مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

دوٹوک ۔ قاسم سید

معمولی عقل رکھنے والا بھی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات 2019 کے لوک سبھا الیکشن کی زمین تیار کریں گے اور اس کے خدوخال کو نمایاں کریں گے، یہی وجہ←  مزید پڑھیے

پانی نشیب کی طرف بہتا ہے۔

پنجاب حکومت نے بچوں کے اغوا اور گمشدگی کے متعلق “غیر ذمہ دارانہ” ٹویٹ کرنے پر اداکار حمزہ علی عباسی کو نوٹس بھجوا دیا ہے جبکہ ایسے ہی ٹویٹس آصفہ بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی ایم پی اے←  مزید پڑھیے

انقلاب اور مکالمہ ۔ بلال حسن

جس طرف نظر دوڑائیں، عوام کو اس کرپٹ نظام اورظالم حکمرانوں سے نجات دلانے کے لیے تحریکیں چل رھی ھیں۔ یہ تحریکیں عوام کوسوشل ،پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ سلسلہ ویسے تو دو←  مزید پڑھیے

طنز و مزاح میری نظر میں ۔ حکیم فاروق سومرو

طنز تنقید ہے۔ صدائے احتجاج ہے۔ دشنامِ یار ہے۔ تبصرہ ہے۔ تازیانہ ہے۔ اس کا مقصد اصلاح ہے۔دوسرے کی پگڑی اچھالنا ہے۔ اپنے احساسِ برتری کا مظاہرہ کرنا ہے۔بے ہودہ اشیا اور اشخاص کا مضحکہ اڑانا ہے۔ مزاح میں مبالغہ←  مزید پڑھیے