محبت کو جینا ہے۔۔۔ثوبیہ چوہدری/قسط2

کسی کا ہونا ہی تو زندگی کی طرف لے کر جاتا ہے ۔خودشناسائی کرواتا ہے ۔ ہم اپنے آپ کو پہچانتے ہیں ۔اپنے اس وجود سے ملاقات کرتے ہیں جس خمیر پہ ہمیں بنایا گیا ہے ۔
وہ رنگ پھر سے بھرنے لگتے ہیں جنہیں دکھ ، غم اور تکلیفوں کے غبار مدھم کر دیتے ہیں ۔۔
ہم ان گیتوں کو سن پاتے ہیں جو اس ملن پر ہمارے کانوں میں گونجتےہیں ۔۔۔۔۔
ہاں!
کسی کا ہونا ہی تو ہمارے ہونے کی دلیل ہے ۔۔….شاہ میر کیا ملا اسے کھوئی کائنات مل گئی ۔وہ گھنٹوں اس کے ساتھ مسیجز پہ بات کرتی تھی ۔ وہ اس جیسی باتیں کرتا تھا ۔ اسے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ وہ اسے ابھی ملا ہو وہ تو جیسے برسوں سے اسے جانتی ہو ۔وہ خود حیران تھی کہ اس کا اختیار اپنے آپ سے کیوں ختم ہوتا جا رہا تھا ۔وہ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنے آپ کو بے بس تصور کرتی ۔ جیسے اسے ہپناٹائز کر دیا ہو ۔وہ اس کے حواسوں پر چھا چکا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو روکنے کی کوشش بھی نہیں کی

محبت کو جینا ہے۔۔۔ثوبیہ چوہدری

کیونکہ وہ وقت کے اس خوب صورت بہاو میں بہنا چاہتی تھی ۔ اسے کنارے سے غرض نہیں تھی ۔ نہ ہی اب منزل کی پروا تھی ۔ بس وہ ٌان لمحوں میں جینا چاہتی تھی ۔ کسی قریب المرگ کو نئی زندگی مل جائے تو اسے زندگی کی قدر کا پتا چلتا ہے ۔ زارا کو بھی اس کی صورت میں نئی زندگی ملی تھی ۔ اسے اب مستقبل کے لئے کوئی کھوکھلے وعدے نہیں کرنے تھے ۔
وہ آفس کے لیے لیٹ ہو رہی تھی کہ شاہ میر کی کال آگئی ۔وہ حیران ہوئی کہ رات دیر تک تو بات ہوئی تھی اب اتنی صبح کیوں فون آیا ۔اس نے عجلت میں فون اٹھایا تو اس کی بے قرار سانسوں کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔ وہ پہلے تو خاموش رہی ۔ساتھ ہی شاہ میر کی بے بس آواز سنادی ،
“زارا ۔۔۔۔۔ تم نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔میں رات کو بات کرنے کے بعد بھی نہیں سو سکا . تم میری عادت بنتی جا رہی ہو ۔ تمہارے سوا کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے لیکن میں کیا کروں ؟جتنا تم سے بات کرتا ہوں اتنی ہی تشنگی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جاتی ہے ۔اسے کچھ نام نہیں دے پا رہا لیکن بس اتنا پتا ہے کہ اب ہر پل تمہارا ساتھ چاہیئے ۔ کیا ہم آج مل سکتے ہیں ؟”۔وہ اس کی باتوں کو سنتی رہی آخری بات پہ کچھ چونکی بھی پھر بڑے تحمل کے ساتھ کہنے لگی کہ میں آفس جا کر دیکھتی ہوں تو بتاتی ہوں اس طرح اچانک سے آف نہیں لے سکتی ۔ اس کو ایک ادھوری خوشی کی نوید سنا کر فون بند کر دیا ۔۔۔

سارا راستہ وہ شاہ میر کی باتوں کے بارے میں سوچتی رہی ۔یہ سب اس کے کانوں نے نیا نہیں سنا تھا ۔بہت دفعہ کولیگ کی طرف سے آفر کی جاتی تھی کہیں چائے پینے کی ، کہیں ملنے کی ، اور یہ ہمدردی جتائی جاتی کہ” مس زارا آپ خوش رہا کریں ۔زندگی میں آگے بڑھیں ۔کب تک اکیلی رہے گی “ لیکن اس ہمدردی کے لباس میں زارا کو ان کا اترا لباس نظر آتا تھا ۔
کیا ایک عورت کے پاس جسم کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ اس کی اپنی سوچ ، وجود ، شخصیت کچھ معنی نہیں رکھتی ؟۔کیوں مرد کو وہ بستر پر بغیر کپڑوں کے اچھی لگتی ہے ؟ ۔
وہ ایسی نظروں کا سامنا کرتی ہے دفتروں ، بازاروں اور کہیں بھی جہاں  وہ جائے ۔ مردوں کی پوسٹ مارٹم کرتی نظریں اس پر جمی ہوتی ہیں ۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ جو جس طرح جینا چاہے جیے ۔!
ہر جگہ مرد غلط بھی نہیں ہوتے ۔ لیکن وہ ہی ازل سے ایک بات جو سننے کو ملتی ہے کہ مرد کا تو کام ہی یہی ہے ۔ تو یہ بات مروں نے بھی ایسے پلے باندھی کہ اسی کام پہ لگ گئے ۔
ہر مرد برا نہیں تو ہر عورت بھی بستر کے لیے نہیں بنی ۔یہ کیوں سمجھ نہیں آتا کہ جو عورت آپ کی باتوں سے ناگواری کا اظہار کر رہی ہے، آپ کی نظروں سے بچ رہی ہے ۔آپ کو کوئی بڑھاوا نہیں دے رہی تو آپ اس کا پیچھا چھوڑ دیں ۔ ہو سکتا ہے کوئی اور آپ کا منتظر ہو ؟۔
لیکن ہائے یہ مرد کی انا ۔۔۔۔۔۔اسے یہ ہضم نہیں کرنے دیتی کہ عورت اور وہ بھی جو اکیلی ہو اس کی اتنی جرات کے وہ ایسا کرے ۔۔۔۔۔ وہ تو صرف ان کی تسکین کا سامان ہے ۔اس کا ہنسنا ،بولنا ، خوش مزاجی یا خوش لباسی ہو تو وہ صرف مردوں کے لیے ہی ہوتی ہے ۔ان کی اپنی تو کوئی زندگی نہیں ۔۔وہ اپنے لیے خوش نہیں ہو سکتی ۔اپنے لیے بن سنور نہیں سکتی ۔
کیوں مرد یہ نہ صرف سوچتا ہے بلکہ ایک لیبل کی طرح اس پر لگا دیتا ہے کہ اگر وہ زندہ رہنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ھے تو اسے بھی اس کا حصہ دیا جائے؟

آفس میں بھی اس کا دماغ انہیں سوچوں میں رہا ۔ کہ جن باتوں سے وہ چڑتی تھی جن کو وہ برا سمجھتی تھی کہ وہ عورت کی اہمیت کو کم کرتی ہیں تو شاہ میر بھی تو وہ ہی کر رہا ھے ۔وہ بھی تو اس کی قربت چاہتا ہے ؟۔ کیا وہ جال نہیں پھینک رہا جس میں پھنس جائے ؟۔اس کے دماغ نے فوراً ہی ان باتوں کی نفی کر دی ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں وہ ایسا نہیں ھے ۔ اف یہ عورت کی ڈبل پالیسی !

جس کی ہونا چاہے تو خود ہی جواز بنا لیتی ہے ۔ اسے کوئی جال نظر نہیں آتا ۔ وہ مرد اسے واحد شریف مرد دکھتا ہے جو دنیا میں صرف اس کی عزت کرتا ہے ۔اس کی نظر کیسے بری ہو سکتی ہے وہ تو سب اس کا پیار سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔
وہ ان باتوں میں پڑنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ وہ ایک دفعہ محبت کو آزما چکی تھی ۔سب وعدے ، ساتھ رہنے کی قسمیں جب ٹوٹیں تو اسے چکنا چور کر گئیں ۔ بے انتہا محبت ، اس کی وفاوں کا کیا صلہ دیا تھا رضا نے ؟۔۔۔ وہ شادی کے پانچ سال بعد ہی اس سے بیزار ہونے لگا تھا باقی کے پانچ سال تو اس نے بھیک میں لیے تھے ۔ ہر طرح سے کوشش کی کہ وہ خوش رہے ۔اسے جس طرح کی جنسی تسکین چاہیے تھی اس نے اپنے جسم کو پیش کر کے وہ بھی مہیا کی ۔۔۔ لیکن وہ جتنا گرتی چلی گئی وہ اتنا معتبر ہو گیا کہ عورت کی تذلیل ہی تو مرد کی مردانگی ہے ۔۔۔۔

زارا سوچ چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے ۔اس نے شاہ میر کو کال کی ۔ جو بے صبری سے اٹینڈ کی گئی ۔ “کب سے انتظار کر رہا تھا تمہارے فون کا ۔۔۔ سوچا شاید تمیں میری بات بری لگی لیکن میں نے کچھ ایسا کہا بھی نہیں ۔۔اپنے دل کی خواہش ظاہر کی ہے ۔مجھے وہ سب نہیں آتا جو باقی سب کہتے ہیں “۔۔۔پھر اچانک خاموش ہو گیا ایک لمبی سانس لیتے ہوئے بولا ۔۔اچھا بولو کیا کہنا ہے ۔۔۔۔(زارا کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی ۔یہی ادا تو اسے پسند تھی کہ آخر میں ہار جاتا تھا اس سے ۔۔۔۔)
بات اگر سن لیتے تو یہ سب نہ کہنا پڑتا ۔ کہاں ملنا ہے ؟ ۔
شاہ میر نے کہا جہاں تم کہو ۔۔۔۔
جب ملنا تم نے ہے تو تم ہی بتاؤ۔۔۔زارا نے آہستہ سے کہا ۔
اس کا مطلب تم میرے لیے ملنے آ رہی ہو ۔۔۔
پھر رہنے دو مجھے نہیں ملنا ۔شاہ میر کی آواز میں ناراضگی تھی ۔۔۔
اگر ایسا ہوتا تو کیوں پوچھتی کہ کہاں ملنا ہے ۔۔۔اب بتاؤ جلدی سے کہ مجھے نکلنا بھی ہے ” ۔۔۔۔
“ارم کی طرف چلیں”۔۔۔شاہ میر نے جواب دیا
میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں.تمہارے لمس کا احساس چائیے جو ہر وقت میرے ساتھ ہو ۔
زارا سے یہ باتیں وہ فون پر پہلے بھی کر چکا تھا ۔۔

زارا نے بغیر کچھ سوچے کہا۔۔۔”ٹھیک ہے تھوڑی دیر میں پہنچتی ہوں ۔”۔۔۔
ارم زارا کی دوست تھی ۔اس کے ساتھ جاب کرتی تھی پھر اس نے جاب چھوڑ دی کیونکہ اس کے ہسبینڈ لندن میں جا بسے تھے اور وہ یہاں بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی تھی ۔۔۔۔ ارم کو شاہ میر کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا ۔اسی کا کزن تھا اور ارم نے ہی اسے شاہ میر کے دل کا حال کچھ تسلی بھرے لفظوں کے ساتھ اسے بتایا تھا ۔۔۔۔۔

وہ وقت سے پہلے ہی ارم کی طرف پہنچی تو شاہ میر اس سے پہلے موجود تھا ۔ ارم بہت معنی خیز انداز سے ملی اور ساتھ ہی محبت بھرہ شکوہ کیا ، میری یاد تو تمیں کھبی نہیں آئی چلو کسی بہانے تم آئی تو سہی ۔ زارا شرمندہ سی ہو گئی ۔کہتی بھی تو کیا ، سچ تو وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔کچھ دیر وہ دونوں شکوے اور باتوں میں لگی رہیں تو شاہ میر نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ۔
ارم کچھ دیر تو پاس بیٹھ کر باتیں کرتی رہی پھر اپنی موجودگی کو کباب میں ہڈی سمجھ کر بہانے سے اٹھی ۔”تم لوگوں باتیں کرو میں زرا کھانے کا کچھ کروں “اور انہیں اکیلا چھوڑ کر کمرے سے چلی گئی ۔۔۔۔۔

کمرے میں خاموشی رہی ۔زارا سر جھکائے صوفہ پر بیٹھی تھی ۔شاہ میر کچھ دیر تو اسے دیکھتا رہا پھر خود ہی اس کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔اور زارا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا وہ خاموش رہی ۔

‘کیا تمہاری جستجو کرنا ، تمہیں سراہنا ، تمہارے لمس کے احساس پے میرا کوئی حق نہیں ؟۔۔۔میں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا، میں جتنا بھی اچھا اور برا ہوں سب بتا دیا ، ۔۔
یہ بھی کہ تمہیں صرف حاصل نہیں کرنا چاہتا میں تمہں پانا چاہتا ہوں”

اور زارا کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگا لیا ۔زارا کی جسم میں ایک کپکپی سی ہوئی ۔ اسے اس کا چھونا اچھا لگا ۔جیسے کسی نے تپتی گرم ریت پر پانی ڈال دیا ہو اور وہ ریت اس ٹھنڈک کے احساس کو اپنے اندر سمو لے ۔…

ایک ساکت وجود میں خون دوڑنے لگے ۔۔۔۔۔ جیسے بیابان کی خاموشی کو پہاڑ کے اوپر سے کوئی پتھر گرا کر توڑ دے کہ خاموشی کو چیرتی ہوئی آواز دور تک جائے ۔۔۔۔۔

وہ تو ایک ساکت جھیل تھی جو کب سے بے حس وحرکت زمین کی سطح پر جامد ہو گئی تھی کہ اس پہ اب کسی موسم کا اثر نہیں ہوتا تھا لیکن یہ کیا ہوا ایک کنکر نے اس ساکت جھیل کے پانیوں میں ہلچل مچا دی کہ اس کی تہہ تک کو ہلا کر رکھ دیا ۔۔۔۔۔

شاہ میر اس کے لمس کے احساس سے اور بیقرار ہو رہا تھا وہ کچھ اور ساتھ ہوا اور اس کے جھکے چہرے کو اپنی انگلیوں سے اوپر کیا ۔زارا کی آنکھیں بند تھی اور جسم میں ہلکی سی کپکپی طاری تھی ۔شاہ میر کو وہ بے حد حسین ایک ڈری ہوئی ہرنی کی طرح لگی ۔ اس کو شدید پیار آیا اور اس نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے ۔
کائنات میں ہر طرف رنگ ہی رنگ بکھر گئے ۔
ایسے جیسے کسی وادی کی گھاس پر شبنم کے نرم قطرے ۔۔۔
کسی ندی کے پانی کی ٹھنڈک ۔۔۔۔
پہاڑوں کی اوٹ سے مینہ برسانے کو تیار بدلی ۔۔۔۔
دونوں ہی عجیب نشے میں مست تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی اور وہ دونوں ہی اس مدہوشی سے ہوش میں آگئے ۔۔۔۔۔
محبت کو جینا ہے ۔۔۔۔۔۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *