saboor malik کی تحاریر

تیئس مارچ، قیام پاکستان کا اہم سنگ میل۔۔۔۔ایم ۔اے۔صبور ملک

برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جد وجہد کا عملی طور پر باقاعدہ آغاز تو 1857کی جنگ آزادی سے ہو چکا تھا،اور 14اگست 1947تک آزادی کی یہ شمع کسی نہ کسی روپ اور رنگ میں جاری رہی،ان 90سالوں میں سرسید←  مزید پڑھیے

تعلیم یا کاروبار۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی موسم انگڑائی لیتا ہے ،سرد موسم کی بجائے بہار کی آمد کی نوید سنائی دیتی ہے،کلیوں پہ نیا بانکپن۔درخت سبزے کی چادر اُڑھنے لگتے ہیں،دن بڑے اور ہوا میں خنکی کی ساتھ ساتھ ہلکی←  مزید پڑھیے

مستقل اور پائیدار حل۔۔۔ایم۔اے صبور ملک

دیر آید درست آید ،حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈؤان شروع کردیا،وزیر مملکت شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ مقاصد کے حصول تک موجودہ آپریشن جاری رہے گا،جنرل ضیاء دور←  مزید پڑھیے

حقیقت کی دُنیاسے۔۔۔ایم ۔اے۔صبور ملک

پاکستان نیا نیا قائم ہوا تھا،بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح گورنر جنرل کے عہدے پر فائز تھے،برطانیہ کے بادشاہ کا بھائی پاکستان کے دورے پر آرہا تھا،قائد اعظم اسکے استقبال کے لئے کہا گیا،نظم وضبط پر قائم جناح نے←  مزید پڑھیے

جنگ کھیڈ نہیں ہوندی زنانیاں دی۔۔۔۔ایم اے۔ صبور ملک

پلوامہ خود کش حملہ کے بعد بھارتی توپوں کا رخ حسب سابق ایک بار پھر پاکستان کی طرف ہو گیا،بھارتی میڈیا ہو یا سیاست دان ،حکمرا ن ہو ں یا فوجی جنتا،فلم انڈسٹری ہو یا سوشل میڈیاہر طرف پاکستان کے←  مزید پڑھیے

جبر مسلسل۔۔۔ایم ۔اے ۔صبور ملک

قیام پاکستان کے وقت برصغیر میں موجود ریاستوں کو اس بات کا اختیار دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت کسی کے ساتھ الحاق کرلیں،لیکن انگریزوں کی مکار اور ہندوؤں کی عیاری کے باعث یہ اُصول مسلم اکثریتی ریاست←  مزید پڑھیے

ایک سوالیہ نشان۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

میاں ثاقب نثار رخصت ہوئے،پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کا ایک اور باب بند ہوا،ثاقب نثار کافیصلہ تاریخ کرے گی،اور یقیناًکرے گی،اپنے دو سالہ دور میں جس جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد اور طرح ثاقب نثار ڈال گئے،وہ ہماری ملکی تاریخ کا←  مزید پڑھیے

حقیقی تبدیلی منتظر۔۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

پنجاب اور کے پی کے میں موسم سرما کے تعطیلات کے بعد سکول کھل گئے ،لیکن سردی تاحال پورے زور و شور سے جاری ہے ،بلکہ اب تو جنوری دسمبر سے بھی زیادہ سرد ہے،رہی سہی کسر گیس بجلی کی←  مزید پڑھیے

حیات قائد کے گمشدہ گوشے۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

بانی پاکستان قائد اؑ عظم محمد علی جناح کی حیات کے حوالے سے آج تک بہت کچھ لکھا گیا،ہر ایک لکھاری نے اپنے علم اورفہم و ادراک کے مطابق جناح کے بارے تحریر قلم بند کی،علاوہ ازیں الیکڑ نک میڈیا←  مزید پڑھیے

گناہ ٹیکس؟۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

تبدیلی سرکار کے تازہ ارشاد کے مطابق اب سگریٹ نوشی کرنے والوں پر گنا ہ ٹیکس کے نام پر ایک نیا ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز سامنے آنے پر یار لوگوں نے حسب سابق سوشل میڈ یا پر اس بات←  مزید پڑھیے

غفلت کی نیند۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

دسمبر ایک بارپھر آگیا،سرد موسم،اُجاڑ چمن،سوکھے شجر،چھوٹے دن لمبی راتیں،ادباء کے نزدیک دسمبر ایک اُداس موسم لئے جلوہ گر ہوتا ہے،شعراء نے دسمبر کے حوالے سے بہت سا کلام کہا ہے،ان دنوں نہ چاہتے ہوئے بھی طبعیت میں ایک عجیب←  مزید پڑھیے

ولادت باسعادت احسان عظیم۔۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

اندھیرا،گھٹا ٹوپ اندھیرا،ہرطرف ایک بے یقینی کا سا عالم،علاقائی عصبیت،رنگ ونسل کے نام پر ایک بار جو جنگ چھڑ جاتی تو سالوں زمین خون سے رنگی رہتی،انسانیت دم توڑ چکی تھی،کبھی گھوڑا آگئے بڑھانے پر جھگڑا،تو کبھی پانی پینے پلانے←  مزید پڑھیے

جمہوری قبیلے کی بہادر خواتین۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

سابق خاتو ن اول اور سابق وزیر اعظم مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز بھی خلد نشیں ہوگئیں۔اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین،موت←  مزید پڑھیے

لانبی بعدی اور ہمارے رویے۔۔۔۔صبور ملک

سال تھا 1926،برصغیر پر تاج برطانیہ کا دور اپنے عروج پر تھا،موجودہ بہاولپور جو اُس وقت ایک مسلمان ریاست تھی جس کی سب سے بڑی عدالت چیف کورٹ میں ایک مسلمان عورت نے رٹ دائر کی جس میں اُس نے←  مزید پڑھیے

صحافت کے نیم حکیم ۔۔۔۔۔محمدعبدالصبور ملک

بنی نوع انسان کی اس کائنات میں آمد کے بعد سے ہی ابتدائی دور میں ذرائع ابلاغ کا آغاز ہو گیا تھا،ایک انسان کے دوسرے انسان سے پیغام رسانی کے لئے جو بھی ذریعہ اختیار کیا گیا وہ صحافت کی←  مزید پڑھیے

تبدیلی یا مشرف باقیات۔۔۔صبور ملک

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو دیکھا تو اک قطرہ خوں بھی نہ نکلا ہمارے ہاں پوٹھوہاری میں ایک مثال دی جاتی ہے،کہ بکریے دودھ دتا ای اووی مینگڑان نا پریا،مطلب بکری نے دودھ دیا مگر مینگنیوں←  مزید پڑھیے

کالا باغ ڈیم،ڈو اور ڈائی۔۔۔۔صبور ملک

میرے والد صاحب 50کے عشرے میں ماڑی انڈس کے علاقے میں محکمہ ڈاک میں ملازمت کے سلسلے میں تعینات رہے ہیں،وہ بتایا کرتے تھے کہ 1951کے لگ بھگ کالا باغ کے مقام پر تعمیرات شروع ہو چکی تھیں،اور ڈیم کا←  مزید پڑھیے