ماں ۔۔ناصر خان ناصر

وہ سیالکوٹ کا کوئی  مضافاتی گاؤں تھا جہاں ایک کچے کرائے کے مکان میں ہم رہتے تھے۔ ابا فوج کے معمولی ملازم تھے، ان کی یونٹ بیس بلوچ کا تبادلہ آزاد کشمیر ہو گیا۔ وہاں انھیں فیملی کوراٹر کی آسائش عطا نہیں کی گئی  تھی لہذا ہم نالہ پلکھو کے پاس کرائے کے ایک کچے مکان میں رہنے لگے۔

سیالکوٹ چھاؤنی کا سرکاری کوارٹر ہمیں چھوڑنا پڑا۔ وہ دو چھوٹے چھوٹےکمروں کا ایک گھر تھا۔ مختصر سا برآمدہ، ننھا منا سا صحن، دروازے پر بوری کا پردہ لٹکتا رہتا، جس کے سوراخوں سے جھانک جھانک کر باہر درخت سے بندھی بکری کو تکتے رہنا ہمارا مشغلہِ خاص تھا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

چار برس کے ہوئے تو ہمیں آر سی مشن سکول مونا گرجا بھیجا گیا۔ یہاں تعلیم مفت تھی اور بچوں کو ہر کرسمس پر سوکھے دودھ کی تھیلیاں، پرانے گرم کپڑے مفت دیے جاتے تھے۔ اس برس ہمارے حصے میں ایک فیروزی رنگ کا زنانہ کوٹ پتلون آیا جو نہ صرف سائز میں ہم سے بڑا تھا بلکہ اس کے گلے پر لگی فر دیکھ کر ہمیں اس سے عجیب سی سخت نفرت ہو گئی  تھی۔

ہماری سگھڑ والدہ نے اسے کاٹ پیٹ کر ہمارے ناپ کا بنا تو دیا مگر شاید سردی سے بچانے کے لیے وہ گلے میں لگی نقلی فر اسی طرح رہنے دی گئی ۔ یہ ہمارا سردیوں سے بچا ؤ کا اکلوتا لباس نہیں تھا۔ امی جان نے ایک سویٹر بھی خود اپنے ہاتھوں سے بُن دیا تھا  اور ایک گھیر دار ٹوپی بھی جو دونوں اطراف لگے فیتوں کے ساتھ سَر سے باندھ دی جاتی تھی۔

اس مضحکہ خیز ٹوپی اور فیروزی فر والے کوٹ کی بدولت سکول کے شرارتی بچوں نے ہمارا نام اور چھیڑ “گیدڑ” رکھ چھوڑی تھی ۔ جہاں سے گزرتے، وہیں بچے اسی نام سے چھیڑنے لگتے۔۔ بے بسی سے ہمارے آنسو منجمد ہو جاتے۔

وہ کم بخت کوٹ بھی اک عذاب بن کر کئی  برس تک ہمارے ساتھ چلا۔ ہم سیالکوٹ سے بہاولپور آئے تو یہاں بھی اس زنانہ کوٹ کو پہن کر ہر جگہ طنز و مذاق کا نشانہ بنتے رہے۔ شاید تائید خداوندی بھی تھی کہ مصلحتاً  اسے جان بوجھ کر ہمارے سائز سے کچھ بڑا ہی رکھا گیا تھا تاکہ کئی  برس تک گزارہ چلتا رہے۔ جب تک ہمارے ہاتھ اور بازو اس سے باہر نکل نہیں آئے، وہ منحوس کوٹ کمبل کی طرح ہم سے چپکا ہی رہا اور اس کی بدولت بہت سے وہ مضحکہ خیز نام بھی ۔۔ جو بطور پھبتی کسے جاتے رہے تھے، ہمیشہ کے لیے دل سے چسپاں رہ گئے۔

ایک بار ہمیں وہ کوٹ پہن کر روتا دیکھ کر ماں بھی سچ مچ رو پڑی تھی تو اسے یوں روتا دیکھ کر ہم فوراً  چپ ہو گئے تھے۔
کئی  برس بعد اس کوٹ سے خلاصی پا کر جو اک سکھ چین کی ٹھنڈی آہ دل کی گہرائیوں سے برآمد ہوئی  تھی، وہ ابھی تک ہمارے لاشعور میں کہیں دبکی پڑی رہ گئی  ہے۔ بچپن کی اس تلخ یاد نے جو زہر ہم میں گھولا تھا وہی شاید اب ایک امرت بن گیا ہے۔

والد صاحب کی ساری تنخواہ سیدھی لاہور بھجوا دی جاتی، جہاں ہمارے بڑے بھائی  صاحب میڈیکل کالج میں پڑھ رہے تھے۔ گھر کا خرچ سگھڑ والدہ دن رات اپنی سلائی  کی مشین چلا چلا کر پورا کرتیں۔ ہر روز خوش بختی کے لیے کام شروع کرنے سے قبل ہمیں پاس بٹھا کر ہمارا “پوکھا” لیتیں۔ سلائی  کڑھائی  کے علاوہ بچوں بچیوں کو فی سبیل اللہ قرآن شریف پڑھا دیتی تھیں۔ چند بچیاں کڑھائی  اور اون کی بنُائی  سیکھنے بھی آ جاتیں تھیں مگر امی ان سے بھی کچھ نہیں لیتی تھیں۔ گاؤں میں آ کر یہ سارے کام بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔

ماں نے کچے گھر کی دیواروں اور فرش کو گوبر اور بھوسہ ملی مٹی سے لیپ کر تاج محل کی طرح صاف ستھرا رکھا ہوا تھا۔ گھر میں راشن سے ملے آٹے، گھی اور چینی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔ لہذا ہمیں صبح و شام یہی روٹی اور آٹے کا حلوہ ہی کھانے کو ملتا۔ ہماری والدہ بچی کچھی سوکھی روٹیاں بھی بچا کر رکھ لیتی تھیں۔ ہر چوتھے چھٹے دن انھیں بھگو کر ان کا لذیز حلوہ بنایا جاتا۔

ہم ننھے سے تھے، یہی ایک چیز کھا کھا کر اوُب جاتے تو نخرے کرنے لگتے۔ والدہ دلار سے پچکار کر جھولی میں بٹھا لیتیں، اپنی اوڑھنی سے ہمارا منہ ڈھانپ دیتیں، پھر اسی حلوے کی مچھلی بنا کر کہتیں ” آ ہا! میرا گڈا بیٹا مچھلی کھائے گا، ہم اپنی آنکھیں بند کیے نہایت ذوق و شوق سے اپنا منہ کھول دیتے اور ہنسی خوشی مچھلی کی شکل بنا ہوا نوالہ کھا لیتے۔ یہی حلوہ کبھی قسم قسم کے پھلوں میں تبدیل ہو جاتا، کبھی مرغ مسلم تو کبھی طرح بہ طرح کے نوابی شاہی کباب۔

Advertisements
julia rana solicitors london

شنیدن ہے کہ جنت میں کئی  کھانے دیکھنے میں ہمشکل ہوں گے مگر ان کے جدا جدا ذائقے جنتی انسانوں کو حیران و پریشان کر دیں گے۔
آج دنیا جہان کی نعمتیں میسر ہونے کے باوجود ہم سوکھی روٹی سے بنائے اس بے نظیر حلوے کو ترستے ہیں جس کا ذائقہ جنت کے کھانوں کی طرح ہر نوالے میں تبدیل ہو ہو جاتا تھا۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply