چائے چاہیے۔۔۔۔ناصر خان ناصر

چائے چاہیے
کونسی جناب؟
لپٹن عمدہ ہے
لپٹن ہی تو ہے
لپٹن لیجیے
لپٹن پیجیے۔۔۔چائے چاہیے؟
کون سی جناب؟
لپٹن عمدہ ہے!
لپٹن ہی تو ہے۔
لپٹن دیجیے
لپٹن لیجیے
لپٹن پیجیے
ہمارے زمانے میں اداکارہ روزینہ اور فلمسٹار نرالا کا یہ اشتہار بہت مشہور تھا۔
چائے انگریزوں نے برصغیر میں متعارف کروائی اور ہمیں چائے پر لگا کر خود مزے سے کافی اور شراب پینے لگا۔
چائے شراب، تمباکو، سگریٹ، بھنگ، افیم، چرس اور دیگر منشیات کی طرح نشہ آور شے ہے۔ اس کی لت لگ جائے تو محبت کی طرح چھوٹتی نہیں۔ محبوب کی جدائی کی طرح چائے نہ ملنے پر بیمار عشق کا بُرا حال ہو جاتا ہے۔ سر درد، سر کی گرانی، تھکن، سستی، اداسی اور مایوسی چھا جائے تو ترنت چائے پی کر ہشاش بشاش ہو جائیے۔

صرف برصغیر اور ایشیا ہی میں گرم چائے پینے کا رواج ہے۔ یورپ اور امریکہ میں آئس ٹی یعنی ٹھنڈی چائے زیادہ مقبول و معروف ہے۔
چاء یا چاہ اک ذومعنی لفظ ہے۔ اس کا مطلب مشروب کے ساتھ ساتھ کنواں یا محبت کا لگاؤ بھی ہو سکتا ہے۔ بقول شخصے ۔۔۔
جس چا کی ہم کو چاہ تھی
وہ چا نہ ہم کو مل سکی
اس چا کو چاہ میں ڈال دو
جس چا کی ہم کو چاہ نہیں۔

ایک اور مزاحیہ کلپ جس میں مشہور شعر کی ٹانگ توڑی گئی  ہے
آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا
زلیخا فٹافٹ گرماگرم چائے بھجوا دو۔۔۔

اور اب پنجابی کی مہمان داری ملاحظہ فرمائیں ۔
سانوں چاہ کنے چھائیں بال کے چاہ نال پوچھنڑے
چا پیسو کہ چھاہ؟
(ہمیں کنویں کے نزدیک چھاؤں میں بٹھا کر محبت سے پوچھتے ہیں کہ چائے پئیں گے یا لسی؟)

چائے چاؤ چونچلے سے پوچھی چائے یا زبردستی ‘چاء پانڑی’ مانگا جائے، دونوں سمتوں کا علم بھی چاہ زقن کی طرح دریا ڈباؤ ہے۔

چاہ غب غب کی چاہ میں چاء پیتے ‘چاہ کن را چاء درپیش’ کے سبق رٹنے والوں کو یہ محاورہ بھی ضرور یاد ہو گا کہ چاہنے کے نام سے گدھی نے بھی گھاس کھانا چھوڑ دیا تھا۔

پاک و ہند میں چائے بطور مشروب انگریزوں نے ہی متعارف کروائی  تھی۔۔۔۔اس سے قبل ہندوستانی حکما اس کا تھوڑا بہت استعمال بطور دوا کیا کرتے تھے۔ یہ سر درد یا بخار کی صورت میں بطور جوشاندہ یا قہوہ مریض کو پلائی  جاتی تھی۔

ہماری دادی اماں سنایا کرتی تھیں کہ پہلے دیہاتوں قصبوں اور شہروں میں لوگ باگ دودھ لسی اور شربت ہی بطور مشروب استعمال کرتے تھے۔ انگریزوں نے بڑے شہروں میں چائے مفت پلانے کا رواج ڈالا۔ ایک لاٹ صاحب بڑی سی کیتلی میں چائے لے کر گھر گھر جاتے اور مودب ہو کر پینے کی دعوت دی جاتی۔ چائے پھر بھی مقبول نہ ہوئی  تو اس کے ساتھ ایک ایک بسکٹ بھی مفت دیا جانے لگا۔

دیسی لوگ بھی چالاک ہی ہوتے ہیں۔ وہ چایے بسکٹ مفت لے کر بسکٹ کھا لیتے اور چائے پھینک دیتے۔۔۔۔اس وجہ سے صاحب بہادر نے یہ ترکیب نکالی کہ چائے اور بسکٹ کرسی میز لگا کر پیش کی جانے لگی اور اسے گورے حاکم کے سامنے ہی بیٹھ کر پینا پڑتا تب بسکٹ ملتا۔ یوں لوگوں نے بسکٹ چائے میں ڈبو کر کھانے کا حیلہ شروع کیا۔ آہستہ آہستہ لوگ اپنے اپنے لسی شربت بھول کر چائے کے عادی ہوتے چلے گئے۔

سرسوں کا ساگ بنانے کا قصہ ہماری دادی اماں سنایا کرتی تھیں کہ کس طرح ان کی ساس صبح سویرے تازہ سرسوں کا ساگ چن کر اس کا بڑا سا کناں لکڑیوں کے چولہے پر چڑھا دیتی تھیں۔ پھر اس میں مکھن، ہری مرچیں، تازہ شلجم، بکری کا دودھ ڈال کر نمی نمی آنچ پر سارا دن پکایا جاتا۔ ان کا قصہ خاصہ لمبا ہوتا تھا کہ کیسے ایک ہمسائی  بکری کے دودھ کا گلاس بھر لاتی اور چوراہے میں چڑھی سانجھی ہنڈیا میں انڈیل دیتی۔ دوسری تازہ شلجم توڑ کر چھیل دھو کر اس میں شامل کر دیتی۔ کوئی  اور بجھتی آگ کو پھونکیں مار کر سلگا دیتی۔ چوتھی خاتون آتے جاتے چمچ ہلا دیتی۔ نمک مرچ، ست ناجا، ہلدی مصالحے اور باہمی محبت اس ہنڈیا میں جھونکی جاتی تھی۔ چولہا دن میں صرف ایک بار ہی جلایا جاتا تھا۔ صبح کا ناشتہ تو سبھی لوگ رات کی باسی روٹی، مکھن اور لسی سے ہی کیا کرتے تھے۔ زیادہ ہوا تو جو یا مکئ کا دلیہ بنا لیا۔ دوپہر کا کھانا کسی کو یاد نہیں تھا کہ اس زمانے میں دیہی علاقوں میں بہت غربت ہوتی تھی۔ سبھی دو وقت کی روکھی سوکھی کھا کر خدا کا شکر ادا کرتے۔ دادا زمیندار تھے مگر دوسرے سارے لوگوں کی طرح ان کی ساری زمینیں بھی ہندو بنیے کے ہاں گروی پڑی تھیں۔ ساری فصلیں وہی اٹھا جاتے اور صرف اتنا ہی کسانوں کے لیے چھوڑ جاتے کہ ان کی دو وقت کی دال روٹی چلتی رہے۔

قرضے سود در سود ہوا کرتے تھے۔ سبھی کسان موت فوت یا شادی غمی پر اپنی شان دکھانے کے لیے قرضہ لے لیتے تو پھر ان کی تیسری نسل بھی یہ قرضہ نہ اتار سکتی۔

ہمارے والد صاحب قصے سنایا کرتے تھے کہ گاوں کے یہ بنیے منہ کے بے حد میٹھے ہوا کرتے تھے۔ کسان ان کے پاس جاتے تو وہ انھیں چارپائیوں پر بٹھا کر خود ان کے قدموں میں نیچے بیٹھتے۔ کسانوں کے ساتھ آئے بچوں کو مٹھائی  اور کسانوں کو دودھ شربت پیش کرتے اور یہ رقم بھی خرچے کی مد میں لکھ کر قرضے میں مزید جمع کر دی جاتی۔۔۔
پاکستان بننے کے بعد جب ہندو بنیے بھارت چلے گئے تو سندھ اور پنجاب کے کسانوں کے نصیب جاگے۔ ان کی رہن شدہ زمینیں واپس ملیں اور کچھ خوشحالی آئی

خیر بات ہو رہی تھی ساگ پکانے کی۔ شام تک ساگ کی سوندھی سوندھی مہک سارے گاؤں میں پھیل جاتی تو آس پاس کے سبھی گھرانے اپنے اپنے برتن، کٹورے جنھیں جنوبی پنجاب میں مونگر کہتے ہیں، لے آتے۔ دادی اماں سب ہمسائیوں میں یہ ساگ بانٹے کے بعد پھر اپنے بچوں کو کھانا دیتیں۔
اپنی دادی اماں کے وقتوں کا یہ تقریبا ًسو سال پرانا مونگر بطور ان کی نشانی ہمارے پاس امریکہ میں ابھی بھی موجود ہے۔

اس قسم کے کٹورے جنوبی پنجاب میں عام تھے۔ کھانے پینے کے برتن پیتل جست اور مٹی کے بنائے جاتے تھے۔ گجرات، بہاولپور اور ملتان کے مٹی کے برتن بے حد مشہور تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یو پی کے مہاجر گنگا جمنی مراد آبادی کٹورے بھی پاکستان میں لے آئے۔ ان کٹوروں میں پانی ٹھنڈا اور مزیدار لگتا تھا۔ بہاولپور کی صراحیاں اور گھڑے گرمیوں میں پانی ٹھنڈا یخ کر دیتی تھیں۔ ان پر موتیا کی کلیوں کے گجرے رکھے جاتے۔ پانی کو چھونی سے ڈھک کر رکھا جاتا تھا اور خمریوں ڈولیوں یا مٹی کے کورے خستہ پیالوں میں سوندھی سوندھی خس کی خوشبو والا یہ پانی گرمیوں میں بہت اچھا لگتا تھا۔ امیر لوگوں کے گھروں میں کھڑکیوں پر خس کی ٹٹیاں لگائی  جاتی تھیں۔ جن پر چمڑے کے مشکیزے میں پانی بھر بھر کر ماشکی چھڑکاؤ کرتے تو ائیر کنڈیشنز کا سا مزہ آ جاتا۔ اس زمانے میں ائیر کنڈیشنز اور فرج اتنے عام نہیں تھے۔ بجلی کے پنکھے بھی ہر گھر میں نہیں ہوتے تھے۔ ابھی ٹی وی نہیں آیا تھا۔ ریڈیو بھی کسی کسی کے پاس ہوتے۔ اکثر چوپالوں یا گھروں کے گول ڈرائنگ رومز میں سارا محلہ اکٹھے بیٹھ کر خبریں سنتا تھا۔ ریڈیو کو سگھڑ بی بیوں کے ہاتھ سے بنائے کروشیے کے کور سے ڈھانپ کر کارنس پر یا سائیڈ ٹیبل پر رکھا جاتا تھا۔ کارنس پر بچھے گردپوش اور میز پر بچھے کڑھائی  سے مزین میز پوش کی کروشیے سے بنی میچ کرتی جھالریں فیشن  میں تھیں۔

چائے پیش کرنے کے خاص آداب تھے۔ چائے دانی ٹی کوزی سے کور کر کے مردانے میں بھیجی جاتی۔ گرم دودھ بھی کور کیے دودھ دان بھی بھیجا جاتا۔ شکردان میں چینی علیحدہ بھجوائی  جاتی۔ پہلے ٹی کوزی کھول کر ایک چمچ چینی چائے میں ملائی  جاتی پھر حاضرین سے پوچھ کر حسب منشا چینی ڈال کر چائے اوپر انڈیلی جاتی۔۔۔اس دور کی چائے کا مزا ہی الگ تھا،جو آج بھی یاد آتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *