روحزن…تبصرہ ۔۔آصف اقبال

روحزن ۔ رحمان عباس سے پہلا تعارف تھا۔ اور ایک ایسے زمانے سے بھی جس میں وہ لکھا گیا۔ کلاویوز نے لکھا ہے۔ کہ” ناول یہی ہوتا ہے۔ ایک زمانےکی حقیقی تصویر ”
ایک قاری کی حیثیت سے ناول کو دیکھا تو وہ بہت چونکا دینے والا تھا۔ جیسے ایک دم تیز روشنی سے آنکھیں چندھیا جایئں۔روحزن کی خاص بات ہے کہ اس میں سے شعاعیں ایسے نکلتی ہیں جیسے پرزم سےنکلیں۔ اتنی زیادہ ڈائمنشنز کہ آپ ایک دفعہ تو گھبرا جائیں۔۔ کہ یہ اتنا زیادہ کچھ کیا ہے، لیکن ہر رنگ ہر شعاع کا اپنا ایک حسن۔
قاری کو ناول شروع سے ہی جکڑ لیتا ہے۔ جاندار فقروں سے۔ جسم کی آنکھیں، کھولی کی زندگی، سکول ٹیچر کے ساتھ معاشقہ اور پڑھنے والا رک جاتا ہے۔۔۔ اچھا یہ جو برسبیل تذکرہ چاچا کےراتوں میں گھر میں آنے کا ذکر ہے۔ یہ اتنا اچانک لیکن مربوط کیوں ہے۔۔۔
یہاں سے رحمان عباس کہانی بننا شروع کرتے اور ایک اچھے قاری کو احساس ہوتا چلا جاتا کہ وہ حوالہ کتنا بروقت اور جاندار ہے۔ ایسے اور بہت سے حوالے ہیں ۔ جو کہانی کا ربط ایسے جوڑتے ہیں کہ کتاب کو جب تک چبا نہ لیں سینے سے لگا کر رکھنے کا دل چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر عمر دراز کا کردار اور اس کی پڑھی ہوئی کتاب۔ محمد علی کی زندگی اور اس کا ماضی ۔ ممبئی سے عشق اوراس عشق سے اٹھنے والے پہلو۔
کہانی ایک خاص نظریے کے گرد گھومتی ہے۔ کہ وہ افراد جو اپنے ماں باپ کو آزاد جنسی رشتوں میں دیکھ لیتے ہیں ۔ ان کی شخصیات پر اس بات کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کہانی کے پھیلاؤ میں رشتوں کے اژدھام میں جسم کی خواہشات اور ان کے ادھورے پن سے روح پر پڑنے والے اثرات اور ان کی تکمیل سے نکلنے والے نتائج پر سیر حاصل بحث ہے۔ اور وہ اتنی دلچسپ ہے کہ اگر آپ اُ س سے متفق نہیں بھی ہیں تو بھی پڑھے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جنسی رشتوں کی بنت اتنی چابکدستی سے کی گئی ہے ناول کا مرکزی تخیل بھانپنے والے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ “میرا وجود ہے لازم غزل کے لیے” ۔ جذبات کی تسکین کے بہانے ، جوانی کے آغاز میں آنے والے مدوجذر۔۔ روحوں کے اتصال پر ملنے والی روحیں اور اس میں جسم کا کردار، اور وہاں پر جسم اور روح کے فلسفے کا گھیراؤ۔ اور اس گھیراؤ کے اندر انسانی رویوں کا بیان۔۔ اسرار! کہانی کا مرکزی کردار جب محبت کی معراج کو پہنچتا ہے تو جوار بھاٹا اس کے دماغ میں اس وقت چلتاہے وہ سمندر کی تمام تر طوفان خیزی سے زیادہ پرہجوم اور ہنگامہ پرور ہے۔۔ اس وقت اسے شانتا اور مس کی یاد آتی ہے۔۔ اور وہ اسے جھٹلاتا ہے۔۔ انسانی نفسیات کے اس پہلو کا ایسا جاندار ذکر کم ہی لکھا گیا ہو گا۔
اسرار کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ وہ تلاش معاش میں گاؤں سے شہر آیا وہ پرندہ ہے جو نئے گھونسلے کی تعمیر کی کوشش کرتا ہے لیکن اُسے اس کے اطوار نہیں معلوم۔ گاؤں میں اس کی سکو ل ٹیچر اس کے عشق میں گرفتار ہےاور وہ اس سے خوش ہے۔ پھر وہ شہر آ جاتا ہے۔ جہاں اسے شانتی ملتی ہے۔ وہ اس کے پاس وقت گذار کے بھٰی خوش ہے۔ کیونکہ اس کا اور شانتی کا ایک دکھ سانجھا ہے۔ اس کی ماں اور شانتی کا باپ ایسی بے وفائی میں مبتلا ہیں جس کا نتیجہ یہ دونوں بھگت رہے ہیں۔ خوابوں کی صورت،یہاں جب شانتی اور اسرار کے مزاج ملتے ہیں۔ تو رحمان عباس ایک تناور ناول نگار بن کر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے۔۔۔ لو میاں،میں بتائے دیتا ہوں کہ آگے کیا ہونے والا ہے لیکن ہمت ہے تو مطالعہ چھوڑ کر دکھاؤ۔ اور رحمان عباس کا دعوی سچ ثابت ہوتا ہے۔ قاری جانتا ہے کہ ان خوابوں کا کیا مطلب ہے لیکن وہ تجسس سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اسے کھوج لگی رہتی ہے مزید مزید کی۔ اس سے بڑھ کر ناول نگار کی نثر کاحسن کیا ہو گا ۔
حنا اس ناول کا دوسرا مرکزی کردار ہے۔ حنا کی کہانی الگ ہے۔وہ ممبئی کی باسی ہے۔ اس کی ماں بے حد مذہبی واقع ہوئی اور باپ ایسی دنیاؤں کی کھو ج پر ہے جن کی مافوق الفطرت کہانیاں قاری کو سوچنے کے کئی زاویے دیتی ہیں۔ آزادی کی تلاش ، اس تلاش میں مطالعہ اور شخصیت پر آنے والے اثرات کہیں کہیں۔۔ یوسف کو حنا سے زیادہ دلچپ کردار بنا دیتے ہیں تاہم حنا کہانی کا مرکزی کردار ہی رہتی ہے۔۔ شیطانیت اور مذہبیت دونوں کے زیر سایہ پلنے والی حنا ایک مظبوط کردار ہے۔۔ اس کی ایک اپنی سوچ ہے۔۔ اس کے سیکھنے کی عمر اس کو کن ذہنی کیفیات سے گذارتی ہے۔۔ اسے مذید دلچسپ کردار بنا دیتا ہے۔ حنا کا اسرار کی محبت میں گرفتار ہونا اور رفتہ رفتہ جسمانی تعلقات پیدا کرنے کی طرف مائل ہونا۔ ایک الگ دلچسپ مرحلہ ہے جس میں اسرار کی توجہات باقی خواتین سے کم ہو کر حنا کی طرف زیادہ ہوتی ہیں اور اسے ادراک ہوتا ہے کہ محض تعلق اور آسودگی والے تعلق میں کیا فرق ہوتا ہے۔
ممبئی کا کوئی بیسواں مطالعہ تھا لیکن سب سے جاندار۔ ایک بڑا شہر اور کمپلیکس شہر کیسا ہو سکتا ہے اور جب اس کا نام ممبئی ہو اور اس کے اندر صدیوں کے اسرار پوشیدہ ہوں تو اس سے عشق کیونکر نہ ہو، رحمن عباس کا حسن یہ ہے کہ انہوں نے حاجی علی کی درگاہ سے لے کر شانتا دیوی اور مادھوری کی جائے پناہ تک اور کھولی کی زندگی سے لے کر تاج ہوٹل تک ہر شے اور ہر جزو کو یوں مربوط کر دیا ہے کہ کینوس پر پھیلا یہ شہر ہر کنارے سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یوں نہیں لگتا کہ یہ ایک اور ممبئی ہے ، وہ ایک اور ممبئی ہے۔کسی اژدھے کی طرح پھیلے اس شہر کی دم اور سر جوڑ کر ایک دائرہ تخلیق کر دیا ہے۔ جس کے اندر رہتے ہوئے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ عشق کا مدار کیا ہوتا ہے، وہ کسی شہر سے ہو جائے،کسی نظریے سے، کسی انسان سے، کسی خالی جسم سے، تو اس مدار میں ناچنے کا لطف کیونکر آتا ہے۔
صاحبو! روحزن ایک ایسا ناول ہے جس میں صدیوں کے علم و ہنر کا وارث گوتم نیلمبر نہیں ہے۔ زمانے کی شکست و ریخت کا مشاہدہ کرنے والی پاروشنی نہیں ہے۔ اجداد کی عزت اور پگڑیوں کو اچھلتے دیکھنے والا اور ایک تہذیب سے دوسری اور تیسری میں سفر کرنے والا نعم الدین احمد نہیں ہے۔ اس میں آخر شب کے ہم سفر ایسے انقلابی نہیں ہیں، اس میں تو اسرار اور حنا ہیں۔ ۔ اس میں تو میں اور آپ ہیں۔ اس میں سچ ہے۔ جو شاید میں اور آپ نہیں لکھ سکتے۔ ہم رحمان عباس ایسے تناور نہیں ہیں۔ اس میں ایسے سچ ہیں۔ جن کو باگھ نے بیان کرنے کی کوشش کی لیکن پھر اٹھی ہوئی دو ٹانگوں کے ذکر سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ رحمان عباس نے دنیا کو اپنی ہی نہیں ہماری آنکھوں سے بھی دیکھا ہے۔
گوپی چند نارنگ نے ٹھیک کہا ہے۔۔
“روحزن ۔۔۔ اردو ناول میں ایک نیا موڑ ہے ”
آیئے انتطار کیجیئے اِس موڑ کے اُس پار دیکھنے کی صلاحیت پیداہونے کا ۔ تاکہ ایک بڑے ناول نگار کو اردو ادب میں ویلکم کر سکیں۔
رحمان عباس کا قد بلاشبہ بہت بڑا ہے اور مزید بڑا ہونے جا رہا ہے!

Asif Iqbal
Asif Iqbal
محمد آصف اقبال تعلیم : ایم فل مارکیٹینگ مینجمینٹ۔۔ یو ایم ٹی لاہور پیشہ : دو یونیورسٹیز میں پڑھاتا ہوں ۔۔۔۔ پڑھنے پڑھانے کے علاوہ زندگی میں کوئی دوسرا شوق نہیں پالا۔۔۔ اکنامکس پے دو کتابیں لکھ رکھی رہیں ۔۔۔ جو اے لیولز کے بچے پڑھتے ہیں ۔۔۔ابھی بزنس پر ایک کتاب پریس میں ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *