چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط24

رامہ نگر کی صُبح خیز دُنیا اَورہم:
اُجالا پھیلنے پر  ہم جاگے۔جلدی جلدی وضو کیا نماز ادا کی۔فجر کی سپیدی آکر جاچکی تھی۔خیمہ بستیاں چیدچیدہ جاگ رہی تھیں۔جنگل پرندوں کی بولیوں سے گونج رہا تھا۔ہر پرندہ اِس بن میں اپنی اپنی زباں میں اپنی دُنیا کے بارے میں کُچھ کہہ رہا تھا۔اُن کی صبح ہم سے بہت پہلے ہو چکی تھی۔پرندے ہمیشہ سحر خیزی میں اِنسانوں پہ سبقت لے جاتے ہیں۔ چاہے موسم کیسا ہی کیوں نہ ہو۔مجھے اَپنے کچے گھر میں موسم سرما کے دن آج بھی یاد ہیں۔جب رات کوکئی فُٹ برف گِر چُکی ہوتی۔موسم شدید ہوتا ایسے میں گھر کی منڈیروں میں بَسنے والی چڑیاں سحری کے وقت ہی چہکنے لگتیں۔قناعت پسند دُنیا کے یہ باسی ایک آدھ دانہ کھا کر صبر شکر کرلیتے ہیں۔اُنھیں اِس سے غرض نہیں کہ کِس نے کِتنا کھا یا اور اُنھوں نے کتنا۔وہ اَپنے بچوں کو گھونسلوں میں کھلاتے ہیں۔اُن کی حفاظت کرتے ہیں۔جب و ہ اڑھنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو خود ہی رزق کی تلاش کرنے لگتے ہیں۔

عاصم صاحب سے اِجازَت لے کرجنگل کی طرف نکل گیا۔دیودار وں پہ بیٹھے پنچھی بول رہے تھے اِن کی آوازیں مِل کر کئی سُرایک ساتھ پیدا کر رہی تھیں۔ ۔ہر شاخ اور ڈالی پہ انہی کا بسیرا تھا۔ڈاک بنگلے اور خیمہ بستیاں کہیں پیچھے رہ گئیں تھیں۔ اَب میرے سامنے نانگا پربت کے دائیں طرف ایک رُوکھا پہاڑ تھا۔ایک نالہ جنگل اوراِس پہاڑ کے درمیان بہہ رہا تھا،جو نظروں سے اُوجھل تھا۔رات باورچی محمد حسین کارشتہ دار اسی پہاڑ کی دوسری طرف گِر کر فوت ہو گیا تھا۔

خاموشیوں میں،دیوداروں کی ڈالیوں سے گُزرنے والی ہواسرگوشیاں کر رہی تھی۔میں ایک دیودار کے نیچے بیٹھ گیا۔اِس کے پاس تین چھوٹے دیودار اُگے ہوئے  تھے۔ جواِس کی شفقت کا گاہے گاہے لطف اُٹھاتے ہوں گے۔سورج کی لالی نانگا پربت پر آگئی تھی۔سفید چوٹی کاایک حصہ سُرخی لیے ہوئے تھا اَور ایک پہ سفید گہرے بادل ڈھلک رہے تھے۔دونوں مُتضادرنگ،نانگا اِ ن دونوں رنگوں میں ڈوبی تھی۔اِن دونوں رنگوں کے پیچھے دو متضاد دُنیائیں کھڑی تھیں۔جیسے بیک وقت دو آسمان نانگا پربت پہ اُتر آئے  ہوں۔گہرے بادلوں کا آسمان اَور صاف و شفاف آسمان۔اِن دو آسمانی دُنیاؤں نے نانگا کو ایک اور رُوپ میں ڈھال لیا تھا۔”وہ بہت پیاری لگ رہی تھی“۔

خُوب صورَت منظر کے بعد ایک بدصورَت منظر بھی تھا۔میرے سامنے نیچے ایک چھوٹے سے میدانی ٹکڑے پہ سگریٹ کی ڈِبیاں،بوتلیں اَور کچرا پڑا تھا۔یہاں جگہ جگہ کُوڑا دان اِسی لیے لگے ہیں کہ اُنھیں کام میں لایا جائے۔”تُم بہت بڑے جنگلی ہو“،نہ جانے کِس نے اَور کب یہ جُملہ ایجاد کیا ہو گا؟۔ جیسے دیودار کا درخت بھی مُجھ سے اِس وقت یہی پوچھ رہا تھا۔”تمھارے کس دَانشور نے یہ قو ل زریں دیاہے؟“وَرنہ جنگل میں نظم و ضبط اَور سکون ہوتا ہے۔جنگل صاف آکسیجن دیتے ہیں۔جو سب سے قیمتی چیز ہے اَور نایاب ہے۔یہ مصنوعی لیبارٹریوں میں تو اَتنی صاف اَور وافر نہیں ملتی۔

اِس جنگل میں ایک اَچھی کتاب ہو،جسم کی توانائی کے لیے کُچھ سامان ہو۔باقی سب یہاں موجود ہے۔ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے،پرندوں کی سُریلی دُنیا،درختوں کی ڈالیوں میں جھولاڈالتی ہوائیں۔اُن کی سُرسُراتی موسیقی،آبشاریں،جھرنوں کاترنم۔چرواہوں سے میٹھا تازہ دُودھ،جو سستے میں مل جاتا ہے۔اِقبال نے اپنی نظم ”آرزو“میں جس دُنیا کی تمناکی ہے وہ رَامہ کے جنگل میں ہے۔

شایدوقت کافی بیت گیا تھا۔ میں اُٹھا اَور خیمے کی طرف چل دِیا۔جنگل پار کر کے میدان میں پہنچا تو دیکھا طاہر  یوسف مُجھے تلاش کرنے اِدھر ہی آرہے ہیں۔دُور سے مُجھے دیکھتے ہی ہاتھ سے اشارہ کیا۔جلدی آؤ۔۔چلنا ہے،ذرا قریب آیا تو بڑے پیار سے بولے،ہم سب بَس آپ ہی کااِنتظار کر رہے ہیں۔قافلہ تیار کھڑا تھا۔عاصم صاحب نے صرف اِتنا کہا ”اَرادہ تھا کہ کان پکڑواؤں گا مگر معاف کردیتا ہوں آئندہ ایسی غلطی نہیں کرنا“۔پتہ چلا ناشتہ ہم نے اَستور کرنا ہے۔محمد حُسین ہمارے لیے سویرے پہنچاتھا کہ  ناشتہ دوں گا۔ مگرمیر کارواں کا فیصلہ تھا’ نہیں۔جیسے ہی گاڑیاں چلنے کوتیارہوئیں،کُچھ لوگ مدد مانگنے آگئے اُن کی گاڑی نے چلنے سے انکار کردیا تھا۔ہزار جتن کے باوجود وہ ٹَس سے مس نہ ہوئی۔شفقت،عمران رزاق ،عاصم نواز صاحب اَور وقاص گاڑی کو راضی کرنے میں لگ گئے۔یہ وہی اَحباب تھے جو رات بھر ڈھول بجاتے،ناچ  گانا کرتے رہے تھے۔آخر کافی دِقت اَور وقت کے بعد اُن کی گاڑی کومنایاگیا  اَور اُس نے چلنے کی ہامی بھر لی۔۔

جاری ہے

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط24

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *