پی آئی اے،موت کا سفر۔۔ایم اے صبور ملک

چند سال پہلے نیشنل جیو گرافک پر ایک ڈاکیو منٹری فلم دیکھی تھی،جو کہ ائیر فرانس کے ایک کنکارڈ طیارے کے بارے میں تھی،جس نے پیرس کے چارلس ڈیگال ائیرپورٹ سے نیویارک کے لئے اُڑا ن بھری،لیکن چند ہی  لمحوں کے بعد رہائشی عمارت پر گر کر تباہ ہوگیا تھا،نیشنل جیوگرافک چینل نے اس فلم میں یہ بتایا کہ حادثہ کیوں اور کس وجہ سے پیش آیا،دوران گراؤنڈ جب طیارے کی چیکنگ کی جارہی تھی تو اس کے بائیں ونگ کا ایک نٹ ڈھیلا تھا،اسی دوران وہاں کام کرنے والے انجینئرز کی شفٹ بدل گئی،جانے والے انجینئرز نئی شفٹ والوں کو یہ بتانا بھول گئے کہ مذکورہ طیارے کی بائیں ونگ کا ایک نٹ ڈھیلا ہے،اسے کَس دینا،لہذا نتیجہ حسبِ حال نکلا،نئے آنے والوں نے اس طرف دھیان نہیں دیا،اور طیارے نے جیسے ہی اُڑان بھری تو پہلے سے موجود نٹ مزید ڈھیلا ہوکر کھل گیا اور طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔

اس فلم میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس طیارے کی تباہی کے بعد اس کے گر کر تباہ ہونے کی وجوہات جاننے کے لئے کتنے سال لگے اور بالاخر وجہ دریافت کرہی لی گئی،یہی وجہ ہے کہ آج یورپ اور امریکہ میں جہازوں کے گرکر تباہ ہونے کی ریشو ہمار ے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے،پاکستان کی قومی ایئر لائن جسے عرف عام میں پی آئی اے کہا جاتا ہے،پاکستان کے اچھے دنوں میں واقعی ملک وقوم کا سرمایہ افتخار تھی،جس پالیسی کی کئی دوست ملکوں نے پیروی بھی کی اور ساتھ ساتھ امارات ائیر لائن بنانے والی بھی پی آئی اے ہی ہے،لیکن رشوت،سفارش اور سیاسی مداخلت کے رحجان نے ملک کے دیگر ادراوں کی طرح پی آئی اے کو بھی تباہی کے اُس دہانے پرلاکھڑا کیا ہے کہ جہاں سوائے اب موت کے اندھیروں کے کچھ دکھائی نہیں دیتا،غضب خدا کا کوئی سال ایسا نہیں جاتا کہ جب پی آئی اے کا جہاز سفر وسیلہ سفر کی بجائے سفر وسیلہ موت نہ بنا ہو،اپنے قیام سے لے کر اب تک کے ریکارڈ کے مطابق پی آئی اے کے طیاروں کو چھوٹے بڑے 21حادثات پیش آئے،نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی حادثات پی آئی اے کے جہازوں کا معمول ہیں،آپ 21مئی 1965،7اگست 1970،9دسمبر 1972،27نومبر1979،24اکتوبر 1986،26اگست1989،29ستمبر1992،11جولائی 2006،7دسمبر 2016اور 23مئی 2020کے اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیں،ان میں آپ کو کچھ باتیں یکساں نظر آئیں گی،یعنی ہمیں طیارہ حادثہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں سے دلی ہمدردی ہے،طیارہ حادثہ کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائیں گی،ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، پی آئی اے کا قبلہ درست کیا جائے گا،یہ کیا جائے گا وہ کیا جائے گا،لیکن عملاً کچھ بھی نہیں ہوتا نہ ہی کیاجاتا ہے،اگر ایک بار صرف ایک بار کسی ایک حادثے کی مکمل،غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کرکے ذمہ داروں کو اُن کے انجام تک پہنچا دیا جاتا؟اگر کبھی کسی ایک حادثے کے بعد پی آئی اے کو مکمل طور پر عالمی معیار کی ائیرلائن بنانے پر توجہ دی جاتی؟اگر پی آئی اے کو رشوت،سیاسی مداخلت،سفارش کلچر اور اپنوں کو نوازنے کی پالیسی کی بجائے پروفیشنل انداز میں چلایا جاتا تو شاید آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے،ابھی کورونا وائرس کے ہاتھوں انسانوں کی ہلاکت کے صدمے سے ہی نہ سنبھلے تھے کہ عین عید پر پی آئی اے نے فضا سوگوار کردی،مجھے پی آئی اے پر کافی دفعہ سفر کرنے کاموقع ملا،جہاز جب کراچی اُترنے لگتا ہے تو نظارہ ہی کچھ اور ہوتا ہے،ایک طرف مزار قائد دوسری طرف ساحل سمندر،ایک طرف انسانوں کا ہجوم اور دوسری طرف گنجان آبادیاں،کیا لمحے ہوتے ہیں جب جہاز لینڈنگ کررہا ہوتا ہے،رگ وپے میں انبساط،اپنوں سے ملنے کی خوشی،بس یہ دل چاہتا ہے کہ یہ اُڑان کٹھولا جلد ی سے زمین پر اُترے اور باہر نکل کر کھلی فضا میں سانس لیں،ذرا تصور کیجئے،اُن لمحات کا جب بقول اس جان لیوا حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کے کہ جہاز نے پہلے رن وے کو چھوا پھر اُوپر اُٹھا،لوگ کلمہ پڑھنے لگے،بچے چیخ رہے تھے،ماؤں نے بچوں کو کیا تسلی دی ہو گی بھلا،کہ بس بیٹا کچھ نہیں ابھی گھر آجائیگالیکن گھر تو نہ آیا البتہ لاہور سے کراچی جانے والے پرواز عدم آباد کو روانہ ہوگئی،ہربار کی طرح وہی لگے لپٹے بیانات،طفل تسلیاں،دلاسے،اُمیدیں اور آخر میں سب کچھ بھلا کر کسی نئے حادثے کا انتظار،سوال اس بات کا پیدا ہوتا ہے کہ سی ای او پی آئی اے نے کیسے کہہ دیا کہ جہاز میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی،جبکہ میڈیا اطلاعات کے مطابق جہاز میں لاہور سے ٹیک آف کرتے وقت ہی خرابی موجود تھی،متعدد بار انتطامیہ کو جہاز کوٹھیک کرنے کے لئے کہا گیا لیکن پرزے نہ آسکے،سیفٹی کے ایس او پیز کو کیوں نظر اندا ز کیا گیا؟ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ نے کیسے ایک ایسے جہاز کو اُڑان کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا،کیا جہاز کے اُڑان بھرنے تک کے سارے ایس او پیز کو پوار کیا گیا؟ کیا سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ ایئر لائن نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟اگر ان سب کا جواب ہاں ہے تو پھر سول ایوی ایشن اتھارٹی،پی آئی اے، ٹیکنیکل سٹاف اور جہاز کو پرواز کے لئے اوکے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے تمام لوگ اس کے ذمہ دار ہیں،اور سب سے بڑھ کر سی ای او پی آئی اے خود،جو بار بار ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ جہاز میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی،جبکہ پائلٹ کی واضح اور پرسکون آواز میں کنٹرول ٹاور سے ہونے والی بات چیت بتا رہی ہے کہ جہاز فنی خرابی کا شکار ہوچکا تھا،جہاز کے دونوں انجن فیل،لینڈنگ گیئر میں خرابی کیا سی ای او پی آئی اے کو دکھائی نہیں دیتی،یا وہ جان بوجھ کر حادثے کا ذمہ دار مرحوم پائلٹ کو قرار دے کر اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں،جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے،کیونکہ اب مرحوم ہوجانے والے پائلٹ حضرات کو عدم سے آکر اپنی صفائی میں کچھ کہنے سے رہے،یہ حادثہ سراسر پی آئی اے کے ذمہ داران کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کے نتیجے میں رونما ہوا ہے،جس میں سول ایوی ایشن اور ٹیکنیکل سٹاف بھی برابر کا شریک ہے،جس نے ایک ریڑھے کو اُڑان بھرنے کی سند جاری کردی۔

میرا نہیں خیال کہ گزشتہ 24سال سے جہاز اُڑانے والے مرحوم پائلٹ سجاد گل سے کوئی غلطی ہوئی ہو،پائلٹ ایک ذمہ دار اور ذہنی طور پر ہوشیار اور حاضر دماغ انسان ہوتا ہے،جس کے ذمہ نہ صرف اربوں مالیت کا جہاز بلکہ انمول قیمتی انسانی جانیں ہوتی ہیں،شاید چند ایک واقعات میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پائلٹ سے اندازے کی غلطی ہوگئی ہو،لیکن اگر کراچی میں ہونے والے طیارہ حادثہ کو دیکھ جائے تو یہاں پائلٹ قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا،عینی شاہدین کے بیانات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پائلٹ نے جہاز کو آبادی سے دور لے جانے کی کوشش کی لیکن اس میں اُسے کامیابی نہ مل سکی،یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہمارے ہاں ایک غلط رواج یہ بھی پڑگیا ہے کہ ہم ہر حادثے کو اللہ کی مرضی کہہ کر اُس پر مٹی ڈال دیتے ہیں جو کہ میرے خیال سے اللہ باری تعالی کی ذات پر سراسر بہتان ہے اور کچھ نہیں،کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل سلیم عطا فرمائی،شعور دیا،اختیار و ارادہ دیا،پھر جب ہر انسان اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے جس کا اُسے قیامت والے دن حساب لیا جائے گا تو پھر جب ہم اللہ کے بنائے ہوئے اٹل قوانین سے روگردانی کرتے ہیں تو وہاں اللہ کی مرضی کی بجائے اُس کا قانون حرکت میں آتا ہے،اگر ہم قدرت کی عطاکردہ عقل سے کام لے کر اپنا محاسبہ کرنا شروع کردیں اور اپنی غلطیوں،کوتاہیوں اور نااہلیوں پر پردہ ڈالنے اور ان کی وجہ سے ہونے والے حادثات کو اللہ کی مرضی کی بجائے انسان کی غلطی سمجھنا شروع کردیں تو یقیناً ہم مستقبل میں ایسے کسی بھی المناک سانحے سے بچ سکتے ہیں،وگرنہ جوہماری حالت ہے اس میں ایسے کسی حادثے کے نہ ہونے کی اُمید رکھنا سوائے کم عقلی اور بے وقوفی کے اور کچھ نہیں،اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ وہ اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے اورلواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پی آئی اے،موت کا سفر۔۔ایم اے صبور ملک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *