ضیا ء بمقابلہ بھٹو۔۔ایم اے صبور ملک

ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا الحق دونوں عشرے گزرے اپنی حیات گزار کر اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے،لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ دونوں کردار ہمیشہ کے لئے اپنا نقش چھوڑ گئے،گو بھٹو آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں،لیکن بھٹو ازم اور بھٹو فیکٹر پاکستان کی سیاست میں اپنا ایک وجود اور اپنی ایک شناخت رکھتا ہے،بعینہ اسی طرح جنرل ضیا الحق کے چاہنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں،ہر دوکے کردار کا تعین پاکستان کی سیاسی تاریخ نے کردیاہے،جس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت کچھ ہے،بھٹو اور ضیا الحق دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،اور یہ ضد آج بھی اُسی طرح قائم ودائم ہے،یہ دونوں ایک نظریہ ہیں،ایک لبرل اور دوسرا قدامت پسند،ایک ترقی کا استعارہ اور دوسرا تباہی و بربادی کی جڑ،ان دونوں نظریات نے پاکستانی معاشرے کو واضح طور پر دو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا ہے۔

پا کستان کو آج جس دہشت گردی،مذہبی انتہا پسندی،لسانی جھگڑوں اور فرقہ واریت جیسے جس عفریت کا سامنا ہے،اس کی بنیاد5جوالائی 1977کو شب کے اندھیرے میں رکھی گئی،جب اُس وقت کے فوجی سپہ سالارجنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا، ملکی تاریخ کے اس سیاہ دور کی تلخ یادیں بھلائے نہیں بھولتیں، قوم 3دہائیوں بعد بھی اس کے منفی اثرات سے جان نہیں چھڑا سکی،ابھی سقوط ڈھاکہ کا زخم تازہ تھا،پاکستانی قوم سقوط ڈھاکا کا زخم بھولنے کی کوشش کررہی تھی،پہلا متفقہ آئین نافذ العمل ہو چکا تھا،جمہوری دور حکومت کے پہلے انتخابات ہو چکے تھے، ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی ایک بار پھر اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی تھی، اپوزیشن نے چند نشستوں پر دھاندلی کا الزام لگایا، اورنتائج ماننے سے انکار کردیا۔ملک بھر مظاہرے شروع ہوگئے اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات بھی ہوئے،جن کے نتیجہ خیز ہونے کی امید پیدا ہوچکی تھی لیکن خدشات حقیقت بن کرسامنے آ گئے، اور5 جولائی 1977ء کو ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا،90 میں روز میں انتخابات کے وعدے کے ساتھ شروع ہونے والا یہ سیاہ دور گیارہ سال جاری رہا۔

جنرل ایوب خان اور یحییٰ خان کے مارشل لاء کو ملک کے ایک حصے کی علیحدگی کا باعث قرار دیا گیا،تو پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کی پھانسی،ملک میں انتہاپسندی اور فرقہ واریت، ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ضیاء دور کے ثمرات کی صورت میں سامنے آئے,طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت نے اس 11سالہ آمریت کا خاتمہ کیا، اسے 11سال ہی گزرے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء آگیا، جس کے خلاف جمہوری قوتوں کی جدوجہد شروع ہوئی تاہم آمریت سے جان چھڑانے میں 9سال لگ گئے، پھر دو منتخب حکومتوں کو پہلی بار مدت مکمل کرنے کا موقع ملا،پاکستان کا المیہ ہی کہا جاسکتا ہے،کہ ایک طرف سیاست دانوں کی غلطیوں اور دوسری طرف طالع آزماؤ ں کی اقتدار کی ہوس نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا،ملک میں جمہوری ادارے پنپ نہیں سکے،اور نہ ہی جمہوری کلچر کو فروغ حاصل ہوا،اس ملک کے پہلے غیر جانبدار انتخابات سے ملک دولخت ہو گیا،لیکن نہ تو سیاستدانوں اور نہ ہی کسی آمر نے سبق سیکھا،آپریشن فیئر پلے کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا،آج اس آپریشن میں حصہ لینے والوں میں سے بیشتر زندہ نہیں ہیں، تاریخ کی درستگی اور موجودہ نسل کی آگاہی کے لئے ہر سال ان باتوں کا اعادہ کرنا ضروری ہے،تاکہ ہماری موجودہ نسل جان سکے،کہ پاکستان 5جولائی 1977سے پہلے کیسا تھا؟اور جس سیاہ رات کا آغاز 5جولائی1977 کو ہوا،اس نے ہمارے معاشرے کو ایک ترقی پسند،معتدل مزاج معاشرے سے لسانی،مذہبی فرقہ پرستی،کلاشنکوف اور ہیروین کلچر میں کیسے بدلا،اسلام کے نام پر اور کلمہ پڑھ کر اپنی پہلی نشری تقریر میں 90دن میں انتخابات کروانے کا وعدہ کرنے والے جنرل ضیاالحق نے گیارہ سال اس قوم کو آگئے لگائے رکھا،گو جناب بھٹو بھی غلطیوں سے مبر انہیں تھے،انسان تو ہے ہی خطا کا پتلا،بشری کمزوریاں ہر ایک کے ساتھ ہوتی ہیں،اپنے دور حکومت میں اپنے سیاسی مخالفین کی جو درگت ایف ایس ایف کے ہاتھوں ہو تی تھی وہ بھی ایک تاریخ ہے،لیکن اگر جنرل ضیا الحق کے مقابلے میں غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو کم ازکم بھٹو دور میں کسی لسانی یا مذہبی فرقہ پرستی کی بنیاد نہیں پڑی،جو حشر اسلام کا گیارہ سالوں میں ہوا،اس کے آگے اسلام اور مسلمانوں کی 1400سالہ تاریخ بھی ماند پڑجائے۔

آج ہمارا معاشرہ جس مذہبی بے چینی اور لسانی اختلافات کا شکا رہے وہ جنرل ضیا کی بوئی ہوئی کانٹوں کی فصل ہے،لیکن آج بھی ہمارے سیاستدان اس بات سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں،ملکی تاریخ کے چار مارشل لاء جھیلنے کے بعد بھی ہماری سیاسی قیادت انہی بیساکیوں کے سہار ے اقتدار میں داخل ہونا چاہتی ہے،جس نے ایوب خان،یحیی خان،ضیا الحق اور مشرف کو ایوان اقتدار کا راستہ دکھایا،ملک میں ضرورت ہے سیاسی اداروں کے استحکام کی،جمہوری ادراوں کے پنپنے کی،سیاسی اور عسکری قیادت اور سول سوسائٹی کے درمیا ن مکالمے کی،جس میں بات ہو سول سپرمیسی اور افواج کے مورال کو قائم رکھنے کی،ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچنے سے بہتر ہے،ڈائیلاگ کیا جائے،ہر ایک کو اس کی آئینی حدودمیں رہ کر اپنا کردار ادا کرنے کی،تاکہ پاکستان ترقی کرسکے،قوم خوشحال ہو،موجودہ حالات میں تو مجھے لگتا ہے کہ اگرضیا الحق کے نظریات کے فروغ کو نہ روکا گیا تو کوئی خونی انقلاب نہ جنم لے لے،کیونکہ معاشرے میں بھٹو نظریات اور ضیا نظریات کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے،جس کا بہترین حل مکالمہ ہے،پاکستان ووٹ کی بنیاد پر وجود میں آیا،یہاں کسی طالع آزما کی گنجائش پیدا ہونے اور پیدا کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے،کسی ایک یا چند افراد کے ذاتی فعل سے کسی ادارے کو گالی دینایا برا بھلا کہنا بھی مسئلے کا حل نہیں،جیسا کہ ہمارے ہاں رواج بن چکا ہے،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *