اسلام کےوسیع دامن میں ایک مندر کی گنجائش ہے۔۔فراست محمود

روز کہتا ہوں بھول جاؤں اسے اور روز یہ بات بھول جاتا ہوں۔یقین کریں روزانہ کی بنیاد پہ دل ناتواں سے عزم صمیم کرتا ہوں کہ مذہبی بحث و مباحثہ سے پرہیز اختیار کی جائے مگر دماغ منتشر کو دل ناتواں سے خدا واسطے کا ازلی بیر ہے جو دل کے پختہ عزم کو بھی ایسے زمین بوس کرتا ہے جیسے ساون کی تیز بارش کچی دیوار کو گرا دیتی ہے۔اور میں اسی کشمکش میں ایک بار پھر اس مذہبی مباحثوں کے حصار سے نکل ہی نہیں پاتا ہوں۔کیونکہ معاشرے میں آئے روز ایسے عجیب و غریب موضوعات و تاویلات کے ذریعے مذہبی جذبات کو رسد فراہم کی جاتی ہے کہ عقل محو تماشائے لب بام رہ جاتی ہے۔

آج کی تحریر پھر ایک بار مذہبی حوالے سے ہی لکھنی پڑ رہی ہے جو کہ اسلام آباد میں ہندؤں کی عبادت گاہ مندر کی تعمیر کے متعلق ہے۔

سیکولر ریاستیں ہوں یا لوگ ،دونوں مذہب کو انسان کی ذاتی پسند ناپسند تک محدود رکھنے کے قائل ہوتے ہیں جب کہ مذہبی جذبات رکھنے والے لوگ مذہب کو مقصد حیات بتاتے اور سمجھتے ہیں۔اور میں جو ان مذہبیوں اور سیکولروں کے درمیان خود کو لٹکتا محسوس کرتا ہوں ، ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ مذہب کے بغیر انسان ادھورا ہوتا ہے۔آج کا انسان مذہب کو مشروط بنیادوں پہ مانتا ہے اور ان مذہبی معاملات کو سوداگری ہی کی نظر سے دیکھتا ہے۔

غم حیات کا تھکا ہوا انسان اپنے خدا کے حضور کبھی تو روحانی تسکین کے لئے جھکنے پہ مجبور ہوتا ہے تو کبھی اپنی ادھوری خواہشات کی تکمیل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سجدہ ریز ہوتا ہے۔اور تقریباً دنیا کے تمام مذاہب کے لوگ اپنے اپنے خداؤں سے ذرا سا واسطہ لازمی رکھے ہوتے ہیں تاکہ مصیبت کی کسی گھڑی میں کوئی ٹھکانہ ایسا میسر آئے جس میں وہ اپنی آنکھ سے آنسو بہا کر دل کا بوجھ ہلکا کر سکیں۔یا اپنی زندگی کی حاصل کردہ خوشیوں کا جشن تسلیء  دل کے لئے اس بارگاہ میں جا کر منا سکیں۔اور مزید خوشیوں کے لئے کچھ نذر  نذرانہ پیش کر سکیں۔

آج کل چونکہ ملکوں کی تقسیم قومی ریاستوں اور علاقائی حد بندیوں کی شکل میں ہوئی  ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی حقوق برابری کی سطح پہ دئیے جاتے ہیں اور ریاست کے ہر شہری (بغیر مذہبی تفریق) کا ریاست پہ یہ حق ہوتا ہے کہ ریاست اس کے عزت مال اور جان کی ہر طرح سے حفاظت کرے اور ان کو اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق نہ صرف عبادات کرنے دی جائیں ، بلکہ تمام مذہبی عمارتوں(مساجد،گردوارے،مندر،چرچ،سینی گاگ وغیرہ) کی حفاظت بھی کی جائے۔تمام مذہبوں اور سیکولر ریاستوں میں اتنے اہم اور واضح پیغامات ہونے کے باوجود ہر دو میں اتنے مذہبی جنونی اور شدت پسند لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو نہ صرف مخالف مذاہب کی تحقیر کرتے ہیں بلکہ انسانیت کی بھی تذلیل کرتے ہیں۔(فرانس،جرمنی،ہالینڈ ہوں،پاکستان و بھارت ہوں یا عرب ریاستیں ہوں شدت پسندی ہر خطے کے جنونیوں کا وطیرہ ہے۔چونکہ اپنا تعلق ریاست پاکستان سے ہے تو ہم بات بھی صرف اسی کی کریں گے۔

اسللامی جمہوریہ پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح صاحب نے اس کی بنیادوں میں بھی تمام شہریوں کے برابر مذہبی و انسانی حقوق شامل کئے تھے۔اس کا وجود بے شک لاالہ کی بنیاد پہ بنا،مذہب اسلام کی روح کو پروان چڑھانے کے لئے بنا مگر اس کے باوجود بانی پاکستان نے اس بات کا ہر لحاظ سے خیال رکھا تھا کہ پاکستان کے تمام شہریوں (بشمول اقلیتوں) کو ہر قسم کے حقوق یکساں دئیے جائیں گے۔اور قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق (لا اکراہ فی الدین)کسی قسم کا کوئی جبر روا نہ رکھا جائے گا۔

وسعت اللہ خان صاحب کے ایک کالم کے ذریعے معلوم ہوا کہ 60 کے عشرے تک اس ملک میں مذہبی و انسانی وحدت و یگانگت کا خوب مظاہرہ ہوتا تھا اور کرسمس،ایسٹر،بیساکھی،ہولی دیوالی کے موقع پر قومی تعطیلات ہوا کرتی تھیں نہ کسی کا ایمان بھرشٹ ہوتا تھا اور نہ کسی کے عقیدے پہ کوئی ضرب لگتی تھی بلکہ معاشرہ محبت انسان کے خوبصورت ترین رنگوں سے سجا ہوتاتھا۔اخلاص،مروت،رواداری انسانوں کی رگوں میں بطور انسان دوڑیں لگاتی تھی پھر یوں ہوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی اور دور ضیائی میں تو مذہبی جنونیوں کی تعداد میں ایسا اضافہ ہوا جو خود کو تو اسلام کے مطابق نہ چلا سکتے تھے مگر لوگوں کو زبردستی قائل کرنا چاہتے تھے۔جن کا ایمان خالی نعروں کی گونج اور شدت سے مضبوط ہو جایا کرتا اور مذہب مخالف کا نام سن کر کمزور ترین درجے سے بھی نیچے پہنچ جاتا۔وطن عزیز میں مذہب تو دور کی بات مسلکی بنیادوں پہ لوگوں کو جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں اور لوگ سرعام جنت و دوزخ کی تقسیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اور حالیہ سوشل میڈیائی دور میں تو نفرتیں مزید پروان چڑھی ہیں۔شدت پسندی عروج پہ ہوئی ہے اور جنونیت میں جنون کی حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔علمائے کرام ہوں یا کسی بھی جماعت کے سیاسی حکمران ہوں مذہب کو ذاتی و سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں اور سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔پھر اسی لئے اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔حالانکہ غیر مسلم اقلیتوں سے ایسا ناروا سلوک  رکھنے کا حکم ہمیں نہ مذہب دیتا ہے نہ رحمت اللعالمین سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ایسا سبق ملتا ہے۔

غیر مسلموں کے جان و مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ کے متعلق عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عہدِ خلفاے راشدین کا رویہ و حکم درج ذیل ہے۔
غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عہد خلفاے راشدین میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو یقینی بنایا۔

عہدِ نبوی میں اہلِ نجران سے ہونے والا معاہدہ مذہبی تحفظ اور آزادی کے ساتھ ساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کے تصور کی عملی وضاحت کرتا ہے. اِسے امام ابو عبید قاسم بن سلام، امام حمید بن زنجویہ، ابن سعد اور بلاذری سب نے روایت کیا ہے. اِس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تحریری فرمان جاری فرمایا تھا۔

’’اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کے لیے اُن کے خون، ان کی جانوں، ان کے مذہب، ان کی زمینوں، ان کے اموال، ان کے راہبوں اور پادریوں، ان کے موجود اور غیر موجود افراد، ان کے مویشیوں اور قافلوں اور اُن کے استھان (مذہبی ٹھکانے) وغیرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں، جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا۔ ان کے حقوق اور اُن کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔ نہ کسی پادری کو، نہ کسی راہب کو، نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو – خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو یا بڑا،اس سے نہیں ہٹایا جائے گا، اور ان کو کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔‘‘
ابن سعد، الطبقات الکبری، 1: 288، 358،أبو يوسف، کتاب الخراج: 78
أبو عبيد قاسم، کتاب الاموال: 244، 245، رقم: 503
ابن زنجوية، کتاب الاموال: 449، 450، رقم: 732
بلاذري، فتوح البلدان: 90

امام حمید بن زنجویہ نے بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد بھی عہد صدیقی میں یہی معاہدہ نافذ العمل رہا، پھر عہد فاروقی اور عہد عثمانی میں حالات کی تبدیلی کے پیش نظر کچھ ترامیم کی گئیں مگر غیر مسلموں کے مذکورہ بالا حقوق کی حفاظت و ذمہ داری کا وہی عمل کامل روح کے ساتھ برقرار رہا۔

اِسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح خیبر کے موقع پر بھی یہود کے اموال و املاک کے بارے میں اعلان فرمایا، جسے امام احمد، امام ابو داؤد، امام طبرانی اور دیگر ائمہ حدیث و سِيَر نے روایت کیا ہے:
’’حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے۔ لوگ (مجاہدین) جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تم جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے گئے ہو۔ خبرادار! سوائے حق کے غیر مسلم شہریوں کے اموال سے لینا حلال نہیں ہے.‘‘
أحمد بن حنبل، المسند، 4: 89، رقم: 16862
ابو داود، السنن، کتاب الأطعمة، باب النهی عن أکل السباع، 3: 356، رقم: 3806
ابن زنجوية، کتاب الاموال: 379، رقم: 618
یہی روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے
’’خبردار! میں تم پر غیر مسلم اقلیتوں کے اَموال پر ناحق قبضہ کرنا حرام کرتا ہوں.‘‘
طبراني، المعجم الکبير، 4: 111، رقم: 3828
ابن زنجوية، کتاب الاموال : 380، رقم: 619

امام دارقطنی نے ان الفاظ سے اس روایت کو بیان کیا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر غیر مسلم شہریوں کے اموال پر قبضہ کرنا حرام قرار دے دیا۔‘‘
دارقطنی، السنن، 4: 287، رقم: 63

دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ان معاہدات، دستاویزات اور اعلانات سے اقلیتوں کے حقوق کا درج ذیل خاکہ سامنے آتا ہے:
اسلامی حکومت کے تحت رہنے والی غیر مسلم رعایا کو مساوی قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔
ان کے مذہب سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے اموال، جان اور عزت و آبرو کی حفاظت مسلمانوں ہی کی طرح اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اسلامی حکومت انہیں انتظامی اُمور کے عہدے – جس قدر وہ اہلیت و استحقاق رکھیں – تفویض کر سکتی ہے۔
اپنے مذہبی نمائندے اور عہدے دار وہ خود متعین کرنے کے مجاز ہوتے ہیں، ان کی عبادت گاہیں قابلِ احترام ہیں اور انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے۔
غیر مسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا یہ اہتمام صرف پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری کے بعد خلفاے راشدین کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا. اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

1. سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں غیر مسلم شہریوں کو مسلمانوں ہی کی طرح حقوق اور تحفظ حاصل تھا. آپ کے دور میں جب اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو آپ سپہ سالار کو حسب ذیل احکام اور ہدایات ارشاد فرماتے:
’’خبردار! زمین میں فساد نہ مچانا اور احکامات کی خلاف ورزی نہ کرنا. کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ انہیں جلانا، چوپایوں کو ہلاک نہ کرنا اور نہ پھلدار درختوں کو کاٹنا، کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا. تمہیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے گرجا گھر وں میں اپنے آپ کو محبوس کر رکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا.‘‘
بيهقي، السنن الکبریٰ، 9: 85
مالک، الموطا، 2: 448، رقم: 966
عبد الرزاق، المصنف، 5: 199
هندی، کنز العمال، 1: 296
ابن قدامة، المغنی ، 8:451، 452، 477

. سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو شام بھیجتے ہوئے جو احکامات صادر فرمائے، ان میں آپ نے یہ بھی حکم فرمایا تھا
’اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو منہدم نہ کرنا اور نہ بوڑھوں کو قتل کرنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹوں کو اور نہ ہی عورتوں کو (قتل کرنا)۔‘‘
هندی، کنز العمال، 4: 475، رقم: 11411
حضرت ثابت بن الحجاج الکلابی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’خبر دار! کسی گرجا گھر کے پادری کو قتل نہ کیا جائے۔‘‘
ابن ابي شيبة، المصنف، 6: 483، رقم: 33127
هندي، کنز العمال، 4: 47
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جب خلیفہءِ اوّل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر دمشق اور شام کی سرحدوں سے عراق اور ایران کی طرف لوٹے تو راستے میں باشندگانِ عانات کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ:
ان کے گرجے اور خانقاہیں منہدم نہیں کی جائیں گی۔
وہ ہماری نماز پنجگانہ کے سوا ہر وقت اپنا ناقوس بجا سکتے ہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
وہ اپنی عید پر صلیب نکال سکتے ہیں۔(3)
أبو يوسف، کتاب الخراج: 158

عہد فاروقی میں بھی غیر مسلم شہریوں کے تحفظ اور حقوق کے ساتھ ساتھ نفسِ انسانی کے احترام اور وقار میں اس قدر اضافہ ہوا کہ مفتوحہ علاقوں کے غیر مسلم شہری اسلامی ریاست میں اپنے آپ کو زیادہ محفوظ اور آزاد سمجھتے تھے. اس کا اعتراف مشہور مستشرق (orientalist) منٹگمری واٹ (Montgomery Watt) نے بھی کیا ہے:
The Christians were probably better off as dhimmis under Muslim Arab rulers than they had been under the Byzantine Greeks.
’’عیسائی، عرب مسلم حکمرانوں کے دورِ اقتدار میں بطور غیر مسلم شہری اپنے آپ کو یونانی بازنطینی حکمرانوں کی رعیت میں رہنے سے زیادہ محفوظ اور بہتر سمجھتے تھے۔‘‘
(1) Watt, Islamic Political Thought: The Basic Concepts, p. 51.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اندازہ ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے حسبِ ذیل ارشادات اور معمولات سے ہوتا ہے:
1. حضرت عمرص نے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہص کو جو فرمان لکھا اس میں منجملہ دیگر احکام کے ایک یہ بھی درج تھا:
’’(تم بحیثیت گورنر) مسلمانوں کو غیر مسلم شہریوں پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے سختی کے ساتھ منع کرو.‘‘
ابو يوسف، کتاب الخراج: 152

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی ان کے پاس اسلامی ریاستوں سے کوئی وفد آتا تو آپ اس وفد سے غیر مسلم شہریوں کے اَحوال دریافت فرماتے کہ کہیں کسی مسلمان نے انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف تو نہیں پہنچائی؟ اِس پر وہ کہتے: ہم اور کچھ نہیں جانتے مگر یہ کہ ہر مسلمان نے اس عہد و پیمان کو پورا کیا ہے جو ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان موجود ہے.
طبري، تاريخ الامم والملوک، 2: 503

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اقلیتوں کا خیال تھا حالانکہ ایک اقلیتی فرقہ ہی کے فرد نے آپ کو شہید کیا. اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:
’’میں اپنے بعد والے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ میں آنے والے غیر مسلم شہریوں کے بارے میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ ان سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کے لیے بوقتِ ضرورت لڑا بھی جائے اور اُن پر اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔‘‘
بخاری، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبي A، 1: 469، رقم: 1328
ابن أبي شيبة، المصنف، 7: 436، رقم: 37059
بيهقي، السنن الکبریٰ، 8: 150
ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 3: 339

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلفائے راشدین و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آئمہ اربعہ اولیائے کرام تمام ہستیوں نے غیر مسلموں کے حقوق کا ہر طرح سے تحفظ یقینی بنایا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارا جوش ایمانی غیر مسلم اقلیتوں کو نقصان پہنچائے بغیر کم ہی نہیں ہوتا۔آج کے نام نہاد عاشقان رسول اپنے عشق کی انتہا بتانے کے لئے ایک اتنا شدت پسند رویہ اپناتے ہیں کہ گالم گلوچ،اور جان سے مارنے سے باز نہیں رہتے ہیں۔خدارا اسلام کی تعلیمات کو اپنے اسلام کے مطابق ہی جانئیے۔نہ کہ خود ساختہ اصولوں کو اسلام سے جوڑئیے۔

یقین جانیے نہ کسی اقلیت کا وجود ماننے سے ہمارا ایمان خطرے میں پڑے گا نہ کسی اقلیت کی مذہبی عبادت گاہ کی تعمیر سے ہم ایمان سے خارج ہوں گے کیونکہ اسلام کے وسیع دامن میں اور پاکستان کے آئین میں بالکل اتنی گنجائش موجود ہے کہ اسلام آباد میں ہندو اقلیت کے مندر کی تعمیر کو برادشت کیا جا سکے۔جی جی اسی تہتر کے آئین کی بات کر رہا ہوں جس میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا ہے۔

مہربانی فرما کر بھارت میں بھارتیوں کا مسلمانوں سے سلوک کے متعلق شکوے نہ سنائیے گا کیونکہ ہم اپنی ریاست اور اپنے شہریوں کے ذمہ دار ہیں ویسے بھی ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارا مذہب اور اور ہم سچے ہیں تو سچوں کو جھوٹوں سے کچھ الگ ہی کرنا چاہیے۔شکریہ

نوٹ:تاریخی حوالہ جات کے لئے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *