ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 188 )

چکن کا رشتہ۔۔۔۔عامر صدیقی

کہنے کو تو یہ یقیناً ہفتے کا دن تھا، اس دن گو کہ بہت سے کاروباری مراکز، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر اور تعلیمی ادارے وغیرہ بند ہی ہوتے ہیں، مگر شاہراہوں اور اسکی ذیلی سڑکوں پر چہار سُو پھیلا←  مزید پڑھیے

تنہائی کے سو سال(نوبل انعام یافتہ) ۔۔۔عظمی عارف

تنہائی کے سو سال(نوبل انعام یافتہ) گیبریل گارسیا مارکیز یہ بوئندا خاندان کی 100 سالہ عروج و زوال اور انسانی جبلتوں کے اظہار اور انکار کی ایک شاندارکہانی ہے – کہانی کا آغاز ایک چھوٹی سی بستی ماکوندو سے ہوتا←  مزید پڑھیے

محبت کو جینا ہے۔۔۔ثوبیہ چوہدری/قسط2

کسی کا ہونا ہی تو زندگی کی طرف لے کر جاتا ہے ۔خودشناسائی کرواتا ہے ۔ ہم اپنے آپ کو پہچانتے ہیں ۔اپنے اس وجود سے ملاقات کرتے ہیں جس خمیر پہ ہمیں بنایا گیا ہے ۔ وہ رنگ پھر←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط24

رامہ نگر کی صُبح خیز دُنیا اَورہم: اُجالا پھیلنے پر  ہم جاگے۔جلدی جلدی وضو کیا نماز ادا کی۔فجر کی سپیدی آکر جاچکی تھی۔خیمہ بستیاں چیدچیدہ جاگ رہی تھیں۔جنگل پرندوں کی بولیوں سے گونج رہا تھا۔ہر پرندہ اِس بن میں اپنی←  مزید پڑھیے

ساکت نین ۔۔۔فوزیہ قریشی

پت جھڑ کی وہ شام مجھے آج بھی نہیں بھولتی جب اس کے ساکت نینوں نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ ساکت نین، نہیں دیکھے نہ کبھی۔ میں نے بھی پہلی بار دیکھے تھے وہ دو ساکت نین۔۔اب←  مزید پڑھیے

پاک سر زمین۔۔۔روبینہ فیصل

فضل کا پورا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا جو منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا، وہ دیکھنے سے پہلے اسے خود موت کیوں نہ آگئی۔لاہور سے گوجرانوالہ پہنچے ا سے ابھی اتناہی وقت ہوا تھا جتنا بس کے←  مزید پڑھیے

عمران، ابنِ صفی اور مظہر کلیم۔۔۔ معوذ سید

کچھ دنوں قبل ایک مقبول کہانی نویس جناب مظہر کلیم صاحب وفات پا گئے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے، آمین‎۔ ان کی وفات کے بعد سے ایک مخصوص جذباتی فضاء کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش جاری ہے کہ←  مزید پڑھیے

قادر مطلق۔۔۔محمد اشتیاق

“وارث” “وارث۔۔۔ وارث” اس کے کانوں میں دور سے آتی آواز ٹکرائی۔ “وارث۔۔” اور اب کی بار کسی نے اس کے کندھے کو ہلایا۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ مگر پلکیں بہت بھاری محسوس ہوئیں۔ “وارث۔۔۔ وارث۔۔۔” آواز←  مزید پڑھیے

بھونچال۔۔۔ مبشر علی زیدی

جہالت کا بھونچال رقص کرتا ہوا گھر سے نکلا۔ راستے میں دہشت گردوں کا ٹھکانا نظر آیا۔ بھونچال نے اسے نظر انداز کر دیا۔ اس کے بعد منشیات کا اڈا دکھائی دیا۔ بھونچال نے اس کی طرف رخ نہیں کیا۔←  مزید پڑھیے

شہید۔۔معاذ بن محمود

مجھے قبر سے نکلے کچھ ہی دیر ہوئی ہے۔ دنیاوی زندگی کے آخری لمحات کے بعد مجھے اب ہوش آیا ہے تاہم میری موجودگی سے تمام زندہ لوگ بےخبر ہیں۔ شاید تھوڑی دیر میں فرشتے مجھے بہتر حوروں کے پاس←  مزید پڑھیے

سیاہ تتلی۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ چار سال کی تھی جب اسے ماں سے پہلا تھپڑ پڑا ۔ وہ کچھ دیر روئی، سنبھل گئی! سرخ گال بھی کچھ دیر بعد اپنی اصل رنگت میں آ گیا۔ تکلیف رفع ہو گئی، نفرت اس بچی کے گال←  مزید پڑھیے

بدقماش عورت ۔۔۔۔ سہیل عبداللہ

  وہ جوانی کی دہلیز پر نئی نئی جلوہ افروز ہوئی تھی. بے چینی سے آس پاس دیکھتی آخر ایک بند دکان کے سامنے کھڑی ہوگئی. گھبراہٹ سے پورے جسم پر ایک لرزا سا طاری تھا. سڑکوں پر وہ پہلے←  مزید پڑھیے

ایک عورت۔۔۔ ایک کہانی/صدف مرزا

رات کے دس بجے تک ہلکی سی روشنی آسمان کے کناروں سے لپٹی تھی زمین ابھی دھندلائی ہی تھی.. تاریک نہیں تھی… خوبصورت شہر کے مغربی کونے پر خوابناک راہگزر پر وہ دونوں دو ضدی حریفوں کی طرح آمنے سامنے←  مزید پڑھیے

محبت کو جینا ہے۔۔۔ثوبیہ چوہدری

رات کے اس پہر وہ جائے نماز پر کب سے بیٹھی اپنے رب سے باتیں کر رهی تھی ۔ گزرے وقت کو یاد کرتےہوئے آنسو درد کی شدت کے حساب سے کبھی تیز ہو جاتے اور کبھی تھم جاتے ۔←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔۔جاوید خان/قسط23

آشیانے کی تلاش: پہلا مسئلہ رِہائش کاتھا۔دو تین جگہوں پر بات کی،عاصم میر سفر کو کوئی بارعایت آشیانہ چاہیے تھا۔جہاں کھانا اَچھا مِلے اَور رات بھی آرام سے بَسر ہوسکے۔آخر میدان کے نُکڑ پر جہاں نانگا کا بِچھڑا پانی شور←  مزید پڑھیے

محبت جاوداں میری۔۔۔فوزیہ قریشی

محبت کرنے والوں کی شخصیت میں تضاد ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں بھی تضاد تھا۔ گہرا تضاد۔ یوں تو محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی، نہ تو کوئی مذہب اس کے آڑے آتا ہے اور نہ ہی کوئی سرحد۔←  مزید پڑھیے

میرا جی کے بارے میں اختر الایمان کا ایک خط۔۔

میرا جی اپنے زمانے کا بڑا نام تھا، میں نے بمبئی کے تمام ادیبوں کو اطلاع بھجوائی، اخبار میں بھی چھپوایا مگر کوئی ادیب نہیں آیا۔ جنازے کے ساتھ صرف 5آدمی تھے۔ میں، مدھو سودن، مہندر ناتھ، نجم نقوی اور←  مزید پڑھیے

گھر جاندی نے ڈرنا۔۔۔شہزاد حنیف سجاول

یہ 19 دسمبر 1997 کی خوشگوار صبح ہے ہلکے ہلکے بادل،تیز ہوا اور کبھی کبھی آسمان کی کوکھ سے ٹپکتی بوندیں۔ جہاز کے پہیوں نے زمین کو چھوا تو چشم تخیل میں یادوں کے پے در پے دریچے کھلتے چلے←  مزید پڑھیے

تصوف اور اردو شاعری 1947 کے بعد۔۔۔چودھری امتیاز احمد

تصوف نظری اور عملی اعتبار سے حقائق آفاق سے اعراض کیے بغیر ذات کبریا کی قدرت اس کی رضا اور اپنے نفس کا عرفان حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ان غایتوں کا تعلق←  مزید پڑھیے

صاحب، ملازم اور طوائف۔۔۔ عارف خٹک

  صاحب تو جب فون پر بات کرتے ہیں تب بھی سامنے والے کے کان جل جاتےہیں۔ رُوبرو بات کریں تو جیسے ہمارے کان کے “ک” پر “گ”  بن کر دہکنے لگتی ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کاش کوئی←  مزید پڑھیے