محبت کو جینا ہے۔۔۔ثوبیہ چوہدری

رات کے اس پہر وہ جائے نماز پر کب سے بیٹھی اپنے رب سے باتیں کر رهی تھی ۔ گزرے وقت کو یاد کرتےہوئے آنسو درد کی شدت کے حساب سے کبھی تیز ہو جاتے اور کبھی تھم جاتے ۔ اس کا رازدان اس کا رب ہی تو تھا جس سے وہ سب باتیں کهہ  دیتی تھی کہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد جو سکون اسے ملتا تھا وہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ   جو کچھ کہا گیا ہے وہ اس نے سنا ہے ۔۔۔۔
”میرے رب تو سب کچھ جانتا ہے میں سب سے چھپا سکتی ہوں تجھ سے کیسے چھپاؤں که تُو تو مجھ سے بڑھ کر مجھے جانتا ہے ۔ ایک بگڑے بچے کی طرح تجھ سے سب مانگتی تو ہوں بس تیری ہی نہیں مانتی پر، تو پھر بھی رحیم ہے بس رحم هی کرتا ہے کہ ہم گنہگاروں کا رب بھی تو ہی ہے اب ہم کہاں جائیں تیرے سوا یا کوئی اور رب بتا دے اگر تو صرف نیکوکاروں کا ہے ۔۔۔۔

یہ کیا ہونے جا رہا تھا ۔یہ کون سی سرگوشیاں تھی جو اسے سنائی دے رہی تھیں  ۔یہ دبے پاؤں کون سی آهٹتیں جو دل تک رسائی چاہتی تھیں  ۔ اس کے دل کا روازہ تو کب سے بند پڑا تھا اس پے لگا تالا بھی اب تو زنگ آلود ہو گیا تھا ۔وہ تو محبت کی میت کو کب سے دفنا چکی تھی کیا مردے دوبارہ زندہ ہوتے ہیں ۔

جب سب باتیں کر چکی تو کچھ دیر سجدے میں سکون ملا پھر وہ اٹھی اور خاموشی کے ساتھ اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئی ۔کچھ دیر میں ہی اسے نیند  آگئی،صبح اس کی منتظر تھی ۔

آج اس نے بڑے غور سے آئینے میں اپنا جائزہ لیا وہ کتنی بدل چکی تھی وہ زارا جو زندگی جیتی تھی وہ کہاں کھوگئی تھی یہ تو کوئی اور ہے ۔ایک لمبی آہ بھر کر وہ تیار ہوئی لیکن آج اس کی  تیاری میں ایک تنقیدی نظر بھی تھی کہ اسے دو آنکھیں یاد آ گئیں جو اس کا حصار کیے رکھتی تھیں  ۔وہ تیار ہو کر آفس کے لیے نکل پڑی ۔ وہ فیصله کر کے آئی تھی کہ آج  اس سے ملنے جائے گی ۔

محبت کی تھوڑی جاتی ہے یہ تو ہو جاتی ہے ایک خود رو پودے کی طرح ۔۔ایک جنگلی بوٹی کی طرح اور اپنی جڑیں مضبوط کرتی چلی جاتی ہے ۔یہ تو وہ رنگ برنگے پھولوں کی طرح ،جھیلوں کے کنارے ہر رنگ میں کھلتے ہیں اور ااس کی خوبصورتی کو اور خیرہ کرتے ہیں ۔ نہیں تو وہ جھیلیں سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے آنے والو کے لیے کبھی سفر کا انعام نہ بنتیں ۔
محبت کے بھی تو کئی رنگ ہوتے ہیں ۔جو ہماری زندگی کو رنگین بناتے هیں اور ہمیں ہمارا آپ انعام کی صورت میں لوٹاتے ہیں ۔وہ اس کا انعام ہی تو تھا ۔اس کی محبت بھی ایک خود رو پودے , ایک جنگلی بوٹی اور ان جھیلوں کے کنارے والے رنگ برنگٕے پھولوں کی طرح اس کے دل کی بنجر زمین پر اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی ۔۔

انہی  سوچوں میں گھری تھی کہ آفس ٹیبل پر رکھے فون کی مسیج ٹون سے چونک گئی ۔اس کے دل نے بتا دیا تھا کہ پیغام کس کا ہے ۔اس نے فون اٹھایا اور مسیج کھولا تو چند اشعار کے ساتھ دل کا احوال بیان کیا گیا تھا۔ جسے پڑھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔یہ سلسلہ تو کب سے چل رہا تھا وہ روز اسے مسیجز کرتا تھا ۔ وہ بھی جواب دیتی تھی لیکن اپنے جذبات کو عیاں نہیں هونے دیتی  تھی  حالانکہ وہ ہار مان چکی تھی اپنے آپ سے لڑ کر تھک چکی تھی ۔

