لال لال نہیں،پاکستان سبز ہے۔۔۔ایم اے صبور ملک

پاکستانی معاشرے کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں،ہاں مگر آج کی نسل کے لئے ایک نئی چیز ہے،کہ یہ لال لال ہے کیا،تھوڑا ماضی قریب میں جانے سے معلوم پڑتا ہے کہ کمیونزم اور سوشل ازم سے متاثر لوگوں نے تاج برطانیہ کے برصغیر پر راج کے دوران بھی کمیونسٹ پارٹی کے نام سے ایک جماعت بنا رکھی تھی،اس وقت بھی کچھ لوگوں کا کعبہ و قبلہ ماسکو تھا،اور وہ کارل مارکس کو ہی معاشیات کا امام گردانتے تھے،پاکستان کے قیام کے بعد بھی ان سے متاثر ہونے والے لوگوں نے پاکستان میں یہ نظام لانے کی اپنی سی کوشش کی،جس کے سرخیل خان عبدالغفار خان کے سرخے اور نامور اُردو شاعر فیض احمد فیض جو کہ پنڈی سازش کیس میں فوج سے نکالے گئے اور موصوف کا کعبہ وقبلہ بھی ماسکو ہی رہا،المختصر پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی سوشل ازم پر رکھی گئی اورمسلم لیگ جو کہ قیام پاکستا ن کے کچھ عرصے بعد سرکار دربار کی کنیز بن چکی تھی اور مغربی پاکستان میں بھٹو کی کرشماتی شخصیت،پاک چین دوستی،اورسوشل ازم کے دلفریب نعروں کی بدولت پہلی بار پاکستان کے گلی کوچوں میں ایشیا سرخ ہے کے نعرے گونجے،ایشیا تو سرخ نہ ہو سکا البتہ ڈھاکہ سرخ ہو کر پاکستان کو دولخت کرگیا۔

بچے کھچے پاکستان میں ایک بار پھر عوامی راج اور سوشل ازم کے نام پر ملک کے بڑے صنعتی خاندانوں پر نیشنلائز یشن کی ایسی آر ی چلی کہ  ایشیا کی بجائے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سرخ ہو کر مزدور یونین کے نام پر غنڈہ بردار لوگوں کے ہاتھوں کی ر کھیل بن کر رہ گئی،لیکن ایشیا سرخ نہ ہو سکا،پھرآئے ایک اسلامی مجاہد جنہوں نے ایشیا سرخ ہے کے  نعرے کو اسلام دشمن قرار دے کر قوم کو زبردستی نماز روزے پر ایسا لگا یا کہ مذہبی طبقہ جو کہ قیا م پاکستان کے بعد سے تیس سال تک نانِ شبینہ تک کامحتاج تھا اس کی ایسی لاٹری نکلی کہ آج تک پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں ہے،لیکن اس کڑاہی کی قیمت بھی قوم نے بہت ادا کی،لیکن ایشیا سرخ نہ ہوا نہ اسلامی ۔۔

اور پھر 90کی دہائی اور مشرف بہ  اسلام اور اب ریاست مدینہ کا چورن ناکام ہونے کے بعد لال لال لہرائے گا تب ہوش ٹھکانے آئے گا،بظاہر تو یہ اکٹھ طلباء یونینز کی بحالی کے لئے ہوا،لیکن اس میں جس طرح کے نعرے لگائے گئے اور جو انسانیت سے گری ہوئی  حرکتیں  ہوئیں ، اس کا یہ لوگ کیا جواز دیں گے کہ جب تین عورتین ایک مرد کو کتے کی  طرح آگے باندھ کر اسکی تضحیک کررہی تھیں،حاصل معلومات کے مطابق اس ریلی کے شرکا کی اکثریت لاہور کی بجائے دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے طلباء وطالبات پر مشتمل تھی،جو بظاہر تو ملک میں عشروں سے طلباء یونینز پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے لیکن سوال اس بات کا ہے کہ طلباء یونینز کی بحالی کوئی آج کا مطالبہ نہیں،لیکن اس کے لئے لال تحریک کا قیام،اس کا پلیٹ فارم استعمال کرنا،اس میں مذہب کو فرد کا ذاتی مسئلہ قرار دینا اور ایشیا سرخ ہے کا نعرہ جو جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی دم توڑ چکا تھا،دم توڑنے کی بات اس لئے کیونکہ گیارہ سالہ دور ضیائی کے خاتمے کے بعد جب پہلی بار محترمہ بے نظیر بھٹووزیر اعظم بنیں تو پیپلز پارٹی کے بانیوں کا نعرہ ایشیا سرخ ہے کی گونج کہیں سنائی نہ دی،اور آہستہ آہستہ پیپلز پارٹی جو بائیں بازو کی جماعت تھی مکمل طور پر فیوڈلز کے گھر کی لونڈی بن گئی۔

رہی مسلم لیگ(ن) جس کے مردہ گھوڑے میں نواز شریف نے جان ڈالی اور اسے سرکار دربار کی کنیز کی بجائے ایک عوامی جماعت بنایا تو وہ ہمیشہ سے دائیں بازو کی پروردہ رہی ہے،لہذا اب جبکہ ایشیا سرخ ہے کے پہلی بار لگے نعروں کو پانچ سے زائد عشرے گز ر چکے ہیں،اس کا احیاء کیا معنی رکھتا ہے۔یہ کون لوگ ہیں؟ یہ کون سا مافیا ہے؟ جس نے ایک ایسی ریاست جس کی بنیاد کلمہ طیبہ اور دوقومی نظریے کی بنیاد پر رکھی گئی،جس کے لئے بانی پاکستان بنے قرآن مجید کے قوانین کو آئین قرار دیا،جو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک نظریاتی مملکت کے طور پر قائم ہوئی،جہاں مذہب کی بجائے خالص دین کا نظام قائم کرنے کے لئے قربانیاں دی گئیں،وہ الگ بات ہے کہ ہم اپنی اس منزل سے کوسوں دور ہیں،لیکن اسکا یہ بھی مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں اپنے مذموم ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لئے یہ لوگ طلباء وطالبات کو استعمال کریں،اور اس مملکت خدا داد کی نظریاتی سرحدوں کے پاسبان چپ سادھے تماشا دیکھتے رہیں۔

نہیں جناب نہ تو ایشیا سرخ ہے اور نہ ہی پاکستان میں لال لال لہرا سکتا ہے،یہ ملک کلمہ توحید کی بنیاد پر قائم ہوا تھا یہاں مذہب فرد کا ذاتی مسئلہ تو ہوسکتاہے لیکن دین ایک اجتماعی انسانی معاشرے اور نظام کا نام ہے جہاں قرآن مجید کی روشنی میں قوانین کا عملی نفاذ ہی ہماری اورقیامت تک آنے والی نسلوں کی بقا کاضامن ہے،پاکستان کے قیام کے بعد سے آج تک پاکستان کو جب بھی کسی فرد یا جماعت نے سرخ بنانے کی اپنی سی کوشش کی،ناکامی اس کا مقدر  ٹھہری ،کیونکہ پاکستان کا تو ایک ہی رنگ ہے،جو کالی کملی والے کا رنگ ہے،سبز اور جو ہماری عظمت و رفعت اور شان کی علامت جھنڈے کا رنگ ہے،لہذا یہاں لال لال لہرانے کی باتیں قوم  اور خاص طور پر ہماری نوجوان نسل کو نظریاتی طور پر تقسیم کرنے کی سازش ہے جس کا ادارک ہمیں کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *