میں اک کالا کلوٹا سا لڑکا۔۔۔۔مظفر عباس نقوی

ابتدا میں تو میں آپ سے کہنا چاہوں گا کہ کوشش کریں کہ آپ پیدا نہ  ہوں، جی ہاں اب آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم پید ا نہ  ہوں۔ چلیں بحث میں نہیں پڑتے ۔۔۔پیدا ہو جائیں، اب آنے والے کو بھلا کوئی کیسے روک سکتا ہے۔ چلیں اب آپ اگر پیدا ہو جائیں تو مزید یہ کوشش کر کے دیکھ لیں کہ آپ کالے نہ  ہوں۔ ہاں اگر آپ کالے بھی پیدا ہو گئے ہیں تو دعا کریں کہ آپ کے پہلے سے موجود بہن بھائی گورے نہ  ہوں اگر وہ گورے ہیں اور اب آپ کالے پیدا ہو چکے ہیں اور فقط کالے نہیں شدید کالے تو یقین جانیں آپ کو پہلی بات پر  ہی عمل کرنا چاہیے تھا یعنی آپ پیدا نہ  ہوتے۔

یہ سب باتیں مجھے پیدا ہونے سے پہلے معلوم نہ  تھیں ویسے معلوم ہو بھی کیسے سکتی تھیں۔ مگر میں آپ کو پہلے سے بتا رہا ہوں میری طرح غلطی مت کیجیے گا یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان حالات میں پیدا ہونے کارسک مت لیجیے گا۔

کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں مائیں کہتی ہیں۔
پیدا ہوندیاں   تےبڑا چٹا سی (یعنی یہ پیدا بڑا گورا ہوا تھا) دھوپ میں کھیل کھیل کے کالا ہو گیا مگر ہم نے اپنی امی جان کو کبھی یہ کہنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ ویسے دیکھا جائے تو اس میں قصور میرا بھی نہیں۔ اوپر سے یہ ظلم کہ آپ کی اسی شدید سانولے (سانولا رنگ کیونکہ امی کہتی ہیں میں کالا نہیں سانولا ہوں) رنگ کے ساتھ نا صرف بچپن کی تصویرہو، بلکہ آپ کے ولایت میں موجود رشتے داروں کو بھیجی گئی ہوتو سمجھیں آپ تو پیدا ہی ذلیل ہونے کے لئے ہوئے تھے۔

مگر امی جان کا حوصلہ دیکھیں کہتیں ہیں کہ سانولے رنگ میں ایک عجیب کشش ہے جانے کونسی کشش ہے جو حسیناؤں کو تو دور ہی بھگا رہی ہے۔ مجال ہے کہ کوئی کشش بھی پاس بھٹکی ہو ہاں ایک دو دفعہ کسی خوبرو حسینہ کو فیس بک پے فرینڈ ریکوسٹ بھیج دی، چلو مانا کہ حسین ہو بہت فالوورز ہیں ریکوئسٹ نہ  ایکسپٹ کرو مگر بلاک تو نہ  کرو ظالم۔ ایسی صورت حال دیکھ کے تو لگتا ہے کہ میرے پیدا ہونے پر دائی نے کہا ہوگا  ہے آپ کے گھر بلیک بلاک پیدا ہوا ہے۔ فیس بک تو ایک بیرونی دنیا ہے بھائیوں کو دیکھ لیں دوستوں اور کزنوں کے ساتھ تصویریں اپڈیٹ کرتے وقت ہیش ٹیگ دیں گے برادر فرام این ادر مدر اور جو سیم مدر سے ہے مجال ہے اس کے ساتھ تصویر اپڈیٹ کر دیں۔

اورجی جب میں بارہ سال کا تھا تومیرے بھائی بہن مجھے مکمل یقین دلا چکے تھے کہ میں شہزادی بھنگن (جو ایک فیبریکڈ کردار تھا) کا بیٹا ہوں اور دوسری یہ بات کہ میں کچرے سے ملا تھا ویسے مجھے یقین ہو چلا تھا کہ ان دو باتوں میں سے ایک بات درست ہو گی۔ مگر ہماری دیسی مائیں مجال ہے بچے کا مورال ڈاؤن ہونے دیں۔ مجھے کہتیں تھیں کہ تمہارے بڑے بھائی بھی کالے ہوتے تھے جیسے ہی سترہ کے ہوئے جوانی میں روپ چڑھ گیا اب دیکھو کیسے دمکتے ہیں۔ اور تم تو پھر بھی سانولے ہو دیکھنا لشکارے مارو گے اور میں اک دم شرما جاتا اور کالے رنگ میں مزید نکھر جاتا کہ چلو تین چار سال کی بات ہی ہے انتظار کر لیتے ہیں۔

اور بالاآخر سترہ سے اٹھارہ بھی آگیا اور کالج بھی مجال ہے کہ ذرا رتی برابر فرق آیا ہو ۔کہتے ہیں جوانی میں تو کیل جی وہی لوہے والا کیل جب نیا نیا لیں تو کیسے لشکارے مار رہا ہوتا ہے۔ تو میں تو مرد تھا ویسے ہی حُسن کے چرچے ہونا ضروری تھے مگر  کہاں بھلا۔۔۔ کتنی ہی فیئر اینڈ لولی اور چار کریمیں کالی کر لیں مگر رنگ اپنی جگہ پے ثابت قدمی سے قائم و دائم تھا۔
کالج جانا  شروع کر لیا تھا، کو ایجوکیشن بھی تھا  ، مگر حالت تھی کہ بدلنے کو ہی نہیں آرہی تھی۔۔۔ ویسے بھی ہم دیسی بچوں کے پاس بچتا کیا ہے یہ کہنے کے علاوہ کہ  امی اب کیا ہو گا اور ہماری دیسی مائیں تو پیدا ہی تسلیاں دینے کے لئے ہوتیں ہیں۔

اب امی کی تسلیاں مختلف ہو چکیں ہیں اب وہ کہتیں ہیں بیٹا دیکھو رنگ تو خدا کی دین ہے تم نے دیکھا نہیں لیلی کالی تھی مجنوں کیسے دیوانہ تھا حُسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ اب اماں کو کون سمجھائے اماں آج کے دور میں میری مجنوں کس نے ہونا ہے؟ بیٹا دیکھو آنکھوں کی پُتلی سیاہ، کعبہ سیاہ مگر کتنا پُرنور مگر امی کو کون سمجھائے کہ یہ فلسفی باتیں نہیں سمجھ آتیں  ،آجکل کے لوگوں کو، اب پچیس کے پیٹے میں جا چکا ہوں رشتے نہیں آ رہے کہ لڑکا کالا ہے ،کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لئے رشتے نہیں ہیں اچھے لڑکے ملتے نہیں، بھائی ادھر ایک عدد اچھا نیک سیرت کڑیل جوان موجود ہے۔ مگر مجال ہے کوئی دھیان دے مجھ پر ۔ اب سوچ رہا ہوں کہ گورے ہونے والے نجکشن لگوا لوں۔ سلیبرٹی لگوا سکتے ہیں تو میں کسی سے کم ہوں کیا۔ مگر جناب کالا رنگ تو شاید سفید ہو جائے مگر اس موٹاپے اور نین نقش کا کیا کروں گا۔ آہ !اک جند تے ڈکھ ہزاروں (ایک جان اور دکھ ہزار) اب اس پر بحث پھر کسی اور دن کریں گے۔ کہ
خوبصورت کیسے ہوا جائے اور موٹاپا کیسے کم کیا جائے!!!

مظفر عباس نقوی
مظفر عباس نقوی
سیاست ادب مزاح آذادمنش زبان دراز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *