چلتے ہو توپھوکٹ کو چلیے/ناصر خان ناصر

تھائی  لینڈ میں ایک آنکھ موند کر بھینچو، دوسری کھولو تو سامنے نت نیا بدھا ملتا ہے۔ سونے کا، چاندی کا اور پلاٹینم جوبلی والا بھی۔ پیتل تانبے کا تو اینٹ اٹھاو تو نیچے سے مل جاتا ہے۔ پتھر کے معمولی بدھے تو زمین میں دبے، بڑ کی جڑ میں جگہ جگہ بنا تگ و دو کیے مفت یا ٹکے کے دو مل جاتے ہیں۔ حد یہ کہ ایمرلڈ، روبی، سیفائر، جیڈ وغیرہ وغیرہ کا بنا، ہیرے موتیوں جڑا بدھا بھی ہر گلی کی نکڑ پر ککڑ کی طرح ڈھونڈ لو۔
الغرض ہر رنگ، ہر ڈھنگ، ہر جسامت اور ہر حجامت کا بدھا، بڈھا، بڈھی اور جوان، ہاتھی اور ساتھی یہاں ملتا ہے اور تھوک کے بھاو ملتا ہے۔

اب یہ ہو رہا ہے کہ ہم تو بدھے کو چھوڑتے ہیں جناب مگر اب بدھا ہی بڈھے کو نہیں چھوڑتا۔ آج پھوکٹ میں آئے ہیں۔ یہاں بھی بڑے سے بڑے بدھے ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو چکتے۔
کل فی فی آئی  لینڈ جائیں گے۔ سوچا اتنے ثواب کما لیے اب کچھ چھوٹا موٹا گناہ کرنے میں کوئ حرج مرج نہیں۔ بدھے صیب کو روز اتنے درود سلام بھیجے ہیں کہ ہمیں اعزازی بدھسٹ ہونے کی سند اور خلعت فاخرہ ،مالا ہائے مروارید و جڑاو موتی بمع ہاتھی گھوڑے پالکی و اراضی باغ باغچے پھلواری بخش دینے اور ہم کو اشرفیوں میں تول دینے کی درخواست بادشاہ وقت راما ششم صاحب کو پیش کرنے پر غورو خوض ہو رہا ہے۔
وہ سرکار حوض عشرت میں یوں غرق رہتے ہیں کہ عفت، مسرت، راحت پنکھے اور مور چھل جھل جھل کر رشک کریں سوری رقص کریں۔
اب تو ہم بڑے سے بڑا گناہ بھی کر لیں تو اپنا بدھا یار ضرور چھڑوانے کی سفارش کر ہی دے گا۔
پھوکٹ آن پہنچے ہیں جناب مگر پھوکٹ میں نہیں۔ کل فی فی آئی  لینڈ میں آنکھیں ہی نہیں پورا جسم سیکیں گے۔
وضاحت۔۔۔
اپنا ہی جسم بیچ پر دھوپ میں سیکیں گے۔ کوئ مغالطے میں بیگم صاحبہ کو شکایت کرنے نہ پہنچ جائے۔۔۔
ہاں
پھوکٹ میں بے شمار مساجد بھی ہیں، حلال فوڈ، دیسی، عرب۔۔۔
یو نیم اٹ۔
حلال حلالہ، متعہ شتہ اور دیگر مت مارے کام بھی موذی موزوں داموں سرعام انجام دیتے ہیں۔
یہاں کی نیوڈ بیچیز بھی مشہور ہیں۔ بقول غالب۔۔۔
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

پھوکٹ میں آخری دن
تھائی  لینڈ کے صوبہ پھوکٹ کے نواح میں ہاتھی ٹائیگرز، بندر، اژدھوں اور سانپوں کے کرتب پر مبنی شوز ہوتے ہیں۔ ان جگہوں پر آپ نہ صرف ان جانوروں درندوں کو چھو سکتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ یادگار تصویریں بھی بنوا سکتے ہیں۔
ان کے علاوہ موتیوں کے فارم بھی موجود ہیں جہاں آپ اپنے سامنے سیب سے نکلے ہوئے سچے موتی خرید سکتے ہیں۔
شہر میں ناریل کے باغات میں آپ ناریل کے رس سے تازہ گڑ بھی بنتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

ناریل کے وہ شگوفے جن پر بور آنے کے بعد چھوٹے چھوٹے بنٹوں جتنے ناریل لگ جاتے ہیں، انھیں ایک خاص سٹیج پر تراش کر ان کے ساتھ رس جمع کرنے کے برتن لگا دیتے ہیں۔ قطرہ قطرہ ٹپکتے اس رس کو دن میں دو بار جمع کر لیا جاتا ہے اور بڑی بڑی  بھٹیوں    پر چڑھائے کڑہاؤ  میں ابال ابال کر پکایا جاتا ہے۔ اس طرح اس سے مزےدار گڑ بن جاتا ہے جو رنگت اور ذائقے میں بالکل گنے سے بنے گڑ جیسا ہی ہوتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس صوبے پھوکٹ میں بھی بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ ایک پہاڑی پر ایستادہ ہے، انتہائی  خوبصورت ٹیملپر بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ ایک قصبے کا نام پتنگ ہے۔ یہاں بڑے بڑے محل جیسے انتہائی  خوبصورت ہوٹلز موجود ہیں۔ اس شہر کی ایک سڑک بنگلہ روڈ اپنے مساج پالرز، قبحہ خانوں اور شراب کی باروں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
یہاں انڈین پاکستانی اور ٹرکش حلال کھانوں کے بھی بےشمار ریسٹورنٹ ہیں۔ کافی مساجد اور مندر بھی اس شہر میں موجود ہیں۔
سستے رسیلے اور مزے دار تازہ پھلوں کے چھوٹے چھوٹے سٹیند ہر سڑک پر ہیں۔ شہر رنگ دار مہکتے پھولوں اور پھلوں سمیت قدرتی حسن کے نظاروں سے ایسی من موہنی عجب چھب دکھلاتا ہے کہ من یہیں بس جانے کا سوچنے لگے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply