saboor malik کی تحاریر

حقیقی تبدیلی منتظر۔۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

پنجاب اور کے پی کے میں موسم سرما کے تعطیلات کے بعد سکول کھل گئے ،لیکن سردی تاحال پورے زور و شور سے جاری ہے ،بلکہ اب تو جنوری دسمبر سے بھی زیادہ سرد ہے،رہی سہی کسر گیس بجلی کی←  مزید پڑھیے

حیات قائد کے گمشدہ گوشے۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

بانی پاکستان قائد اؑ عظم محمد علی جناح کی حیات کے حوالے سے آج تک بہت کچھ لکھا گیا،ہر ایک لکھاری نے اپنے علم اورفہم و ادراک کے مطابق جناح کے بارے تحریر قلم بند کی،علاوہ ازیں الیکڑ نک میڈیا←  مزید پڑھیے

گناہ ٹیکس؟۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

تبدیلی سرکار کے تازہ ارشاد کے مطابق اب سگریٹ نوشی کرنے والوں پر گنا ہ ٹیکس کے نام پر ایک نیا ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز سامنے آنے پر یار لوگوں نے حسب سابق سوشل میڈ یا پر اس بات←  مزید پڑھیے

غفلت کی نیند۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

دسمبر ایک بارپھر آگیا،سرد موسم،اُجاڑ چمن،سوکھے شجر،چھوٹے دن لمبی راتیں،ادباء کے نزدیک دسمبر ایک اُداس موسم لئے جلوہ گر ہوتا ہے،شعراء نے دسمبر کے حوالے سے بہت سا کلام کہا ہے،ان دنوں نہ چاہتے ہوئے بھی طبعیت میں ایک عجیب←  مزید پڑھیے

ولادت باسعادت احسان عظیم۔۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

اندھیرا،گھٹا ٹوپ اندھیرا،ہرطرف ایک بے یقینی کا سا عالم،علاقائی عصبیت،رنگ ونسل کے نام پر ایک بار جو جنگ چھڑ جاتی تو سالوں زمین خون سے رنگی رہتی،انسانیت دم توڑ چکی تھی،کبھی گھوڑا آگئے بڑھانے پر جھگڑا،تو کبھی پانی پینے پلانے←  مزید پڑھیے

جمہوری قبیلے کی بہادر خواتین۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

سابق خاتو ن اول اور سابق وزیر اعظم مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز بھی خلد نشیں ہوگئیں۔اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین،موت←  مزید پڑھیے

لانبی بعدی اور ہمارے رویے۔۔۔۔صبور ملک

سال تھا 1926،برصغیر پر تاج برطانیہ کا دور اپنے عروج پر تھا،موجودہ بہاولپور جو اُس وقت ایک مسلمان ریاست تھی جس کی سب سے بڑی عدالت چیف کورٹ میں ایک مسلمان عورت نے رٹ دائر کی جس میں اُس نے←  مزید پڑھیے

صحافت کے نیم حکیم ۔۔۔۔۔محمدعبدالصبور ملک

بنی نوع انسان کی اس کائنات میں آمد کے بعد سے ہی ابتدائی دور میں ذرائع ابلاغ کا آغاز ہو گیا تھا،ایک انسان کے دوسرے انسان سے پیغام رسانی کے لئے جو بھی ذریعہ اختیار کیا گیا وہ صحافت کی←  مزید پڑھیے

تبدیلی یا مشرف باقیات۔۔۔صبور ملک

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو دیکھا تو اک قطرہ خوں بھی نہ نکلا ہمارے ہاں پوٹھوہاری میں ایک مثال دی جاتی ہے،کہ بکریے دودھ دتا ای اووی مینگڑان نا پریا،مطلب بکری نے دودھ دیا مگر مینگنیوں←  مزید پڑھیے

کالا باغ ڈیم،ڈو اور ڈائی۔۔۔۔صبور ملک

میرے والد صاحب 50کے عشرے میں ماڑی انڈس کے علاقے میں محکمہ ڈاک میں ملازمت کے سلسلے میں تعینات رہے ہیں،وہ بتایا کرتے تھے کہ 1951کے لگ بھگ کالا باغ کے مقام پر تعمیرات شروع ہو چکی تھیں،اور ڈیم کا←  مزید پڑھیے