ناصر خان ناصر کی تحاریر

پاکستان کی تہذیب، ثقافت اور کلچر کیا ہیں؟/ناصر خان ناصر

ہماری اصل تہذیب تو دراصل موہنجوداڑو ہی سے شروع ہوتی ہے مگر ہمیں اپنے آباو اجداد کے غیر مسلم یا ہندو ہونے پر اتنی شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم انھیں اپنانے سے انکاری ہیں بلکہ سرے سے انھیں اپنا آباو←  مزید پڑھیے

کہانی کا دُکھ(2،آخری حصّہ)-ناصر خان ناصر

کہانی لکھنے والی نے کئ بار ان لفظوں کو پکارنا چاہا جو امید دلاسے اور تسلی کے قبیلے سے تعلق رکھتے تهے اور اب اپنے معنی بدل کر یاس، نا امیدی اور حسرت کے چوغے پہن رہے تھے۔ ان لفظوں←  مزید پڑھیے

کہانی کا دُکھ(1)-ناصر خان ناصر

ایک کہانی وہ تھی جسے وہ لکھتی تھی اور ایک کہانی وہ تھی جس کا لکھا وہ بھوگتی تھی، دونوں کہانیاں بالکل مختلف تھیں مگر گڈ مڈ ہو ہو جاتی تھیں۔ پھر جو وہ لکھنا چاہتی تھی، اس سے لکھا←  مزید پڑھیے

مہا بھارت اور قصص الانبیاء/ناصر خان ناصر

آپ نے مہا بھارت کے قصّے تو ضرور پڑھے یا سنے ہوں گے۔ کم از کم ٹی وی پر ان کی اقساط دیکھ کر اپنے سر ضرور دھنے ہوں گے۔ کیا غضب کی سیریز بنائی گئی تھی کہ آج بھی←  مزید پڑھیے

اوّلین نثر نگار بھٹیارنیں/ناصر خان ناصر

ایک زمانہ تھا مشاعروں کی ہی طرح داستان اور قصہ گو چوپالوں میں بیٹھ کر انتہائی  لچھے دار قصے داستانیں یا کہانیاں دلفریب باتوں کے پھندنے لگا لگا کر سناتے تھے۔ دلی کے مرزا مچھو بیگ کی شہرت صدیوں بعد←  مزید پڑھیے

نیو اورلینز- لوزیانہ – امریکہ/ناصر خان ناصر

اپنے تعارف لکھنے کی فرمائش پر گنگ ہیں۔۔ کیا لکھیں؟ اوشدھاہ پر، جہاں سدھ مکر دھوج خریدنے کے لیے بھیڑ لگی تھی، ہم بھی حرفوں کی حرفت کا بیوپار کرنے نکل پڑے ہیں،مگر کیسہ بھی کھوپڑی کی طرح خالی۔۔ پلپلا←  مزید پڑھیے

روم(1)-ناصر خان ناصر

روم کے اس ہوٹل کے بروشئر پر ایک بے حد خوبصورت حسینہ کی تصویر تھی جو اپنے جملہ آلات خود کش ‘نکتہ چیں اے غم دل بات ‘چھپائے’ نہ بنے’ کی عملی تصویر بنی تھی۔ جس طرح پرانی کہانیوں کا←  مزید پڑھیے

نیا سال اور امریکن کلچر/ناصر خان ناصر

ہر معاشرے،تہذیب اور ملک کے اپنے اپنےشگن، اپنی اپنی رسومات اور اپنی اپنی توہمات ہوتی ہیں۔ نئے سال کے ضمن میں امریکن قوم کس وہم کا شکار ہے، شاید پاکستانی دوستوں کے لیے یہ امر دلچسب ثابت ہو۔ اب تو←  مزید پڑھیے

بنکاک میں آخری شب/ناصر خان ناصر

آج دوپہر دو بجے ڈرائیور نے ہمیں اپنے ہوٹل Novatel سے پک کیا اور ائیر پورٹ چھوڑنے کے لیے روانہ ہوا۔ کئی  جگہ پر بے پناہ رش کی بدولت ٹریفک چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھی۔ ڈرائیور صاحب نے←  مزید پڑھیے

چلتے ہو توپھوکٹ کو چلیے/ناصر خان ناصر

تھائی  لینڈ میں ایک آنکھ موند کر بھینچو، دوسری کھولو تو سامنے نت نیا بدھا ملتا ہے۔ سونے کا، چاندی کا اور پلاٹینم جوبلی والا بھی۔ پیتل تانبے کا تو اینٹ اٹھاو تو نیچے سے مل جاتا ہے۔ پتھر کے←  مزید پڑھیے

ناستک/ناصر خان ناصر

ابھی ابھی میں نے یوں اپنے گیروے کپڑے اتار پھینکے ہیں جیسے مور اپنے بھاری پَر جھاڑ کر اپنے بوجھ سے مکتی حاصل کر لیتا ہے تو شانتی سے جھارنے جھنکارنے لگتا ہے۔ اشٹا نگک مارگ پر چلتے چلتے اس←  مزید پڑھیے

بنکاک کی پہلی رات/ناصر خان ناصر

حاضرین بہ تمکین، قدردانوں، مہربانوں و مہر بانو نامہربانو! ہم سچ کہتے ہیں کہ جو بھی کہیں گے خدا اور اپنی بیگم کو حاضر ناظر جان کر سچ مچ کا درست، ٹھیک، صحیح اور بالکل ٹھیک ٹھاک کہیں گے، ہاں←  مزید پڑھیے

ہنسے تو پھنسے/ناصر خان ناصر

ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے اداسی، غم اور دکھ کو خوشیوں پر ہمیشہ ترجیح دیتا چلا آیا ہے۔ ہماری شاعری نوے فیصد افسردگی، اداسی اور رنج و الم سے مزیں ہے۔ کہیں فکر معاش ہے تو کہیں فکر فردا۔ رہی سہی←  مزید پڑھیے

چل وے بُلھیا/ناصر خان ناصر

خانہ کعبہ کی سنگی چار دیواریوں سے پرے اونچے میناروں کے سائے تلے چمکتے پھسلتے مرمریں سنگ مرمر پر گدڑی بچھائے وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ لمبی داڑھی، مہندی سے رنگی گھنگریالی دراز زلفیں، آنکھوں میں سرمے کے لمبے دنبالے،←  مزید پڑھیے

سمندر/ناصر خان ناصر

اپنے مدوجزر سے ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہو یا موجوں کے سکوت سے چمکتا ساکن ساگر، ان کے خوبصورت دلفریب مناظر اور چمکیلی پیاسی ریت لیے بیکراں ساحل ہمیشہ میری بے کل آتما کو شانت کر دیتے ہیں۔ میری بے←  مزید پڑھیے

سب سے آخری مسکراہٹ۔۔ناصر خان ناصر

تپتی دوپہر کی کڑی دھوپ میں پسینے سے شرابور ایک بڑھیا پچھلی سیڑھیوں کے پاس بیچارگی کی تصویر بنی ہوئی کھڑی تھی اور ملتمس نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ کئی  بار اس نے اپنی کھوئی  ہوئی  طاقت جمع←  مزید پڑھیے

رحم کی اپیل۔۔ناصر خان ناصر

میں ملزم اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں۔۔۔ اور ہاتھ جوڑ کر صدق دل سے معافی کا طالب بھی ہوں۔ میرا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ میں یکدم بوڑھا پھونس اور ناتواں ہو گیا ہوں۔ جرمِ ضعیفی←  مزید پڑھیے

پرانی فلمیں ،پُرانے اداکار(2،آخری حصّہ)۔۔ناصر خان ناصر

فلم سیتا مریم مارگریٹ میں فلمسٹار رانی بے حد خوبصورت ملبوسات اور ہیر سٹائلز کے ساتھ آئیں۔ رانی بے حد ورسٹائل اداکارہ تھیں۔ انھوں نے کئی فلموں میں بڑی کامیابی سے کردار کی ضرورت کے مطابق لہجے تبدیل کئے۔ ثریا←  مزید پڑھیے

پرانی فلمیں ،پُرانے اداکار(1)۔۔ناصر خان ناصر

پرانی فلمیں، پرانے اداکار،اداکارائیں، ہمیں بهی ان کا ہوکا ہے، پوتهیاں بہ نوک زبان۔  اسی فیس بک پہ جب جب کوئی  صاحب کسی پرانی فلم یا گیت کا ذکر چهڑتے ہیں، ہمارے ہاتهوں میں کهجلی ہونے لگتی ہے۔ ہاں صاحب!←  مزید پڑھیے

ماں ۔۔ناصر خان ناصر

وہ سیالکوٹ کا کوئی  مضافاتی گاؤں تھا جہاں ایک کچے کرائے کے مکان میں ہم رہتے تھے۔ ابا فوج کے معمولی ملازم تھے، ان کی یونٹ بیس بلوچ کا تبادلہ آزاد کشمیر ہو گیا۔ وہاں انھیں فیملی کوراٹر کی آسائش←  مزید پڑھیے