مافیا کریسی، رخصتی تیارہے۔۔ایم اے صبور ملک

نہ ہو گمان غالب تو دم نکل جائے آدمی کا۔۔
پاکستان کے ہر حکمران کو نہ جانے یہ گما ن کیوں ہوجاتا ہے کہ وہ حرف آخر ہے،اور اُس کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں،خدا نخواستہ اگر اُ س کرسی کو ہلایا گیااور اُسے تخت سے ہٹادیا گیا تو قیامت ٹوٹ پڑ ے گی،ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی ایک بھی حکمران اقتدار کی راہدیوں سے باعز ت اور ازخود رخصت نہیں ہوا،ہمیشہ بدنامی اور بے بسی مقدر ٹھہرا،لیکن پھر بھی ہرنیا آنے والا اپنے پیشرؤں سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں،ماضی کے حکمرانوں کی ہر وہ غلطی اور کوتاہی دہرانا ہمارے حکمرا ن طبقے کی ریت بن چکی ہے،پی ٹی آئی کے عمران خان سے پاکستانی عوام خصوصاًنوجوان طبقے نے بہت سی اُمیدیں وابستہ کرلی تھیں،لیکن سیانوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہونا کچھ نہیں کیونکہ کرکٹ ٹیم چلانا اور ملک چلانا دونوں میں ز مین آسمان کا فرق ہے،اور ابھی محض دوسال کے عرصے میں ہی جانے کی باتیں شروع ہو گئیں،نوبت اس حد تک آن پہنچی ہے کہ وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ دوبارہ لینے کا کہا جارہا ہے،کچھ تو ہے جو یہ سب ہو رہا ہے،کہ وزیر اعظم کو ایک دن یہ کہنا پڑا کہ میرے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں اور دوسرے روز بیان دینا پڑا کہ مائنس عمران کے بعد بھی آنا والا اپوزیشن کو نہیں چھوڑے گا،یعنی نقارہ بج چکا،ایسے بیانات ماضی میں بھی اُنہی حکمرانوں نے دئیے جو ان بیانات کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی گھر بجھوا دئیے گئے،خواہ وہ بھٹو ہوں یا نواز شریف،میر ظفر اللہ خان جمالی ہوں یا کوئی اور،ہرایک کے ساتھ یہی سانحہ گزرا،شنید تھی کہ عمران خان جو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے ہیں،ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے کچھ منفرد کریں گے،لیکن احتساب کا نعرہ لگانے والا کپتان مافیا کے آگے ڈھیر ہو گیا،المیہ یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب خود کو ابھی تک کنٹینر پر کھڑا ہوا سمجھتے ہیں،وہی انداز بیان،وہی لب ولہجہ،وہی سلطان راہی جیسی فلمی بڑھکیں،اپنے سیاسی حریفوں کو للکارنے کا شوق،اسمبلی میں ہوں یا اسمبلی سے باہر ملک میں ہوں یا بیرون ملک ان کی ہر تقریر ہر بیان نواز شریف،زرداری اور اپوزیشن سے شروع ہو کر نہیں چھوڑوں گا پر ختم ہو جاتا ہے،قوم کو ابھی بھی نہ گھبرانے کے مشورے اور خواب دکھانا جاری ہے،ظلم کی انتہا ہے کہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے،ابھی تک پی ٹی آئی حکومت ٹھوس معاشی پالیسی تشکیل نہیں دے سکی،ایک دن کچھ بیان آتا ہے تو دوسرے دن اُس کے مخالف بیان جار ی کردیا جاتا ہے،جو کام ملک میں احتساب کرنے کے اداروں کا ہے،عدالتوں کا ہے،وہ بھی وزیر اعظم نے سنبھالا ہوا ہے،کورونا وائر س جیسی جاں لیوا وبا جو کہ اس وقت اپنے عروج پر ہے،اس پر بھی وزیر اعظم اپوزیشن سے ہاتھ ملانے یا ساتھ مل کر چلنے کوتیار نہیں،اپنے حالیہ دورہ کراچی میں بھی اُنھوں نے یہ روایت برقرار رکھی،اور وزیر اعلی سند ھ سے فاصلہ قائم رکھا،اب موصوف کے ایک وزیر باتدبیر نے جو پی آئی اے کے پائلٹس کے معاملے میں کیا،یقینا اس میں وزیر ہوا بازی کو وزیر اعظم کی پوری تائید حا صل ہے،ایک پائلٹ تیار کرنے میں ملک و قوم کا کتنا خرچ آتا ہے اس کے بارے میں پاکستان ایئر فورس سے اگر سرور خان معلومات لے لیتے تو جو انھوں نے کیا ہے وہ کرنے سے پہلے سو بار سوچتے،سوال اس بات کا ہے پی آئی اے کوئی دودن میں تو وجود میں نہیں آگئی،پاکستان کے پائلٹس دُنیا کے چند ماہر ترین پائلٹس میں شمار کئے جاتے ہیں،جن کی اکثریت پاک فضائیہ سے ریٹائر ڈہونے والے پائلٹس کی ہے،دوسرے لفظوں میں ہم اپنی ہی مایہ ناز ایئر فورس کے پائلٹس کی مہارت پر شک کررہے ہیں،جبکہ سول ایوی ایشین میں بھی زیادہ تر ایئرفورس کے ریٹائرڈ آفیسرز موجودہیں جو پائلٹ بھرتی کرنے کے عمل میں نہ صرف شریک ہوتے ہیں بلکہ پائلٹ کی مہارت اور میڈیکل ٹسٹ،فٹنس بھی چیک کرتے ہیں،شاید وزیر موصوف نے پی آئی اے کے جہاز کو بھی چنگ چی رکشہ یا جی ٹی ایس کی بس سمجھ لیا ہے،کہ ڈرائیور کی فٹنس کا کوئی نام ونشان ہی نہیں ہوتا،رہے وزیر اعظم تو اپنی ہٹ دھرم اور ضدی طبعیت نیز کانوں کے کچے ہونے کے باعث وزراء اور بیورکریسی اُن کو جدھر لگاتی ہے وہ چل پڑتے ہیں یہ نہیں سوچا جاتا ہے کہ اس عمل سے فائدہ ہو گا یا نقصان،نیک نامی ہو گی یا دُنیا بھر میں جگ ہنسائی،کوئی وزیر کورونا وائرس کے 19پوائنٹ بیان کررہی ہے تو کوئی ٹڈی دل کھانے کو کورونا کا علاج بتا رہا ہے،رہے وزیر اعظم خود تو ان کی بونگیوں کا شمار ہی نہیں،کبھی جاپان اور جرمنی کا بارڈر ملا دیتے ہیں تو کبھی سال میں بارہ موسم ایجاد کردیتے ہیں،مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے،ساری دنیا میں تیل رکھنے کی جگہ نہیں اور ہمارے ہاں محض 26دن میں گھٹنے ٹیک دئیے گئے،اس مافیا کے سامنے جس کو نہ چھوڑنے کے بیانات جاری ہوتے ہیں،اب تو یہی لگتا ہے کہ ہم لوگ مافیا کو نہیں چھوڑو ں گا کا غلط مطلب لیتے ہیں،دراصل وزیر اعظم کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی کو نہیں چھوڑو ں گا سب کو نوازوں گا،26دن جو پٹرول پورے پاکستان میں نایاب تھا وہ یکدم 26روپے مہنگا کرنے پر کہاں سے نکل آیا،اب کیوں نہیں پٹرول پمپس کے سامنے قطار یں لگتیں؟کیا پٹرول پمپس کی لائنوں کا رابطہ براہ راست عربوں کے تیل کے کنوؤں سے ہو گیا ہے جو پٹرول کی نہریں بہہ نکلی ہیں؟ جناب وزیر اعظم اس سوال کا جواب کسی اور نے نہیں بلکہ آپ ہی نے دینا ہے،کیونکہ آپ اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہیں،یہ جو تیل مافیا،چینی مافیا،آٹا مافیا اور دواؤں کے مہنگا ہونے پر کمیشن کھایا گیا،اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ آپ ہی کے اردگرد موجود لوگ ہیں،جن کی کرپشن آپ کو نظر نہیں آرہی،جہانگیر ترین کو علاج کے بہانے باہر بجھوا دیا گیا،عامر کیانی کے خلاف ابھی تک کیا کارروائی ہوئی،غریب آدمی کو جان بچانے والی دوائیں مہنگی ملنے کا ذمہ دار کون ہے؟آٹے کی قیمت کیوں بڑھی؟اگر آپ فرشتے ہیں بقول آپ کے اپنے تو مالم جبہ،بی آرٹی اور فارن فنڈنگ کیس میں سٹے آرڈر کے پیچھے کیوں چھپے بیٹھے ہیں،مارچ 2020سے لے کر آج تک ملک و بیرون ملک سے ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد کہاں گئی،یہ جو حالیہ پٹرول کی قیمت 26روپے بڑھاکر تیل مافیا نے ذخیرہ شدہ تیل پر راتوں رات اربوں کما لئے،وہ کس کی جیب میں گئے،کون ذمہ دار ہے اسکا،اب شنید ہے کہ پٹرول پر لیوی دس روپے کم کئے جارہے ہیں،یعنی پہلے سستا کرکے ذخیرہ کرنے کی راہ ہموار کی،پھر یکدم یکم تاریخ آنے سے پہلے ہی قیمت میں ملکی تاریخ کا ریکارڈ اضافہ کرکے مافیا کو کمانے کا موقع دیا اور اب گھونگھوں سے مٹی جھاڑنے کے مصداق دس روپے کمی کی شنید،جناب یہ حکومت کرنے کا انداز نہیں،بلکہ یہ تو مافیا کریسی ہوئی،جس چیز کا بھی آپ نوٹس لیتے ہیں وہ مہنگی ہوجاتی ہے،اب تو لوگ دعا کرتے ہیں کہ آپ نوٹس لینا چھوڑ دیں،کم ازکم قیمت تو نہیں بڑھے گی،جناب آپ نے اپنی حرکتوں سے اپنے گھر جانے کا پورا پورا سامان تیار کرلیا ہے،جی کا جانا ٹھہر گیا ہے،عمران خان صاحب کو یہ گمان ہو چکا ہے کہ وہ حرف آخر ہیں اور ان کے علاوہ کوئی چوائس نہیں،اور یہ فوبیا جس کو بھی ہوا وہ چند دن بعد اسلام آباد کی بجائے یا توجیل میں موجود پایا گیا یا پھر اپنے گھر میں اکیلا بیٹھا یاد ماضی کے قصے خود کو سناتا ہے،سبق سیکھنے کو آپ بھی تیار نہیں،لہذا آپ کی رخصتی تیار ہو گئی،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *