری صاحب کے گھر نمبردار صاحب ملنے آئے تھے اور ان کے گھوڑے نے بخشو کی مکئی کی تیار فصل میں منہ مار کر کافی نقصان پہنچایاہے۔اب آڑھتی کے آدمی فصل کی رقم میں کٹوتی کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ بابوں نے اس موقع پر بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور فیصلہ سنایا کہ یہ نقصان کسی انسان نے جان بوجھ کر نہیں پہنچایا ہے، جس گھوڑے نے نقصان پہنچایا ہے وہ چوہدری کی مہمان کا گھوڑا تھا، چوہدری کا اپنا نہیں تھا۔ اور گاؤں کی روایت کے مطابق مہمان کو اللہ کی رحمت سمجھا جاتا ہے اور اگر مہمان سے کوئی نقصان ہو بھی جائے تو اس کو خاموشی سے برداشت کیا جاتا ہے۔ اس لیے بخشو کو چاہیے کہ وہ بھی اس نقصان کو خوش اسلوبی سے برداشت کرے۔

ایک بار بابوں کی اس پنچائیت نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے غلام محمد عرف گامے کو طلب کر لیا۔ گاما گاؤں میں معاشی تنگ دستی کی وجہ سے پہلے تو شہر گیا اور وہاں سے کوشش کرکے دبئی چلا گیا تھا۔ وہاں کی کمائی کی وجہ سے گامے کے گھر کے حالات بھی کافی بہتر ہوچکے تھے۔ گاما بھی بڑی فدوی طبعیت کا انسان تھا۔ جب بھی چھٹی پر گاؤں آتا تو بابوں کے لیے سوغات لانا نہ بھولتا، کبھی عرب شریف کی کھجوریں پیش کرتا اور کبھی رات میں چمکنے والی تسبیح ہر بابے کو پیش کرتا۔ یوں گاما کے تعلقات بابوں سے ہمیشہ ہی اچھے رہے۔ لیکن اب جو بابوں کی پنچایت میں گامے کے خلاف شکایت آئی تو بابوں نے یہ بھلا دیا کہ گاما ایک نیک صفت شخص ہے، بس اتنا یاد رکھا کہ شکایت آئی ہے تو اس کا سننا بھی ضروری ہے اور فیصلہ بھی کسی لالچ یا دباؤ کے بغیر ہی کرنا ہے، کیونکہ بابوں نے آج تک ہمیشہ بغیر کسی دباؤ یا لالچ کے ہی فیصلہ کیا ہے۔

بابوں کی طلبی پر گاما وقت معینہ پر پنچائیت کے سامنے حیران و پریشان پیش ہوگیا۔ اس کو  سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا غلطی ہوئی ہے؟ کیوں طلبی ہوگئی ہے؟ خیر جب گاما پنچائیت میں پہنچا تو روایات کے مطابق تقریباً پورا گاؤں ہی مقدمہ اور فیصلہ سننے کے لیے موجود تھا۔گامے نے بڑی تکریم سے پوچھا کہ باباجی مجھ سے کیا قصور سرزد ہوگیا ہے؟ مجھے کیوں طلب کیا گیاہے؟ سب سے بڑے بابا نے اس سے کہا کہ تمھاری وجہ سے گاؤں میں بے شرمی اور بے حیائی پھیل رہی ہے۔ گامے نے کہا جناب وہ کس طرح؟ میں تو جیسے دبئی جانے سے پہلے رہتا تھا اب بھی ویسے ہی رہتا ہوں، میں نے ایسا کیا کردیا ہے جس سے بے حیائی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ باباجی بولے تم نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے، بلکہ تم نے ابھی جو اپنے بیٹے کی شادی کی اور شہر سے دلہن لائے ہو اس کی وجہ سے بے حیائی پھیل رہی ہے۔ گامے نے حیرانی سے پوچھا شہر سے دلہن لانے کی وجہ سے بے حیائی کس طرح پھیل سکتی ہے؟ بابا بولے اصل میں تمھاری بہو سرخی لگاتی ہے، اس سے گاؤں میں بے حیائی پھیلنے کا راستہ کھل جائے گا۔

گامے نے حیرت سے کہا باباجی آپ کو کیسے پتا چلا کہ وہ سرخی لگاتی ہے؟ وہ تو پردہ بھی کرتی ہے اور گھر والوں کے سامنے ہی سرخی لگاتی ہے۔ باباجی بولے کل جب وہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر تیرے بیٹے کے   ساتھ جارہی تھی تو ہوا سے اس کی چادر ہٹ گئی تو اس وقت میں نے خود دیکھا تھا۔ اب یہ اتنی مضبوط چشم دید گواہی تھی اس کو کوئی جھٹلا بھی نہیں سکتا تھا، اور گامے کی صفائی بھی فضول تھی۔ لہٰذا گامے نے بھی دفاع فضول سمجھتے ہوئے بابوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور کہا، باباجی اگر آپ لوگ میری بہو کے سرخی لگانے کو جرم سمجھتے ہیں تو میں اس سے انکار نہیں کروں گا۔ جو سزا ہے سنا دیجیے بس اتنا بتا دیں میری بہو کی پردے کے اندر والی سرخی تو آپ کو نظر آگئی اور یہ جو چوہدری کی غیر شادی شدہ بیٹیاں شہر کی یونیورسٹی سے چھٹیوں پر گاؤں آتی ہیں اور شہر تو کیا گاؤں میں بھی ہر وقت پورے میک اپ میں گھومتی رہتی ہیں ، کیا یہ آپ کو کبھی نظر آئی ہیں؟ کیا اس پر کبھی چوہدری کو طلب کیا؟ کیا اس کو کوئی سزا سنائی؟

SHOPPING

یہ اعتراض سن کر پوری پنچائیت پر سناٹا چھا گیا۔ لیکن باباجی مطمئن تھے، ان پر اس طرح کا وقت پہلے بھی آچکا تھا، وہ اس سے نبٹنا بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ باباجی بولے اوے جھلیا گامیا، دیکھ ہم فیصلہ اسی کے خلاف کرتے ہیں جس کے خلاف درخواست آتی ہے اور چوہدری کی بیٹیوں کے خلاف کسی نے شکایت کی ہی نہیں، یقین نہ ہو تو یہاں پورا گاؤں موجود ہے جس سے چاہو پوچھ لو، اگر تجھ میں چوہدری کے خلاف شکایت کی ہمت ہے تو کرلے پھر دیکھنا ہم کس طرح انصاف والا فیصلہ کرتے ہیں۔ اور پھر سچی بات ہے تیری بہو کا اور چوہدری کی بیٹیوں کا مقابلہ ہی کیا۔ اُن پر تو میک اپ سجتا بھی بہت ہے۔ اب تیری سزا یہ ہے کہ ایک تو اپنی بہو کو منع کردے کہ وہ سرخی نہ لگایا کرے اور دوسرے یہ کہ تو سزا کے طور پر گاؤں کی مسجد کے مٹکوں میں ایک ہفتے تک روز پانی بھرا کرے گا۔ یہ فیصلہ سنا کر بابوں نے انصاف کا بولابالا کیا اور ثابت کردیا وہ کسی دباؤ یا لالچ میں نہیں آتے ہیں خواہ وہ گاما جیسا فدوی انسان ہی کیوں نہ ہو جو ہردفعہ بابوں کے لیے تحفے لاتا تھا۔

SHOPPING

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *