• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • گورنر اسٹریٹ بینک کی سماجی و معاشی خدمات۔۔گل نوخیز اختر

گورنر اسٹریٹ بینک کی سماجی و معاشی خدمات۔۔گل نوخیز اختر

ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں گورنر اسٹریٹ بینک جناب تابانی صاحب کی خدمات سے استفادہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ آپ ہمارے محلے کے اسڑیٹ بینک کے گورنر ہیں۔ اس بینک کا آغاز بولی والی کمیٹی سے ہوا تھا ۔ تابانی صاحب کو بیس ہزار روپے کی اشد ضرورت تھی لہٰذا انہوں نے یکم تاریخ کو کمیٹی ڈالی اور قواعدکے مطابق پہلی کمیٹی خود رکھ لی۔بعد کی کمیٹیوں کے بارے میں تاریخ خوفناک حد تک خاموش ہے۔
تابانی صاحب ایک بزنس مین ہیں۔ان کے بزنس کی سب سے بڑی نشانی ان کی سائیکل پر لگا ہوا بینر ہے جس پر واشگاف الفاظ میں لکھا ہوا ہے’چوہے باہر مریں گے‘۔کمیٹی کے ’کامیاب‘ بزنس کے بعد تابانی صاحب کو خیال آیا کہ کیوں نہ محلے میںورلڈ بینک کی نوعیت کا ایک ایسا مالیاتی ادارہ بنایا جائے جو مستحق افراد کی بروقت اور موثر طور مدد کر سکے لہٰذا ایک ’اسٹریٹ بینک‘ قائم کیا جائے تاکہ جب کبھی کسی کو پیسوں کی ضرورت ہو وہ یہاں سے بلاسود قرضہ لےلے۔یہ خیال بھی انہیں اسلئے آیا کیونکہ اُنہیں پیسوں کی سخت ضرورت تھی۔ انہوں نے محلے کے لوگوں سے مشورہ کیا۔ سارا محلہ چونکہ تابانی صاحب کی شرافت، دیانت اور امانت سے واقف تھا لہٰذا سب نے انکار کر دیا۔انہوں نے حوصلہ نہیں چھوڑا اور خود ہی ’اسٹریٹ بینک‘ کا افتتاح کردیا نیز اپنی بے تحاشا فرمائش پربادل نخواستہ گورنر کی ذمہ داریاں نبھانے پر بھی آمادگی ظاہر کردی۔بطور گورنر اسٹریٹ بینک تابانی صاحب مجبور اور بے کس لوگوں کےلئے رقم اکٹھی کرتے ہیں۔ گلی گلی دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اورحسب توفیق کھلے پیسے بھی قبول فرماتے ہیں۔ محلے میں چونکہ سارے ہی صاحب ثروت لوگ رہتے ہیں اسلئے یہاں کوئی بھی معاشی طور پر مجبور اور لاچار نہیں۔ اس کے باوجود تابانی صاحب باقاعدگی سے ہر ہفتے سائیکل پر اعلان کرتے ہیں کہ آج انہوں نے ایک ایسے شخص کی مدد کی جس نے ایک مہینے سے پیزا نہیں کھایا تھا، آج ایک ایسے مجبور کو موبائل بیلنس کروا کے دیا جس کی بیوی روٹھ کر میکے جا بیٹھی ہے اور اُسے منانے کے لئے اُس کے پاس موبائل بیلنس نہیں تھا۔ مجھے ہمیشہ تجسس رہا کہ یہ مجبور بندے کون ہوتے ہیں اور تابانی صاحب کو کہاں سے مل جاتے ہیں۔ ایک دن جواب مل گیا جب وہ ایک مجبور بندے کے نمبر پر دو سو روپے کا بیلنس کروا رہے تھے۔جونہی دکاندار نے بیلنس ٹرانسفر کیا، تابانی صاحب کے موبائل پر میسج کی بیل بج اٹھی۔تابانی صاحب ’’اسٹریٹ بینک‘‘ کے تصور کو دیگر علاقوں تک بھی وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں تین چار محلوں میں اگراس بینک کی برانچز کھل جائیں توکم ازکم ایک مجبور کے وارے نیارے ہوسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے قریبی محلے کے ایک پان فروش سے رابطہ کرکے اس کے کھوکھے پر اسٹریٹ بینک برانچ کا بینر بھی لگوا دیا تھاجس پر لکھا تھا ’اگر آپ مجبور لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو پان فروش کو عطیات جمع کرواسکتے ہیں‘۔ تاہم یہ برانچ دو ہفتوں بعد ہی تابانی صاحب کو بند کرنا پڑ گئی۔پتا چلا کہ ساڑھے تین سو روپے کے خطیر عطیات تو اکٹھے ہوگئے تھے لیکن پان فروش ، ضمیر فروش نکل آیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

تابانی صاحب کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ ملکی معیشت ٹھیک کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے پاس کچھ قابل عمل منصوبے ہیں۔ مثلاً آئی ایم ایف کے قرضے اتارنے کے حوالے سے ان کا ایک لائن کا جملہ ہے کہ آئی ایم ایف کو ’’آئی ایم سوری‘‘ کہہ دیا جائے۔شنید ہے کہ یہ جملہ انہوں نے کہیں سے چوری کر کے مناسب قطع برید کے بعد اپنا کہہ کر پیش کیا ہے۔دوسرا پلان یہ ہے کہ ملک کے غریب لوگوں کو ’ریلیف پیکج‘ دیا جائے۔ ان کے خیال میں چونکہ درمیان میں امیر اور مڈل کلاس طبقہ بھی موجود ہےلہٰذا اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اور پہلے پیٹرول کی قیمت ایک ہزارروپے لٹر کردی جائے ، یوں جب امیر اور مڈل کلاس طبقہ بھی غریب ہوجائے تو سب کو برابر کا ریلیف دے دیا جائے۔ڈالر کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ان کا پلان ہے کہ یہاں کی کرنسی کا نام روپے کی بجائے ڈالر رکھ دیا جائے یوں جب دنیا کو پتا چلے گا کہ پاکستان کی کرنسی 170 ہوگئی ہے تو نہ صرف ایک دم ملکی معیشت بہتر ہوجائے گی بلکہ اسی ’ڈالر کرنسی‘ کے ذریعے آئی ایم ایف کو بھی دو دن میں فارغ کیا جاسکتاہے۔مہنگائی کنٹرول کرنے کا بھی ان کے پاس بہترین حل موجود ہے، فرماتے ہیں انڈہ تیل میں فرائی کرنےکے بجائےصرف ابلا ہوا انڈا استعمال کیا جائے۔ کھانا پکانے کےلئے تیل استعمال کرنے کی بجائے کھانا باہر سے منگوایا جائے یوں نہ تیل خریدنا پڑے گا نہ مہنگائی کا سامنا ہوگا۔چینی کے بارے میں تو وہ واشگاف انداز میں کہتے ہیں کہ اس پر مستقل پابندی لگا دینی چاہئے تاکہ شوگر کا مرض نہ پھیلے، نیز میٹھی ڈشز مثلاً کھیر، حلوہ،زردہ چاول وغیرہ میں میٹھے کے طور پر برفی ڈال لی جائے تاکہ چینی کی ضرورت ہی نہ پڑے۔میں نے پوچھ لیا کہ حضور آپ کے منصوبوں پر عمل کون کرے گا؟ تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے’’تم عمل کی بات کرتے ہو، میرا تو سارا پلان چوری ہوکر نافذ العمل بھی ہوچکا ہے‘‘۔ میں نے تابانی صاحب کو بیک وقت داد اور امداد پیش کی جو انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول فرمائی اور وعدہ کرکے گئے کہ یہ پیسے سو فیصد کسی مجبور کے ہی کام آئیں گے۔

julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گورنر اسٹریٹ بینک کی سماجی و معاشی خدمات۔۔گل نوخیز اختر

Leave a Reply