اس لیے تو فیصلہ کر کے آئی  تھی کہ اس کے بغیر بھی تو زندگی ویران ہے  تو کیوں نہ اس کے ساتھ آباد کی جائے ۔اسے عام عورت کی طرح شوہر نہیں چاہیے  تھا ایک پیار کرنے والا محبوب چاہیے تھا ۔۔
شوہر بھی تو بنایا تھا کسی کو اس نے لیکن اس نے اسے چھوڑ دیا صرف اس گناہ کی پاداش میں جو اس نے کیا بھی نہیں تھا کہ وہ اسے اولاد نہ دے سکی اور شادی کے دس سال بعد تنہائی اس کا مقدر ٹھہری ۔۔۔۔۔

زارا نے گھڑی دیکھی تو وقت بتا رہا تھا کہ اب زندگی کی پکار پر لبیک کہو ۔وہ اٹھی اپنے آپ کا ایک بار پھر تنقیدی  جائزہ لیا اور   کولیگ کو خداحافظ کہتی اپنی منزل کی طرف چل پڑی ۔آفس آور ویسے بھی ختم ہونے کو تھے۔۔۔۔
وقت اور جگہ پہلے سے طے شدہ تھی ۔ابھی وہ نکلی ہی تھی کہ موبائیل کی بیل بجی اور زارا کو یقین تھا کہ یہ اسی کی کال ہے، اس کا دل  تیزی سے دھڑکنے لگا، فون اٹینڈ کیا تو بے صبری اور بے یقینی سے سوال کیا گیا کہ تم آفس سے نکل آئی  ہو نہ میں وهاں پہنچ گیا ہوں ۔زارا نے کچھ دیر خاموش ہونے کے بعد جواب دیا کہ ہاں آ رہی ہوں ۔۔۔

جیسے وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی وہ اسے حیران ہو کر  تکے جا رہا تھا کہ مجھے یقین نہیں آ رہا تم میرے ساتھ ہو ۔کتنا انتظار تھا مجھے اس پل کا تمہیں روبرو دیکھوں ,تمہیں محسوس کروں ۔ آج وہ شام آ گئی  ہے۔۔ پھر سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے اس نے وہ سب دوبارہ کہا جو وہ اسے ہمیشہ کہتا تھا کہ اسے محبت پر یقین نہیں تھا لیکن یہ سب جو ہو رہا ہے اگر محبت اسی کو کہتے ہیں تو اسے منظور ہے ۔(وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور زارا کو اس کی آنکھوں میں اپنی خوشیاں نظر آرہی تھیں )

اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ قدرت اسے یہ انعام دے گی ۔ اس کی ریاضتوں کا , راتوں کے پچھلے پہر جو آنسوؤں کے دریا اس نے بہائے تھے اور وہ ہچکیاں جو گھٹ گھٹ کر وہ لیتی تھی کہ کهیں کوئی جاگ نه جائے۔ ہاں قدرت لوٹاتی  ہے چاہے وہ دھوکا ہو یا محبت ۔۔۔۔تو جب محبت کی تھی تو محبت ہی پلٹ کر ملنی تھی ۔یہ انسان کا فیصله تھوڑی تھا کہ ظلم ہوتا، یہ تو قدرت کا انصاف تھا ۔ زندگی بہت دفعہ ہمیں ایسے سبق دے جاتی ہے جو کسی بھی کتاب سے نہیں ملتے ۔۔۔۔

وہ تو رضا کے بغیر کسی کا سوچ بھی نہٕیں سکتی تھی ۔رضا ۔۔۔اس کی پہلی محبت ۔۔اس کے جینے کی وجہ ۔۔۔اس کی خوشی ۔۔۔اس کی بے قراریوں کی منزل   اور وہی رضا پھر شوہر کی صورت میں اس کا جائز عشق بن گیا ۔۔اور پھر اسی عشق نے اسے برباد کر دیا کیوں نہ کرتا ۔۔ عشق کرنے کی سزا تو بھگتنی پڑتی ہے ۔حساب تو دینے پڑتے ہیں ۔۔۔۔

شاہ میر ۔۔۔ سے اس کی ملاقات اپنی دوست کے گھر ہوئی وہ اس کی دوست کا کزن تھا ۔زارا سے واجبی سی سلام دعا ہوئی ۔ پھر کئی دفعہ ارم کی طرف جانا ہوا تو وہاں موجود ہوتا ۔زارا نے محسوس کیا کہ اس سے بات کرتے اس کی آنکھیں چمکتی تھیں یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی ۔ ورکنگ لیڈی ہونے کی وجہ سے بہت دفعہ ایسی باتوں اور رویوں کو دیکھ چکی تھی ۔میل کولیگ اکثر ہی زیادہ فری ہونے کی کوشش کرتے رہتے تھے ۔ہر وقت اپنی خدمات پیش کرتے رہتے تھے کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتائیں ۔آپ کو گھر چھوڑ آتے ہیں .بس ہر ایک کی اپنی ہوس ہوتی تھی ۔عورت اگر اپنے رویے کو سخت بھی رکھے تو بھی بہت کچھ سننے کو ملتا ہے . اس نے کبھی  پروا نہیں کی تھی ۔اپنے مان کو ہمیشہ قائم  رکھا۔۔

لیکن یہ کیا ہو رہا تھا اس کے ساتھ ۔۔۔شاہ میر سے ہوئی  باتیں وہ گھنٹوں سوچتی رہتی تھی وہ کوئی  ایسی بات کر دیتا کہ بے ساختہ قہقہہ لگا اٹھتی .وہ مسکرانے لگی تھی پھر فون پے رابطہ ہونے لگا ۔اس کے مسیجز آنے لگے ۔عام طور پر وہ دوسروں کے مسیجز کا جواب نہیں دیتی لیکن اس کی باتیں اسے اچھی لگتی تھیں ۔

زارا ۔۔۔وہ ایک دم چونکی!

شاه میر نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کر دیا ۔زارا کچھ لمحے سوچتی رہی پھر بے اختیار ہو کراپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اسے بالکل احساس نہیں ہوا کہ یہ کوئی  نامحرم لمس ہے  وہ تو ایسے لگا کہ اسے چھوتا آیا ہو وہ ہمیشہ ہی سے مردوں کے ساتھ بے تکلفی سے گھبراتی تھی ۔پھر طلاق کے بعد تو اور محتاط ہو گئی  کہ لیبل جو لگ چکا تھا کہ مردوں کے لیے آسان چوائس  بن گئی  تھی کہ آپ کسی کو اجازت دو نہ دو وہ” ایسی” عورت تک پہنچنا اپنا حق سمجھتے تھے ۔۔۔

لیکن یہ کیسا اس کے ہاتھوں کا لمس تھا جو اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔یہ کون ہے ۔۔میرا کیا لگتا ہے ۔میں کیوں کھچی جا رہی ہوں اس کی طرف ۔اس کے لمس نے احساس دلایا که اس سے کسی جنم کا رشتہ ضرور رہاہے  ۔ اس کے لمس میں صرف ایک مردانہ کشش نہیں تھی ۔ایک تحفظ تھا ۔ایک اپناپن تھا ۔میرے وجود نے اسے تسلیم کر لیا تھا ۔

بس پھر جس احساس کو اپنے آپ سے بھی چھپا کر بیٹھی تھی وہ چوری جو وہ خود کر کے بھی نہیں ماننے کو تیار تھی ۔وہ ہار گئی ۔وہ جو کتنے برسوں  سے اپنے دل , دماغ, جذبات کو رضا کی امانت سمجھتی تھی کہ وہ کسی کے بارے میں سوچنا بھی کفر گردانتی تھی ۔آج یہ کیا ہو گیا اسے لگا وہ ابھی جنی ہو اس سے پہلے وہ کیا تھی اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔

اسے نہیں پتا یہ محبت تھی یا وہ جو بہت برسوں پہلے اس نے کی تو وہ کیا تھا ۔بس ہر شے , ہر سوچ , ہر یاد ,ہر احساس ایسے ختم هوتا گیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں ۔۔۔۔یہ ان دعاؤں کی قبولیت تھی جو اس نے راتوں کو اپنے رب سے رو رو کر مانگی تھی کہ” میرے رب اسے میرے دل سے ایسے نکال دے جیسے وہ کبھی  اس دل میں رہا ہی نہ ہو “ اور آج اسے قدرت نے سب واپس کر دیا اس کے حصے کی خوشیاں ٫ اس کی ہنسی ٫ اس کی وہ کھوئی  ہوئی  محبت جو قدرت نے اس کے لیے چنی تھی ۔۔

زارا نے ایک پرسکون سانس لیتے ہوئے شاه میر کی طرف دیکھا اور اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت اور مضبوط کر لی یہ سوچ کر کہ اب

اسے محبت نہیں کرنی ۔۔۔ محبت کو جینا ہے اور زندہ ہونا ہے۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”محبت کو جینا ہے۔۔۔ثوبیہ چوہدری

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *