ریاست مدینہ یا ریگ زار۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

بات شروع کرتے ہیں ریاست مدینہ کی جس کا ذکر گزشتہ سوا سال سے بہت زیادہ سنائی دے رہا ہے،امن وامان سے لے کر ریاستی اداروں کی کارکردگی تک اور حکومتی زعماء کے بیانات اور پی ٹی آئی حکومت کے عملی اقدامات تک ہر جگہ ریاست مدینہ کا نام استعمال ہو رہا ہے،لیکن حقیقت کی دُنیا میں لگ تو یہ رہا ہے کہ جیسے ماضی میں جنرل ضیاالحق نے اسلام نامی چورن بیچ کر قوم کو بے وقوف بنایا اور اسلام کے نام پر قوم کو لسانی،مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرکے اپنا اُلو سیدھا کیا،اُسی طرح عمران خا ن بھی قوم کو ریاست مدینہ کا نام لے کر مدینہ کی بجائے کسی ایسے ریگ زار میں لے آئے ہیں کہ جہاں نہ روزگار نہ روٹی،نہ پینے کو پانی،نہ بیماری کی صورت میں علاج معالجہ،جناب ریاست مدینہ تو قائم کی رسالتماب ﷺ کے تربیت یافتہ شاہکار رسالت عمر فاروق ؓ نے کہ جن کے دور میں حقیقتاً زکوۃلینے والا کوئی نہیں تھا اور جنھوں نے اپنے اس فرمان کو اپنے قول وفعل سے ثابت کیا کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو روز قیامت عمر سے اس کے بارے میں پوچھ ہو گئی،جو اپنی ریاست کے مستحق اور نادار شہریوں کے لئے راتوں کو اپنی کمر پر راشن لاد کر ان تک پہنچاتے تھے۔

ریاست مدینہ وہ تھی کہ جب فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ اپنی چھڑی سے کعبے کے اندر رکھے بت گراتے ہوئے قرآن کی یہ آیت دھرا رہے تھے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا،بے شک باطل مٹے جانے کے لئے ہے،جس سرزمین پر فتح مکہ کے بعد سے تاقیامت باطل کا نام ونشان مٹا دیا گیا،اور کہا گیا کہ یہ سرزمین اب قیامت تک توحید کے نغمے گنگنائے گی،آج کے بعدیہاں بتوں کی پوجا کی بجائے اللہ کا نام لیا جائے گا،وہ تھی ریاست مدینہ،آپ کون سی ریاست مدینہ قائم کرنے چلے ہیں،مذہبی معاملات تو ایک طرف آپ سے تو ریاست مدینہ کا مساوات کا نظام قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے،اُلٹا آج صرف پنجاب میں صرف ایک سال میں صنعتوں کے بند ہونے سے دولاکھ کے قریب افراد بے روزگا ر ہو چکے ہیں۔

پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو حکومت پنجاب کی جانب سے موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب میں بڑی صنعتوں جن میں شوگر،ٹیکسٹائل،پیپر بورڈ،کیمیکلز،پٹرولیم،انجینئرنگ،لیدروربڑاور پلائی وڈ شامل ہیں کے صرف 8بڑے شعبوں کے سروے سے یہ افسوس ناک اعداد وشمار سامنے آئے ہیں کہ ان آٹھ شعبوں کے 1970کارخانوں کے محدود سروے کے مطابق بے روزگاروں کی صف میں قریباً دولاکھ افراد کامزید اضافہ ہوا ہے، اگست 2018سے اگست 2019ایک سال کے اندر مجوعی طور پر پیدا ہونے والی 4.7فیصدنئی بے روزگاری کے مقابلے میں 44شوگر ملوں میں 23.4فیصد،زرعی مشینری کے شعبے میں 30فیصد،پلائی وڈانڈسٹری میں 39فیصد،ڈیری کی صنعت میں 23.4سٹیل فرنسز میں 10فیصد،کاٹن ٹیکسٹائل میں 5.6فیصد ملازمین بے روزگار ہوئے،یہ صرف آٹھ شعبوں کے اعداد وشمار ہیں،جو منتخب کارخانوں کے مالکان کے فراہ کردہ ہیں،جبکہ کاٹیج انڈسٹری اور دیگر شعبوں کا ڈیٹا نہیں لیا گیا،اگر ملک کی تمام صنعتوں کا مکمل سروے کیا جائے تو یہ تعداد کئی گنا زیادہ نکلے گی،پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں لارج سکیل انڈسٹری کے بڑے 15شعبوں کی پیداوار گزشتہ ایک سال کے دوران 6فیصد سے زائد گری ہے۔

یہ صرف ایک جائزہ ہے اس رپورٹ کا جو مختلف اخبارات کی زینت بنا،پوری رپورٹ لکھنے کے لئے کالم کی تنگی داماں اجازت نہیں دیتی،اسی رپورٹ کے مطابق کوڑا دانوں میں پھینکے گئے کھانوں سے بچی کچھی اشیاء کھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،کئی ایسے بے روزگار نوجوانوں نے بتایا کہ وہ روزگارختم ہونے کی وجہ سے وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کوڑا دان سے بچا کچا کھانا نکال کر کھاتا ہے،بات ہورہی تھی ریاست مدینہ کی،یہ ہے عمران خان کی وہ ریاست مدینہ،جس کا چورن وہ اگست 2018سے عوام کو کھلا رہے ہیں،لیکن عملی طور پر ان کے سارے اقدامات اسکے منافی ہیں،روٹی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جونسل انسانی کے ہردور میں اور تاقیامت بلالحاظ مذہب،رنگ،نسل،زبان،صنفی امتیاز اور ریاست کے فرق کے پور ی دُنیا کے انسانوں کا مشترکہ اور اولین مسئلہ ہے،باقی تمام مسائل اس کے اردگرد گھومتے ہیں،پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ہی ہر کس وناکس اپنی زندگی کے شب وروز تیاگ دیتا ہے،قرآن کے معاشی نظام نے سب سے پہلے اسی لئے نسل انسانی کو کہا کہ ربوبیت عالمینی کا نظام اپناؤ تاکہ کوئی بھوکا نہ رہے،یہ نہیں کہا کہ کوئی مسلمان بھوکا نہ رہے بلکہ الناس یعنی انسانوں کی بھوک کی بات کی،غربت کو اللہ کا عذاب قرار دیا،اوراس سے بچنے کے لئے محنت کی عظمت پر زور دیا،لیس لا انسان الا ماسعی،او ر قل العفو اپنے اندر پورا نظام معیشت سموئے ہوئے ہیں۔۔

لیکن افسوس ریاست مدینہ کا نام استعمال کرکے اپنی دکانداری چمکانے والوں اور درباری مولویوں کے کہ جو سرکار کی نظر اس جانب آنے ہی نہیں دے رہے اور ریاست عمرانیہ میں سالانہ لاکھوں کے حساب سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں صرف سبزی کی مثال لے لیں،غریب کا من بھاتا کھانا،جو حال سبزی کی قیمت کا جارہا ہے،خطرہ ہے کل کہیں سبزی بھی ہمیں سونے چاندی کے زیورات کی طرح شوکیسوں میں ہی نہ دکھائی دینے لگے،پنجاب کے حوالے سے پلاننگ کمیشن کو بھیجی جانے والی سروے رپورٹ کے ا عداد وشمار اور ملک کی معاشی صورتحال سے خدانخواستہ کہیں سول وار نہ چھڑ جائے اس سے پہلے موجودہ حکومت کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے گھر چلے جانا چاہیے کیونکہ یہ جو حالت انھوں نے کر دی ہے تو کل شاید ہی کوئی آکر وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہو،کیونکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی نااہلی کو مستقبل میں ریورس کرنا ناممکنات میں سے ہو گا،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *