کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ جائز،مگر۔۔۔عائشہ تنویر

چند روز پہلے ایک نوٹیفیکیشن دیکھا کہ سندھ میں جامعات میں بی ایس ون سے بی ایس بائیس تک کی تقرری وزیراعلیٰ کے حکم کے بناء نہیں ہو گی تو یہی خیال آیا کہ سکول لیول پر تعلیم کی تباہی کے بعد اب جامعات کا بھی حشر ہونے والا ہے ۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اب وہاں بھی ” بھرتیاں ” ہی ہوں گی، جن میں کراچی والوں کا حصہ نہیں ہو گا۔
سیاست سے نابلد ہونے کے باوجود پہلا خیال یہی آیا کہ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بالکل درست ہے ۔یہ بے جا ضد نہیں بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے ۔

پورے پاکستان کی طرح صوبہ سندھ میں بھی مختلف قومیتوں کے لوگ ( مختلف زبانیں بولنے والے) آباد ہیں ۔ اندرون سندھ میں سندھیوں کے علاوہ مہاجر ( اردو  سپیکنگ) ، پنجابی اور دیگر لوگ بآسانی نظر آتے ہیں ، اس کے باوجود وہاں ایک بڑی  تعداد  سندھی بولنے والوں کی ہے ۔
(اہم بات تو یہ بھی ہے کہ ہم پاکستانی ہونے کی واحد شناخت کے ساتھ مختلف شناخت استعمال کرتے ہیں مگر اس کی وجوہات الگ موضوع ہیں ۔ )
پاکستان پیپلز پارٹی اسی سندھ سے اٹھ کر ،ان ہی لوگوں کے ووٹ سے پورے ملک کی جماعت بنی ۔ نیشنل لیول پر پیپلز پارٹی کی حکومت نہ بھی ہو، تب بھی ایک زمانے سے صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کے پاس ہوتی ہے ۔اس کا ایک بڑا ووٹ بینک سندھ میں موجود ہے ۔حکومت میں ہونے کے باوجود سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں کبھی بھی پیپلز پارٹی فیورٹ نہیں رہی ۔

پیپلز پارٹی نے کراچی کی عوام کو کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ ہمیشہ اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے کراچی کا حق مارا گیا ۔نوکریوں میں کوٹہ  سسٹم لا کر جس طرح کراچی کی عوام کا حق مارا گیا، وہ سب جانتے ہیں۔اندرون سندھ پیپلز پارٹی نے اور کراچی میں اپنے زمانے میں ایم کیو ایم نے نظام ِ تعلیم میں اپنی اپنی جماعت کے کارکنان کی جو بھرتیاں کیں، اس نے پوری نسل  تباہ کر دی۔( ستم تو یہ کہ سوائے نوکریاں بانٹنے کے، پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا ۔ سکھر جیسا تاریخی شہر جو پیپلز پارٹی کا گڑھ بھی ہے، انفراسٹرکچر کے لحاظ سے مسلسل تنزلی کا شکار ہے ۔ )

ہمارا پیارا کراچی، بڑی آبادی والا گنجان آباد شہر ہے ۔ جہاں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں، بے شمار لوگ ایسے ہیں، جو کراچی میں زندگی بسر کر دیتے ہیں، مگر یہاں رہائش کے باوجود ان کا مستقل پتہ دوسرے صوبوں کا ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے ان کے حصے کے وسائل کراچی کو نہیں ملتے  ۔

ہر طرف سے مسلسل حق تلفی کے بعد کراچی کو سندھ سے الگ کر کے صوبہ بنانے کا نعرہ لگانا انوکھا یا نیا کام نہیں مگر غور طلب بات یہ ہے کہ یہ نعرہ تحریک کیوں نہ بن سکا؟

کراچی میں پورے پاکستان کے لوگ آباد ہیں ۔ کسی کو اکثریت یا اقلیت کہنا ممکن نہیں ، کراچی وہ شہر ہے، جہاں رابطے کی زبان کہنے کو نہیں بلکہ عملی طور پر اردو ہے ۔ہم جیسے متعدد لوگ ہیں، جو خود بلکہ ان کے والدین تک اسی شہر میں پیدا ہوئے، ان کے ڈومیسائل پر کراچی لکھا ہوتا ہے ۔وہ کراچی کے تمام دکھوں کے ساتھی ہیں ، جو گھر سے باہر اردو بولتے ہیں مگر ان کے گھر میں مادری زبان کے طور پر پنجابی، پشتو، سرائیکی، یا بلوچی وغیرہ بولی جاتی ہے ۔ اسی مادری زبان کی وجہ سے کراچی کو ان کا شہر تسلیم نہیں کیا جاتا ۔کراچی میں اردو بولی جاتی ہے مگر کراچی اردو  سپیکنگ ( مہاجروں) لوگوں کا ہی شہر نہیں ۔۔
یہاں سب امن، شانتی سے رہتے تھے ۔آپس میں رشتے داریاں کرتے تھے ۔ کراچی کا اپنا ایک کلچر ہے، مزاج ہے جو کراچی والوں کو جوڑتا ہے ۔
جب ایم کیو ایم بنی تو اسی مادری زبان کی وجہ سے سگے بہن بھائیوں کی طرح رہنے والی عوام میں جو فسادات برپا ہوئے، وہ سب کو یاد ہیں۔ قتل و غارت گری تو ایک طرف ،دلوں میں کھڑی ہونے والی دیوار کی وجہ سے بےشمار گھر بھی ٹوٹے۔
ایم کیو ایم، مقامی سطح پر “مہاجر قومی موومنٹ” کے نام سے شروع ہو کر خود تو ملکی سیاست میں داخل ہونے کے لیے ” متحدہ قومی موومنٹ ” بن گئی مگر متحد رہنے والے کراچی والوں میں تفرقہ ڈلوا گئی

جب بھی کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کا موضوع اٹھتا ہے، اسے سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگتی ہیں ۔یہ خوف بیجا نہیں کہ کراچی الگ صوبہ بنا تو ایم کیو ایم کے بقایا جات اس پر قابض ہونے کے لیے دیگر لوگوں کی زندگی مشکل کر دیں گے۔اردو بولنے والوں کو شاید فائدہ مل جائے لیکن تقسیم ہند کے وقت سے یہاں آباد پنجابی، پٹھان، بلوچی وغیرہ ایک نئی آفت کا شکار ہو جائیں گے۔

ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ جماعت تھی ، نہ ہی اردو بولنے والے کراچی کے نمائندہ لوگ ہیں ۔الگ صوبہ بننا ضروری ہے مگر الگ صوبے کی تحریک چلانے سے پہلے کراچی میں ان تحفظات پر بات ہونی ضروری ہے ۔کراچی ، کراچی والوں کا ہے۔ کراچی ان کا ہے جو کراچی کو own ہی نہیں کرتے بلکہ کراچی سے پیار بھی کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *